شناخت

رات کاپچھلا پہر تھا چار سو ہو کا عالم تھا یہاں تک کہ گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز بھی واضع سناٸی دے رہی تھی ۔ اسی اثنإ میں گھنٹی بجی ۔
اللہ خیر ۔۔یہ اس وقت کون آ گیا ۔ رشیدہ بی بی ہڑبڑا کر جاگی ۔
محمود ۔۔دروازے پر کوٸی آیا ہے ۔دیکھو۔ اس نے بے سدھ پڑے شوہر کو جھنجھوڑ کے جگایا ۔
کون ہے ۔کیا ہنگامہ مچا رکھا ہے ۔ محمود بکتا جھکتا اٹھاپاٶں میں جوتے اڑسے اور دروازہ کھولا ۔
کور سنگھ تو اس وقت۔۔دروازے کے باہر اس کے بچپن کا دوست کھڑا تھا۔
محمود جلدی کرٶ ۔اندر چلو ۔۔کور سنگھ نے اسے ایک جانب دھکیلا اور اندر کی جانب بڑھا ۔
بھابھی اٹھو ۔۔گھر میں جتنے قرآن پاک سپارے آیات مصلے  یہ دیواروں پر لگی خطاطی کے نمونے سب اتاروں جلدی کرو ان سب کو پیٹی میں ڈالو۔ اور ہاں یہ سندور ہے پہلے اسے مانگ میں لگاٶ۔ کور سنگھ نے سندور کی ڈبیہ رشیدہ کی جانب بڑھاٸی اور خود دیواروں پر لگی آیات اتارنے لگا ۔محمود بھی اس کا ساتھ دینے لگا ۔
کور سنگھ ہوا کیا ہے ؟ یہ تو بتاٶ ۔ محمود نے پریشانی سے پوچھا۔
دلی میں مسلمانوں کے گھروں پر ہندو بلواٸیوں نے حملہ کر دیا ہے۔ ابھی وہ ادھر آتےہی ہوں گے ۔ یہ لو ۔۔۔یہ بگھوان کی مورت بھی رکھو یہاں۔ کور سنگھ کے ہاتھ اور زبان مسلسل چل رہے تھے ۔
بھگوان کی مورت ۔۔کور سنگھ ہمارے باپ دادا یہاں بستے آۓ ہیں ہم سرکار کو ٹیکس دیتے ہیں ۔ ہم کیوں اپنی شناخت چھپاٸیں۔ محمود نے کہا۔
شناخت قاٸم رکھو گے تو مار دٸیے جاٶ گے۔ کور سنگھ نے کہا آگے بڑھ کر محمود کو گلے لگایااور گھر سے نکل گیا۔
بھاگ بھری بچپن کا یار ہے اسے ہماری فکر کھاۓ جارہی ہے۔ کیا زمانہ آ گیا ہے اسی ہندوستان میں سب مل کر رہتے تھے کوٸی زنجش اختلاف نہ تھا۔ہم بھی حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں ہمارے بھی کچھ حقوق ہیں۔ مودی سرکار نے انتہا کر دی ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو مسلسل لاک ڈاٶن میں ڈال رکھاہے ادھر انتہا پسند ہندوٶں نے ہمارا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ اب اپنی شناخت قاٸم رکھیں تو کیسے ؟ محمود نےپریشانی سے کہا۔ محمود یہ ہے ہماری شناخت۔ رشیدہ بی بی نے قرآن مجید ہاتھ میں اٹھا کر کہا ۔ محمود آج تک ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ہم نے اپنے دین مبین کےسنہری اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ ہندوٶں سکھوں اور عیساٸیوں کی خدمت کی ہے۔ ہم ان بے ضمیر کافروں غیر مہذب ہندوٶں سے ڈر جاٸیں کیا ؟ ہماری شناخت ازل سے دین اسلام ہےاور یہی رہے گی۔رشیدہ بی بی نے کہا اور جاۓ نماز بچھانے لگی۔ وہ دونوں سورت الرحمان اور سورت یسن کی تلاوت کرنے لگے۔
اےخداۓ ذول الجلال ! تیری ربوبیت کی قسم ہم اپنی شناخت پر قاٸم رہیں گے۔ اے ہمارے رب ! ہماری مدد فرما۔ رشیدہ اور محمود خداۓ ذوالجلال کے سامنے دست طلب بلند کرتے ہوۓ اسے پکارنے لگے۔ جلا دو گرا دوان مسلمانوں کو چن چن کر قتل کر دو ۔ ادھر بڑھو کسی مسلمان کا گھر سلامت نہ رہے۔ آگے بڑھو اگر کوٸی دروازہ نہ کھولے تو توڑ دو۔۔ اسی اثنإ میں ایک ہندٶ کےچلانے کی آواز سناٸی دی
مٹا دو ان مسلمانوں کی شناخت پردیپ کمار ۔ رک کیوں گٸے جلدی کرو۔ ایک ہندو چلایا۔ راجیش۔۔کیوں رک گٸے؟ دوسرے ہندٶ نے پوچھا اس کی آواز سے پریشانی جھلک رہی تھی ۔مجھے کچھ نظر نہیں آرہا ۔ میں اندھا ہو گیا ہوں۔ ہندو جس کا نام پردیپ کمار تھا اندھیرے میں ہاتھ پاٶں مارتے ہوۓ کہنے لگا۔ مجھے بھی کچھ نظر نہیں آرہا ۔ یہ ہو کیا رہا ہے۔بھاگو یہاں سےہم کسی کی شناخت کیا مٹاٸیں گے۔ ہماری تو اپنی شناخت رہی نہ اوقات۔ ہندٶ بلواٸی چلا چلا کر باتیں کرتے ہوۓ گلی سے باہر نکل گٸے۔ اتنے میں فجر کی اذان کی آواز بلند ہوٸی ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر ۔۔۔لو اب چند ہی لمحوں میں مسلمان نیند سے بیدار ہو کر مساجد کی طرف چل نکلیں گے۔ ان کی شناخت تو اللہ کے نام سےہو چکی ہے ۔ جلدی چلو کہیں وہ ہماری شناخت ہی نہ مٹا دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest