امی ۔۔یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ یہ کیسی قربانی ہے کہ ہر وقت ذلت ہی مقدر ہو جاۓ ۔ علی نے کہا ۔ اس کے لہجے سے تلخی اور دکھ جھلک رہا تھا۔۔۔
علی تم ابھی بچے ہو۔ بہت سارے معاملات میں سالوں بیت جاتے ہیں تب جا کے صلہ ملتا ہے ۔ ثمرین نے سمجھاتے ہوۓ کہا ۔
امی ! یہ کیا فلسفہ ہے ۔ میری برداشت سے باہر ہے کہ میری اکلوتی بہن ہر وقت ذلیل ہو ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی آپ ماں ہو کر ایسے کیونکر سوچ سکتی ہیں۔؟ علی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا ۔
بیٹے! عورتوں کو یہ سب بھگتنا پڑتا ہی ہے ۔ عورت نام ہی قربانی کا ہے۔ ثمرین نے علی سے نظریں چراتے ہوۓ کہا۔




امی !کیا یہ ہم اپنی بیٹی پر ظلم نہیں کر رہے ؟ علی نے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوۓ کہا ۔
علی ! تم اس معاملے میں چپ رہو ۔جب تک میں اور تمھارے ابوزندہ ہیں تمھیں کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ۔ ثمرین سے جب کوٸی دلیل نہ بن پڑی تو انھوں نے چلاتے ہوۓ کہا ۔
امی ! علی نے حیرانی سے کہا ۔ سبھی جانتے تھے کہ چوہدری عدیم کے بعد پورا گاٶں علی ے فیصلوں کو دل و جان سے مانتا تھا ۔ علی انصاف پسند اور سمجھدار تھا۔ لیکن اپنے ہی گھرمیں ماں کا ایسے کہنا علی کو کھٹک رہا تھا۔
امی! آپ کو ارسہ سے بات کرنا چاہیے ۔ علی نے کہا ۔
ارسہ کو اس رشتے کو قاٸم رکھنا ہے اور یہ ہمارا فیصلہ ہے ۔اس بات کو تم اچھی طرح سے سمجھ لو۔ ثمرین نے مضبوط لہجے میں کہا ۔
امی! آپ یہ غلط کر رہی ہیں ۔ کم از کم اس بار تو جب تک صدیق ارسہ کو لینے نہ آۓ آپ اسے نہیں بھیجیں گی ۔ کم از کم اتنا تو کریں۔ علی نے کہا ۔
ہاں ! یہ میں کر سکتی ہوں ۔ ثمرین نے کہا ۔ علی نے سراثبات میں ہلایا
………………………………………۔۔۔
چوہدری صدیق تم نے پھر اپنی بیوی کو گھر لانےکےبارےمیں کیا سوچا ہے؟ مسز رشید نے بیٹے کو اچھے موڈ میں دیکھا تو لہجے میں پیار سمو کر بولیں۔۔۔چوہدری صدیق ابھی ابھی کہیں باہر سے آیا تھا اور لاٶنچ میں بیٹھا گنگنا رہا تھا ۔ مسز رشید نے اسے گنگناتے دیکھا تو اس کے پاس آ بیٹھیں ۔
امی! میں نے سوچا ہے کہ اب وہ اپنے ماں باپ کے گھرہی رہے تو بہتر ہے ۔ اگر میرے نام کے ساتھ رہے تو رہے نہ رہے توطلاق ۔۔چوہدری صدیق نے منہ بناتے ہوۓ کہا ۔
صدیق بیٹا ! وہ اس گھر میں ویسے بھی ایک لاش کی طرح ہی پڑی ہے ۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر تم اسے لے آٶ ۔ مسز رشید نے دکھ بھرے لہجے میں کہا ۔
امی ! مسٸلہ یہی ہے کہ مجھے اس لاش کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی خواہش ۔ اگر آپ لانا چاہیں تو لے آٸیں ۔ چوہدری صدیق نے تلملاتے ہوۓ کہا۔
ہاں! آج میں اس کی ماں کو کال کرتی ہوں ۔۔مسز رشید نے سوچتے ہوۓ کہا ۔
ویسے امی آپ نے قسم کھاٸی ہےکہ آپ مجھے خوش رہنے دیں ہی نہیں گی ۔ چوہدری صدیق نے چبھتے ہوۓ لہجے میں کہا ۔




بیٹا !میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرٶ ۔ معاملات سلجھانے پڑتےہیں ۔میں تمھیں دوسری شادی سے روک نہیں رہی ۔ مسز رشید نے کہا ۔ لیکن میں اس عورت کو اپنے کمرے میں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا ۔ چوہدری صدیق نے کہا۔
بیٹے! تھوڑا سا ظرف وسیع کرٶ ۔ یہ اتنا مشکل نہیں ہے ۔ مسز رشید نے پچکارا ۔
امی! مجھے لگتا ہے کہ اس عورت نے میری خوشیوں پر ڈاکہ ڈالا ہے ۔ وہ قاتل ہے میری خوشیوں کی ۔چوہدری صدیق نے کہا ۔
صدیق ۔تمھاری خوشیوں کے قاتل تو ہم ہیں تمھارے ماں باپ۔ اس بے چاری کو تو علم بھی نہیں تھا تمھارے بارےمیں ۔ مسز رشید نےدکھ سے کہا ۔
جو بھی ہے امی ۔ اسکا وجود میری خوشیوں کی راہ میں  حاٸل ہو گیا تھا ۔چوہدری مسز رشید کی بات سے کسی حد تک متفق تھا لیکن وہ انھیں کوٸی لچک نہ دیکھانا چاہتا تھا۔ مبادا کہ ارسہ کے ساتھ اسے اچھا سلوک کرنا پڑے ۔ابھی یہ باتیں جاری ہی تھیں کہ چوہدری رشید کمرے میں داخل ہوۓ ۔
کیا باتیں ہو رہی ہیں ماں بیٹے میں ؟ چوہدری رشید نے چہکتے ہوۓ کہا ۔
وہی ارسہ وجہ موضوع ہے ابو ۔ چوہدری صدیق نے اکتاۓ ہوۓ لہجے میں کہا ۔
صدیق تم آخر کیا چاہتے ہو۔ مجھے آج کھل کر بتاٶ ۔ کیوں اس بچی کی  اور اپنی زندگی برباد کر رہے ہو ؟ چوہدری رشید نے فیصلہ کن لہجے میں پوچھا ۔
ابوجی ! میں چاہتا ہوں کہ ارسہ کو آزاد کر دوں ۔ اس کی زندگی میں کوٸی بہتر شخص آۓ اور میری زندگی میں میری محبت ۔ چوہدری صدیق نے کہا ۔ اس کا لہجہ اس کے فیصلے کی مضبوطی کا غماز تھا۔
صدیق تم اگر گنجاٸش نکال سکتے ہواپنے فیصلے میں تو نکال لو ۔ چوہدری رشید نے کہا ۔ ابو۔۔میں اپنے فیصلے میں کوٸی گنجاٸش نکال سکتا ہوتا تو اس کے لیے ڈیڑھ سال کافی تھا نا ۔اور یہی بات میں امی سے کہہ رہا تھا۔  چوہدری صدیق نے کہا ۔
دیکھو بیٹا ! ہمارے خاندان میں کبھی کسی نے طلاق نہیں دی ۔ لوگ ہم پر تھو تھو کریں گے۔مسز رشید نے پسپا ہوتے ہوۓجذباتی لہجے میں کہا ۔
امی ! لوگوں کی خاطر میں ارسہ کی زندگی جہنم بناۓ رکھوں کیا یہ چاہتی ہیں آپ ؟ چوہدری صدیق نے کہا ۔ نہیں بیٹے ہم ایسا نہیں چاہتے ۔ چوہدری رشید نے جواب دیا ۔
ابو جی میں چاہ کر بھی اس سے اچھا سلوک نہیں کر پاٶں گا ۔ آپ لوگ یہ بات سمجھ لیں ۔ آگے آپ کی جو مرضی ۔ چوہدری صدیق نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔
 کیا کریں اس لڑکے کا سمجھ نہیں آتی ۔۔مسز رشید نے پریشانی سے اپنا سر تھاما۔
میرا خیال ہے مجھے چوہدری عدیم سے کھل کر بات کرنا ہو گی دیکھتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں۔ چوہدری رشید نے کہا ۔
انھیں بے حد برا لگنا ہے ۔ آپ سوچ لیں ۔ میں پھر سے کوشش کرتی ہوں صدیق کو قاٸل کرنے کی ۔ مسز رشید نے کہا۔




میرا نہیں خیال کہ وہ قاٸل ہو سکتا ہے یا ہم اسے قاٸل کر سکتے ہیں ۔ چوہدری رشید نے کہا ۔
کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گٸی ۔
میں طریقے سے بات کرٶں گا ۔ کیونکہ یہ معاملہ اس طرح نبٹنے والا ہے ہی نہیں ۔ چوہدری رشید نے کہا ۔
میں پھر بھی بات کرتی صدیق سے ۔۔مسز رشید کسی صورت یہ نہیں چاہتی تھیں کہ چوہدری عدیم سے کوٸی بات کی جاۓ تو دوسری جانب صدیق تھا جو کسی صورت ارسہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو تیار نہ تھا ۔
ہم نے انجانے میں ہی سہی ارسہ کے ساتھ بڑی زیادتی کردی ہے چوہدری صاحب ۔ مسز رشید نے کہا
۔ہاں۔۔آپ نے ٹھیک کہا ۔۔خیر۔فی الاحال آپ مجھے چاۓ بنا دیں ۔۔پھر دیکھتے  ۔ چوہدری رشید نے قدرے توقف سے کہا ۔ مسز رشید خاموشی سے کمرے سے نکل گٸیں ۔
چوہدری رشید نے آنکھیں موندکر اپنا سر صوفہ کے ساتھ ٹکا دیا۔
……………………………
ارسہ کتنی کمزور ہوتی جا رہی ہے نا ۔رابعہ نے ارسہ کے چہرے پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا۔ رابعہ اور عاٸشہ نے ارسہ کے میکے آ جانے کا سنا تو اس سے ملنے چلی آٸیں۔
نہیں آنٹی ۔۔شاید آپ نے مجھے بہت عرصے بعد دیکھا ہے اس لیے آپ کو میں کمزور دکھ رہی ۔ ارسہ نے بات ٹالنے کی کوشش کی ۔
ارسہ تم اپنے گھر میں خوش تو ہو نا؟۔۔ عاٸشہ کے یک لخت کیے گٸے سوال نے ارسہ کو گڑ بڑا دیا ۔
ہاں ہاں خوش ہوں ۔۔بہت خوش ۔ ارسہ نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر بکھیرتے ہوۓ کہا ۔
بیٹے اللہ تمھیں خوش ہی رکھے ۔ رابعہ نے دعا دیتے ہوۓ کہا ۔
آمین آمین ۔۔۔ثمرین چاۓ بنانے باورچی خانے میں تھی وہ چاۓ لے کر لوٹیں تو رابعہ کی بات سن کر ایک دم سے بولیں ۔
ثمرین بہن چاۓ کے تکلف کی ضرورت نہیں تھی ۔ ہم کونسا مہمان ہیں ۔ رابعہ ثمرین سے مخاطب ہوٸیں ۔
ارے رابعہ بہن چاۓ کا وقت ہے ۔ سناٸیں حمزہ کی خبر اتر ۔ ثمرین نے پوچھا تو ارسہ کے دل میں ایک دم سے محرومی کا احساس جاگا ۔
کاش یہ ذاتیں درمیان حاٸل نہ ہوتیں ۔۔
بہن ۔۔ماشإ اللہ حمزہ ٹھیک ہے اس کی کال آتی رہتی ہے ۔ بس سوچ رہی ہوں اس کی کہیں شادی کر دوں آپ کی نظر میں کوٸی اچھی سی لڑکی ہو تو ضرور بتاٸیں ۔ رابعہ  نے کہا ۔
بالکل کیوں نہیں ۔۔حمزہ میرا اپنا بیٹا ہے ۔ ثمرین نے کہا ۔ دل کی گہراٸیوں میں کہیں انھیں حمزہ کی شادی ارسہ سے نہ ہونے کا شدید دکھ تھا




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest