Home / Home / علم / ایک خط۔۔۔۔۔۔

ایک خط۔۔۔۔۔۔

اپنے دادا کی وفات کے بعدالماری میں پڑے ان کے پرانے کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران میری نظر ایک بوسیدہ کاغذ پر پڑی جسے ایک فائل میں رکھا گیا تھا ۔ یہ کاغذ درحقیقت ایک خط تھا جو شاید ایک صدی پرانا ہے جس پر کالی روشنائی سے خطاطی کی صورت الفاظ جڑئے نظر آتے ہیں ۔ یہ خط میرے دادا کے لیے ان کے والد نے لکھا تھا اور میرے دادا نے کسی خزانے کی صورت اسے نہایت احتیاط سنبھال کے رکھا تھا۔ جس کا متن کچھ یوں ہے
“تحقیق! نصیحت نفع ہے ۔ایمان والوں کے واسطے ۔ تم بے شک نمازپڑھنے میں سستی کرتے اور وقت بھی عین نہیں ہوتا ۔ عزیز !یہ غلطی ہے ۔ جس طرح نوکری میں بھرتی اور ہوشیاری کرتے ہو ، دوڑ دیکھاتے ہو اس سے بھی چند درجہ زیادہ اپنے خداوند کریم ، اپنے معبودِ حقیقی اور بادشاہِ غالب کے حکم کی فرماں برداری کیا کرو ۔اپنے بادشاہِ حقیقی کی رضامندی ، طاعت کا خیال رکھا کرو جیسے ڈیوٹی پر جانے میں دیری ہو جاتی ہے تو سپاہی دوڑتا ہے ، بھاگ کر جاتا ہے ، اسی طرح خداوند کریم کی ڈیوٹی بھی دوڑ کر پوری کرنی چاہیے عین وقت پر ۔ میں عربی اچھی طرح نہیں لکھ سکتا ۔ ماعون میں خداوند کریم فرماتا افسوس ان نمازیوں پر جو اپنی نماز میں سستی سے ادا کرتے ہیں ۔ ایک اور آیات ہے ، جو انسان خداوند کریم کی ذات سے ذرا دور ہو جاتا ہے تو تھوڑا خدا کی ذات دور ہو جاتی ہے ۔ جو بہت دور ہو کر فرماں برداری سے غافل ہو جاتا ہے تو خداوند کریم اس شخص کو کوسوں کے فاصلے پر چھوڑ دیتا ہے ۔اس سے اسی وقت رزق یا تنگ دستی یا کوئی اور شئے نہیں چھین لیتا ، صرف اپنی رحمت سے دور کر دیتا ہے ۔ شیطان کی تابعداری کرنے سے اس کو زیادہ عیش و عشرت مہیا کر دیتاہے ۔ جس سے وہ انسان گمراہ ہو کر یہ بولتا ہے کہ نمازیوں نے گھٹنے توڑ کر کیا وصول کیا ، بھوکے مرتے ہیں اور کئی نعمتوں سے ، خداوند سے دور ہیں ، ہر گز نہیں ۔”
سیا ہ روشنائی اور قلم سے لکھا گیا یہ خط جس کا صفحہ بھی نہایت بوسیدہ ہو چکاہے جو کہ ہاتھ لگانے سے بھی بھرنے لگتا تھا ، سیاہی کہیں کہیں سے مٹ چکی ہے اورالفاظ بہت مشکل سے پڑھے جاتے ہیں ۔ یہ خط کم و بیش ایک صدی پرانا ہے ۔ اور اس وقت مسلمانوں کے حالات آج کی نسبت بہت بہتر تھے ۔ لیکن لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس تھا ۔
جب یہ خط میری نظر سے گزرا تومیرے اندر جیسے خطرے کی گھنٹی بجا گیا اور نہ جانے میرے ذہین میں کون کون سے خیالات آنے لگے میں نے سوچاکہ کیا آج ہم بھی خدا سے دور نہیں ؟؟؟کیا خداوند نے ہم سے بھی اپنی رحمت کو دور نہیں کردیا ۔ہمارے معاشرے میں پھیلتی ہوئی بے راہ روی اور جابجا مصائب اس بات کا منہ بولتا ثبوتہیں کہ آج ہمارا رب ہم سے بہتناراضہے اور اس نے اپنی رحمت کو ہمارے معاشرے سے دور کر دیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں لوگوں کے عمومی خیالات بھی کچھ اسی طرح کے ہوتے جا رہے ہیں ۔ ہمارے یہاں بھی نماز پڑھنے والوں کو اسی طرح مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بے نماز مسلمان نماز پڑھنے والوں کو اسی طرح کے طعنے دیتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔ لوگ مذہب پر چلنے والوں کا مذاق اڑاتے اور عموما انھیں تنگ کرتے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی پیروی کرنے والوں کو دقیانوسی ، قدیم اور ٹیکنالوجی سے بے بہرہ قرار دیا جاتا ہے ۔ سورت لقمان میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کرتا تھا ۔ اے میرے بیٹے ! اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا یقیناًیہ بڑا بھاری جرم سے ۔آیت نمبر13
اے میرے بیٹے ! نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روک اور جو تکیف تجھے پہنچے اس پر صبر جر کہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے اور لوگون سے بے رخی نہ کر اور نہ زمین پر اکڑتا ہوا چل ۔ اﷲکسی خود پسند ، شیخی خور کو پسند نہیں کرتا ۔آیت نمبر 17,18
ان آیات سے ثابت ہوا کہ نصیحت ہر زمانے اور ہر وقت کی ضرورت ہے اور باپ کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اپنی ولاد کو سیدھے راستے پر چلانے کے لیے ہر قدم پر راہنمائی کرے ۔ کیونکہ باپ ہی وہ ہستی ہے جو کہ اولاد کے عمومی رویے کا ذمہ دارہے اور وہی اولاد کو معاشرے کابہترین شہری بننے میں معاؤن ثابت ہو سکتا ہے ۔
ہمارے معاشرے کے اس زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ماڈرن نظر آنے اور خود کو دقیانوسی کہلوانے سے بچنے کے لیے لوگ دین کی پیروی کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہیں ۔یہاں تک کہ تعلیم کو بھی ماڈرن ازم کا شکار کر دیا گیا ہے ۔ پڑھے لکھے نظر آنے کے لیے مغربی تہذیب کو اپنایا جا نے لگا ہے اس سوچ کی وجہ سے عملا مسلمان مسلمان نہیں رہے اور معاشرہ دن بدن اخلاقی تنزلی کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔
ہمارے یہاں باپ نے خود کو صرف اور صرف پیسہ کمانے اور اولاد کو نئی سے نئی ٹیکنالوجی اور سہولت دینے تک محدود کر لیا ہے ۔ باپ اولاد کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کے لیے دولت کمانے میں جائز اور ناجائز میں تفریق نہیں کرتے اور نہ ہی اولاد کی تربیت کی ان کو کسی قسم کی کوئی فکر رہتی ہے ۔اپنی ذمہ دوری سے بے بہرہ آج کا باپ اولاد کی تربییت کو ماں پر چھوڑکر خود بری الذمہ ہو جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ تربیت کو صرف اور صرف ماں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ سونے پر سوہاگہ تو یہ کہ باپ تو باپ آج کل کی ماڈرن ماں کے پا س بھی اپنے بچوں کے لیے کوئی وقت نہیں۔کیا آج کل کوئی باپ اپنی اولاد کو اس طرح کا سبق دیتا ہے ؟ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل اسلام مسلمانوں میں سے ناپید ہوتا جارہا ہے ۔ آج کل کے باپ اپنی اولاد کودنیا داری اور پیسہ کمانے کا ذرائع تو ضرور سکھاتے ہیں لیکن دین کی پیروی کرنے والے کو پینڈو اور نہ جانے کیا کیا خطاب دیتے ہیں ۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ باپ بچوں کے سامنے غلط عادات جیسے جھوٹ بولنا ، سگرٹ پیناوغیرہ سے نہیں چوکتے ۔ بچے والدین کو جو کچھ کرتا دیکھتے ہیں ان کے ننھے ذہنوں میں وہی کچھ ثبت ہو جاتا اور بڑے ہو کر یہی عادتیں پختہ ہوتے ہوتے فطرتِ ثانیہ بن جاتے ہیں ۔ پھر انھیں برا بھلا کہا جاتا ہے اور سرزنش کی جاتی ہے ۔
کہاجاتا ہے آپ کی اولاد وہی سیکھتی ہے جو آپ کہتے یا کرتے ہیں ۔
معاشرے میں ایک عام سوچ یہ ہے کہ اولاد کی تربیت ماں کرتی ہے مانا کہ اولاد کی تربیت میں ماں کا کردار باپ کی نسبت زیادہ ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باپ اس ذمہ داری سے مبرا ہے ۔ اولاد کی تربیت میں ماں کے ساتھ ساتھ باپ کا بھی حصہ ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تواولاد کی تربیت میں ماں اور باپ دونوں کا برابر حصہ ہے ۔ باپ بھی اولاد کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ماں ۔ باپ کا شفقت بھرا ہاتھ ،اس کی راہنمائی کی اولاد کو ہر لمحے میں ضرورت رہتی ہے ۔ اگر اولاد سے کہیں کوئی کوتاہی ہو جائے تو سرزنش کے ساتھ ساتھ باپ کی راہنمائی انہیں بڑے بڑے مصائب سے بچائے رکھتی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہو ۔ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کرے ۔

About admin786

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
WpCoderX