آخری قسط

ارسہ سے کیا بات کروں ؟ میں اس کے بارے میں اچھے سے جانتی ہوں ۔۔عاٸشہ نے کہا ۔
باجی ۔۔آپ اچھے سے ضرور جانتی ہوں گی لیکن شاید ارسہ وہ نہ چاہتی ہو جو آپ سوچ رہی ہیں ۔ حمزہ نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا ۔
تم اس بات کو چھوڑ دو کہ وہ کیا سوچتی ہے کیا نہیں ۔ اہم یہ ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ اب تم دونوں خوشیاں دیکھو۔ یہ حق ہے تم دونوں کا ۔ عاٸشہ کے لہجے سے ان کے لیے محبت ٹپک رہی تھی ۔
باجی ۔کچھ لوگوں کے نصیب میں خوشیاں ہوتی ہی نہیں۔ حمزہ نے سر جھکا کر کہا۔
اورتم ان لوگوں میں سے نہیں ہو ۔۔آٸی سمجھ ۔عاٸشہ نے سختی سے کہا
باجی۔۔۔۔حمزہ نے بہن کی تصحیح کرنا چاہی وہ چاہتا تھا کہ اپنے ساتھ ہونے والے حادثات کا گواہ بہن کو بنا لے لیکن وہ کامیاب نہ ہوپایا ۔
حمزہ۔ دیکھو تم نے مجھے پہلے اعتماد میں نہ لیا ۔ اب تمھارا یہ عجیب و غریب رویہ ۔ میری سمجھ سے باہر ہے ۔ عاٸشہ نے تلملا کر کہا۔
باجی ۔میں کیسے آپ کو سمجھاٶں ۔ حمزہ نے جھلاتے ہوۓ کہا
تم مجھے مت سمجھاٶ کیونکہ میں سمجھنا نہیں چاہتی ۔ عاٸشہ نے غصے سے کہا ۔ حمزہ خاموش ہو رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہدری صدیق کو محسوس ہوتا تھا کہ اگروہ ارسہ کو طلاق دے کر اپنی زندگی سے نکال باہر کرے گا تو اس کی زندگی کی خوشیاں لوٹ آٸیں گی ۔ لیکن حالات نے اس کی توقع کے برعکس رخ بدل لیا تھا۔ اگرچہ اب اس کے ماں باپ اس کی محبت کو اس کی بیوی بنانے کےلیے تیار تھے لیکن ارسہ کا وجود گویا کسی سایے کی طرح اس کے پیچھے لگ گیا تھا ۔
بڑے ظالم ثابت ہوۓ یہ لوگ۔ دوست تھے چوہدری عدیم کے ۔ جملہ تھا یا کوٸی بندوق کی گولی جو چوہدری صدیق کے دل کےپار ہو گٸ۔
کیا ظلم ہوا ۔ چوہدری صدیق اپنی زمین پر کھڑے مزارعوں کی بات سن کر تلملا اٹھا اور ان کے پاس جا پہنچا
کچھ نہیں چوہدری صاحب ۔ کچھ نہیں ۔ مزارعے نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے مبادا کہ وہ غصے میں کچھ غلط نہ کر بیٹھے ۔
دیکھو ۔ اسلام مرد اور عورت دونوں کو اجازت دیتا ہے کہ اگر وہ ایک تعلق میں خوش نہیں ہیں تو اس تعلق کو ختم کر دیں ۔ کسی کا کوٸی حق نہیں پہنچتا کہ اس پر بات کرے ۔ چوہدری صدیق نے خلاف توقع سمجھانے پر اکتفا کیا ۔
صاحب آپ کی بات درست ہے ۔اسلام تو اجازت دیتاہے پر ہمارامعاشرہ عورت کو ذلیل کرنے میں کسرنہں چھوڑتا۔ ایک مزارع بولا ۔
ہاں لیکن عورت کو جینے کا حق ہےخوش رہنے کا ۔ چوہدری صدیق نے کہا اور نپے تلے قدم اٹھاتا منظر سے اوجھل ہو گیا۔
مزارعے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے ۔
چوہدری صدیق اسی غم و غصے میں گھر لوٹا تو گھر میں غیر معمولی خاموشی تھی۔
امی ۔۔۔چوہدری صدیق نے ماں کو آواز دی ۔
چھوٹے صاحب ۔ بی بی جی اور چوہدری صاحب ہسپتال گٸے ہیں ۔نوکرانی نے باادب لہجے میں کہا ۔
ہسپتال ۔۔۔ہسپتال کیوں۔ چوہدری صدیق کو دھچکا لگا ۔ اسے کسی نے مطلع کرنے کی زحمت تک نہ کی تھی ۔
چوہدری صاحب کی طبیعت خراب ہو گٸی تھی ۔نوکرانی یہ کہہ کر خاموش ہو گٸی ۔
اچھا ٹھیک ہے تم جاٶ ۔۔۔چوہدری صدیق نے کہا اور خود مسز رشید کا نمبر ملانے لگا ۔
امی ۔۔ابو کو کیا ہوا ؟ آپ نے مجھے بتانا تک گوارا نہ کیا ۔ چوہدری صدیق نے دکھ سے پوچھا ۔
تمھارے کارناموں نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے ۔ کاش ہمیں پتہ ہوتا کہ تم اتنے سنگدل ہو تو ہم کبھی تم پر مان نہ کرتے ۔ مسز رشید بھری بیٹھیں تھی ۔


امی ۔۔۔چوہدری صدیق کو تو گویا کسی بچھو نے کاٹ لیا ہو ۔ چند لمحے کے لیے ان کےدرمیان خاموشی چھا گٸی ۔
آپ کس ہسپتال میں ہیں میں آ رہا ہوں ۔ چوہدری صدیق نے کہا
آرہے ہیں ہم گھر ۔ بہتر ہیں تمھارے ابا ۔ مسز رشید نے یہ کہہ کر فون بند کردیا ۔ اور خود بے چینی سے اپنے کمرے میں ٹہلنے لگا ۔
کچھ ہی دیر میں چوہدری رشید اور مسز رشید گھر لوٹ آۓ۔
ابو جی ۔۔کیا ہوا تھا ؟ چوہدری صدیق تیز قدم اٹھاتا بیٹھک میں پہنچا ۔
چوہدری رشید نے ایک خفگی بھری نگاہ اس پر ڈالی اور پھر رخ پھیر لٕیا ۔
امی ۔۔۔مجھے بتاٸیں کیا ہوا؟  چوہدری صدیق نے پوچھا ۔
تمھارے ابو کو پنچاٸیت سے الگ کر دیا گیا ۔ جانتے ہو کیوں ۔۔تمھارے ارسہ کو طلاق دینے کی وجہ سے ۔ مسز رشید نے کہا
کیا ۔۔یہ کیا بات ہوٸی ۔ ایسے کیسے پنچاٸیت سے الگ کردیا ۔ چوہدری صدیق نے کہا ۔
جو باپ خود اپنی اولاد کو نہ سمجھا سکے۔ اس کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ چوہدری رشید نے یاسیت سے کہا ۔
ابو ۔۔۔چوہدری صدیق نےکہا ۔
چوہدری صدیق کچھ نہ کہنا ۔ بہت کچھ کہا جا چکا ۔ بہت کچھ ہو گیا۔ اب کچھ نہیں رہ گیا . چوہدری رشید نے کہا ۔
چوہدری صاحب پلیز ۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آپ نے غصہ نہیں کرنا ۔ مسز رشید نے قریب ہو کر ان کے کندھے کو تھپتھپایا ۔
سب ختم ہو گیا ہے ۔اب میں بھی ختم ہو جاٶں تو کیا فرق پڑے گا چوہدری رشید نے اداسی سے کہا
چوہدری صاحب خدا کے لیے۔ آپ ایسی بات نہ کریں۔ مسز رشید نے ان کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا ۔
ابو۔ مجھے اندازہ نہیں تھاکہ یہ سب ہو جاۓ گا ۔ چوہدری صدیق نے شرمندگی سے کہا ۔
لیکن مجھے اندازہ تھا ۔یہی وجہ تھی کہ ہم تمھیں اسے طلاق دینے سے روکتے تھے لیکن نہیں تم نے قسم کھاٸی تھی ہمیں برباد کرنے کی ۔ چوہدری رشید نے قدرے غصے سے کہا ۔
ابو جی۔۔مجھے معاف کر دیں ۔۔چوہدری صدیق نے باپ کے سامنے ہاتھ جوڑے ۔
دل کرتا ہے کہ تجھے عاق کر دوں ۔ اور خودکشی کر لوں۔ دفعہ ہو جاٶ میری نظروں سےدور ہو جاٶ ۔ چوہدری رشید نے غصے سے کہا ۔ ان کی سانس پھولنے لگی ۔
چوہدری صاحب ۔۔۔پلیز ۔۔مسز رشید نےان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہلکا سا تھپتھپایا ۔
اسے کہو ۔ یہاں سے جاۓ ۔ میری تباہی کا خاصا تماشا دیکھ چکا ہے یہ ۔ مزید کچھ رہ نہیں گیا ۔ چوہدری رشید نے غصے سے کہا ۔
ابو۔۔۔۔چوہدری صدیق شرمندگی اور دکھ کے ملےجلے اثرات لیے کچھ کہنا چاہ رہا تھا کہ مسز رشید نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا ۔
صدیق۔ ابھی  تم جاٶ یہاں سے ۔ مسز رشید نےکہا ۔
چوہدری صدیق مرے مرے قدم اٹھاتے کمرے سے باہر نکل گیا ۔
یہ ارسہ ۔۔۔میری زندگی میں آٸی تو میری محبت کو تباہ کر دیا ۔ زندگی سے گٸ ہے تو میرے خاندان کوتباہی کا نشان بنا کر گٸی ہے ۔ چوہدری صدیق نے سوچا ۔
اگر زیادہ پریشانی ہو تو اسے زمین میں دفنا دینا چاہیے ۔ اس کے کانوں میں دوست کے کہے گٸے جملے گونجنے لگے ۔
دفنا دینا چاہیے ۔ بالکل صحیح کہا ۔ میں اسے دفنا دوں گا ۔۔۔بہت ہو گیا ۔ بہت ہوگیا ۔ یکایک فیصلہ ہو گیا

لیکن یہ تو اس بے چاری پر دہرا ظلم ہو گا ۔ چوہدری صدیق کے اندر سے آواز آٸی

دہرا ظلم تو میرا کیا قصور ہے ۔میرا تو باپ تک مجھ سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ اس کے سامنے ایک اور دلیل تھی ۔


بس اب کوٸی گنجاٸش نہیں۔ اس کے اندر کا شیطان پوری طرح بیدار ہو چکا تھا ۔ اس نے اپنے دوست کو کال ملاٸی ۔
مجھے اسے ایسے ختم کروانا ہے کہ کسی کو مجھ پر شک تک نہ ہو ۔ سلام دعاکے بعد اس نے کہا
تم سوچ لو ۔۔۔دوست نے پوچھا
میں نے سوچ سمجھ کے ہی تمھیں کال کی تھی ۔ چوہدری صدیق نے کہا
ٹھیک ہے میں آج ہی اس کے نام کی سپاری دے دیتا ہوں ۔ بس تم اپنا فیصلہ اب نہ بدلنا ۔ دوست نے کہا ۔
نہیں بدلوں گا فیصلہ میں ۔تم تسلی رکھو ۔ چوہدری صدیق نے کہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسہ گھر کی تنہاٸی اور لوگوں کی طرح طرح کی باتیں سن سن کر تنگ آ چکی تھی۔
امی میں سوچ رہی ہوں کہ کیوں نہ میں اس قریبی سکول میں نوکری کر لوں ۔ ارسہ نے کہا
تمھیں کس چیز کی کمی ہے ارسہ ۔ ثمرین نے پریشانی سے پوچھا
امی ۔۔۔سکون کی ۔ میں خود کو مصروف کرنا چاہتی ہوں ۔ ارسہ نے کہا ۔
چلو۔۔میں تمھارے ابو سے بات کرتی ہوں ۔ ثمرین نے کہا
اسی شام چوہدری عدیم سے بات کر لی گٸی ۔ چوہدری عدیم اپنی بیٹی پر گزرنے والے تمام واقعات سے آگاہ تھے ۔ وہ بھی چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی اپنی زندگی اچھے طریقے سے گزارے ۔
انھوں نے بھی ارسہ کے فیصلہ کو سراہا ۔ اور اسے نوکری کی اجازت دے دی ۔
اگلے دن صبح سویرے ارسہ نے حمزہ کا دیا ہوا پہلا تحفہ ہلکے پیلے رنگ کا جوڑا پہنا اور سفید چادر سے اپنے وجود کو ڈھانپا  ۔
حمزہ تم نے مجھے عزت دی اور چوہدری صدیق نے مجھ سے نکاح کر کے میری عزت کو تار تار کر دیا ۔ ارسہ نے دکھ سے سوچا ۔ ایک آنسو اس کی آنکھوں کا بند توڑ کر بہہ نکلا ۔
نہیں نہیں ۔۔مجھے رونا نہیں ہے ۔۔کسی صورت نہیں ۔ ارسہ نے اپنے ہاتھوں سے اس آنسو کو پونچھا ۔
زندگی کا آغاز صفر سے ہو سکتا ہے ۔۔ارسہ نے سوچا
ہلکا سا میک اپ کر کے وہ کمرے سے نکلی تو ایک الگ سا چہرہ دیکھ کر ثمرین نے اس کی بلاٸیں لے ڈالیں۔
شکر ہے خدا کا جو تمھیں پھر سے زندگی میں لے آیا ہے۔ثمرین نٕے کہا ۔
اچھا امی ۔ آج انٹر ویو ہے دعا کیجیے گا ۔ ارسہ نے مسکرا کر کہا ۔
میری دعا تمھارے ساتھ ہے میری بچی ۔ اللہ تمھیں کامیاب کرے ۔ثمرین نے کہا ۔اور اس کا ماتھا چوم لیا ۔
ارسہ ۔۔رکو میں علی کو کہتی ہوں کہ تمھیں چھوڑ آۓ ۔ ثمرین نے کہا
نہیں امی ۔۔آپ کو علی کو سونے دیں ۔ میں چلی جاٶں گی ۔ علی دن بھر کی ذمہ داریاں اٹھانےکے بعد رات دیر تک مردان خانے میں گاٶں والوں کے مساٸل کے حل کے لیے گھر سے باہر رہتا تھا ۔ اس لیے صبح کی نماز کے بعد آرام کرتا ۔
ثمرین جانے دو بچی کو ۔ چوہدری عدیم نے پیار سے ارسہ کی طرف دیکھا ۔ ارسہ مسکر ا کر گھر سے نکل گٸی ۔
اس کی جان کے پیاسوں کو اس کے گھر سے باہر نکلنے کا علم ہوا تو اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگے ۔ یہ پراٸیوٹ سکول تھا جہاں ارسہ نوکری کے لیے انٹرویو دینے آٸی تھی ۔ اسے امیدتھی کہ یہاں اس کو نوکری مل جاۓ گی ۔ حسب توقع اس کا انٹرویو بہت اچھا ہوا ۔ انٹرویو کے بعد وہ واپسی کےلیے پلٹی ۔
ابھی سکول سے نکل کر چند قدم ہی چلی ہو گی کہ ایک گولی قریبی درختوں کے جھنڈ سے ساٸیں کی آواز کے ساتھ نکلی اور اس کی بازو کو زخمی کر گٸ ۔ ارسہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور بے اختیار اس نے اپنے بازو کو دوسرے ہاتھ پکڑا ۔اور بیٹھتی چلی گٸی ۔ ابھی وہ سنھبلنے نہ پاٸی تھی کہ ایک اور گولی اس کے سر میں لگی ۔ اس کا ہاتھ سر کی جانب بڑھا ہی تھا کہ اس اور گولی اس کے جسم میں پیوست ہو گٸی ۔ اس طرح چھ گولیاں یکے بعد دیگرے اس پر برسا دی گٸیں ۔ اس کا خون بہنے لگا ۔
سفید چادر خون کی سرخی سے رنگے جانے لگی ۔ اس کی چیخوں نے قرب و جوار کے لوگوں کو اکٹھا تو کر لیا تھا لیکن وہ موت کو اپنے قریب آنے سے نہ روک سکی ۔ لوگ ادھر ادھر پھیل کر گولی چلانے والے کو تلاش کرنے لگے ۔ کچھ اینبولینس کو کال کرنے لگے ۔
حمزہ ۔۔۔۔۔
اللہ ۔۔
اللہ ۔۔۔
تین الفاظ ادا ہوۓ اور اس کا جسم ایک طرف کو لڑھک گیا ۔
ارسہ کی روح پرواز کر چکی تھی جبکہ حمزہ کی اوڑھاٸی گٸی چادر ارسہ کا کفن بن چکی تھی ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest