28 قسط

دیکھو کیسے بے غیرت لوگ ہیں ۔اس معصوم سی بچی کا نہ صرف بچہ ماردیا بلکہ اسے طلاق بھی دے دی۔ گاٶں کے دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے جب چوہدری رشید کا وہاں سے گزر ہوا ۔
ہاں بھاٸی ۔تم ٹھیک کہتے ۔بچاری چوہدری عدیم کی بیٹی ۔۔۔نظر لگ گٸی بے چاری کو ۔ ایک شخص نےکہا
چوہدری عدیم تو اس دن سے جرگے میں بھی نہیں آۓ۔ بس ان کا بیٹا آتا ہے ۔ دوسرے شخص نے کہا
چوہدریوں کا بڑا یارانہ تھا اور دوست دوست کی بیٹی نہ رکھ سکا ۔ پہلے شخص نے کہا ۔
اللہ ایسی دوستی سے بچاۓ ۔ ایسی دوستی کا کیا فاٸدہ جو اتنی تکلیف دہ ہو ۔ دوسرے شخص نے کہا ۔
اللہ بچا کر رکھے۔ پہلے شخص نے چوہدری رشید کو دیکھا تو دوسرے کو خاموش رہنےکا اشارہ کیا۔
اَلسَّلامُ عَلَيْكُم،۔چوہدری صاحب کیا حال ہیں ۔ پہلے شخص کا لہجہ ایک دم سے تبدیل ہو گیا۔
شکر ہے۔ چوہدری رشید یہ کہہ کر آگے بڑھ گٸے ۔ان کے ضبط کی انتہا تھی ۔ وہ شدت ضبط کے مارے گھر پہنچے تو چوہدری صدیق کو گنگناتا پایا۔
یہ بے غریت یہاں ہماری عزت کا جنازہ نکال کر خوشیاں منا رہا ہے ۔ چوہدری رشید دھاڑے ۔ ان کا یہ لہجہ اس سے پہلے نہیں سناگیا تھا ۔
ابو جی ۔۔کیا ہوا ؟۔۔ چوہدری صدیق نے گبھرا کر پوچھا ۔
کیا ہوا۔۔۔یہ پوچھو۔۔کیا نہیں ہوا ۔۔تم جیسی اولاد پیدا ہوتے ہی مر جاتی تو بہترتھا۔چوہدری رشید نے غصے سے کہا ۔
چوہدری صاحب ۔۔کیا ہوا ہے؟ مسز رشید نےپانی کا گلاس ان کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا ۔
یہ اس سے پوچھو ۔۔اس کے کارنامے ہیں ۔ چوہدری رشید نے کمال ضبط سے پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھا۔
ابو جی ۔میں نے اب کیا کیا  ؟۔۔۔چوہدری صدیق نے حیرانی سے پوچھا ۔
مطلب۔۔مزید کچھ رہ گیا ہے کرنے کو ؟ چوہدری رشید نے طنز کیا ۔
چوہدی صدیق نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو مسز رشید نے ہاتھ کے اشارے سے اس منع کیا۔
چوہدری صدیق ۔۔تم نے ارسہ کو طلاق دے کر ہمارے سروں پر خاک ڈال دی ہے۔ میرا دل چاہتا ہے یا تو تمھیں جان سے مار دوں یا پھر عاق کردوں ۔ چوہدری رشید نے کہا ۔
چوہدری صاحب ۔۔۔کیسی باتیں کرتے ہیں ۔ جو ہونا تھا وہ تو خیر ہو گیا ۔ مسز رشید نے کہا
ہو تو گیا پر بہت غلط ہوا۔ چوہدری رشید نے کہا ۔
غلط یا صحیح ۔۔۔پر ہو گیا ۔ مسز رشید نے کہا۔
بس سے کہو ۔۔میری نظروں سے دور چلا جاۓ ۔ چوہدری رشید نے دکھ بھرے لہجے میں کہا ۔
مسز رشید نے چوہدری صدیق کو آنکھ سے اشارہ کیا۔ وہ اٹھ کربنا کچھ کہے گھر سے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیق تمھیں کیا ہوا۔۔کیوں غصہ میں ہو؟ یہ چوہدری صدیق کا دوست تھا جواسے پکڈنڈی پر ملا
ارسہ ارسہ ارسہ۔۔۔میری جان کا عذاب بن گٸی ہے یہ لڑکی جب سے میرا نام اس کےنام کے ساتھ جڑا ہے میری زندگی اجیرن ہو کے رہ گٸی ہے۔ جب تک اس گھر میں تھی مسلسل اذیت بنی رہی جب طلاق دی تو نیا ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا۔دل کرتا ہے اسے جان سے مار دوں۔۔۔چوہدری صدیق نے جذباتی لہجہ میں کہا ۔
جان سے مار دینےسےمسٸلہ حل ہو جانا ؟ صدیق کے دوست نے حیرانی سے پوچھا
شاید حل ہو ہی جاۓ ۔۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔ صدیق نے نفرت سے کہا
تو پھر مار دو۔۔۔صدیق کا یہ دوست غنڈوں سے تعلقات رکھتا تھا اور گاٶں کے لوگ اس سے خوف کھاتے تھے ۔
مار دوں ۔۔۔صدیق نے بے یقینی سے کہا
ہاں۔۔۔کون سا تم نے خود مارنا ہے ۔ تم نے توپیسہ لگانا ہے ۔ مارنے والا مار ے گا ۔ دوست نے کہا
پیسے کا مسٸلہ نہیں ۔ صدیق نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا
پھر زیادہ مت سوچو ۔۔کر گزرو ۔۔۔دوست نے کہا
ٹھیک ہے ۔۔۔صدیق نے حامی بھری
میں ارسہ کے نام کی سپاری دیتاہوں ۔۔تم اب سکون کرٶ ۔ تمھاری راہ کا پتھر کچھ دنوں تک ہٹ جانا ۔ دوست نے تسلی دیتے ہوۓ کہا ۔
میرےدوست ۔۔۔کسی کو ہماری اس بات کا علم نہ ہو ۔صدیق کےچہرے پر گبھراہٹ واضع تھی۔ کسی سے نفرت کرنا کسی کو اپنی زندگی سے نکال باہر کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا مشکل کسی  جان لےلینا بے حد مشکل ہواکرتاہے ۔
صدیق ۔۔میرے یار تو گبھراتا کیوں ہے ؟ جب میں ہوں تیرے ساتھ تیرے پاس۔ دوست نےاس کے کندھےپر تھپکی دی ۔صدیق سر ہلاکررہ گیا۔
تو لاکھ دو لاکھ کاانتظام کر لے بس ۔۔اور پھر بھول جا  دوست نے کہا۔
لاکھ دو لاکھ کا انتظام کرنا میرے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن ایک انسان کو مار دینا ۔۔چوہدری صدیق نے پریشانی سے کہا
تو ایک انسان کو مار دینا ۔تو یہ سوچ کہ وہ انسان ہے کون جس کی وجہ سے تیری زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ دوست نے کہا ۔
پھر بھی وہ ہے تو ایک انسان نا ۔ ایسے کیسے ؟ چوہدری صدیق نے اپنی زندگی میں کبھی کسی پرندے تک کا شکار نہ کیا تھا۔ اب اس کا دل ارسہ کے قتل پر بالکل ماٸل نہ تھا ۔
میرا کام تھا تمھیں مشورہ دینا سو دے دیا ۔ تمھاری مدد کے لیے میری جان بھی حاضر ہے۔ جب کبھی ضرور پڑے پکار لینا ۔ دوست نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور چل دیا ۔ چوہدری صدیق گہری سوچ میں ڈوب گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ کے دل میں ارسہ کی باتیں کسی زہر کی مانند گھل چکی تھی ۔ اس دن کیفے میں ملاقات کے بعد تو گویا اس کے دل کی وادی میں دکھ ہی دکھ بھر گیا تھا ۔
ارسہ تم نےبڑا ظلم کیا ۔میں نے تم سے محبت کی ہے ۔ اور جس سے محبت کی جاتی ہے اس کو نہ بددعا دی جاتی ہے اور نہ ہی سزا ۔ حمزہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلتے ہوۓ سوچ رہا تھا۔
اسی لمحے عاٸشہ کمرےمیں داخل ہوٸی ۔
حمزہ ۔۔تم اتنے پریشان کیوں ہو؟ عاٸشہ نے اس چہرے پر پھیلے تفکر کو دیکھ کر پوچھا ۔
باجی ۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں ۔ زندگی مجھے ایسے موڑ پر لے آٸی ہے کہ نہ پوچھیں ۔حمزہ کے ذہن میں تمام واقعہ تازہ ہو گیا ۔
حمزہ شاید یہ زندگی کا ایک اچھا موڑ ہی ہو ۔ عاٸشہ نے مسکرا کر کہا ۔
اگر یہ اچھا موڑ ہے تو برا موڑ کیا ہو گا ؟ حمزہ نے اداسی سے کہا ۔
حمزہ میرے بھاٸی ۔۔کیا تم اللہ کی رحمت سے مایوس ہو ؟ عاٸشہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
باجی۔ میں اللہ کی رحمت سے نہیں اپنی قسمت سے مایوس ہوں ۔ حمزہ نےرسانیت سے کہا
قسمت سے کیوں مایوس ہو ۔ ؟ تمھارےپاس کس چیز کی کمی ہے۔ عاٸشہ نے قدرے خفگی سے کہا۔
باجی ۔۔آپ جانتی ہیں کہ میری زندگی میں کس چیز کی کمی ہے ۔ حمزہ نے دکھ سے کہا
میں یہی سوچ رہی تھی کہ اس کمی کو پورا کیسے کیا جاۓ ؟ عاٸشہ نے کہا
کیا مطلب۔ حمزہ نے حیرانی سے عاٸشہ کی طرف دیکھا۔
میں سوچ رہی ہوں کہ میں ثمرین خالہ سےبات کرٶں ۔ ارسہ کے لیے۔ عاٸشہ نے گہری سوچ میں ڈوبتے ہوۓ کہا ۔
باجی ۔۔۔آپ پہلے ارسہ سے بات کر لیں ۔ اس کے بعد کچھ سوچیے گا ۔ حمزہ نے کہا.

۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest