20 قسط

چوہدری صدیق ۔۔۔کتنے لوگ ارسہ کےمیکے سے آۓ ہیں جو تم چھوڑ کے آۓ ہو ؟ مسز رشید نے قدرے غصے سے کہا ۔

امی ۔۔۔آۓ نہیں لیکن آٸیں گے ۔۔چوہدری صدیق یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔

بیٹا تم دل چھوٹا نہ کرٶ ۔۔صدیق دل کا برا نہیں غصے کا بس تیز ہے ۔ مسز رشید نے ارسہ کو تسلی دی۔

ارسہ نے گردن ہلاٸی گویا کہنا چاہتی ہو کہ غصہ کس بات کا کیا ؟ ۔۔لیکن اس نے کہا نہیں ۔۔۔بس خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر کمرے میں چلی آٸی۔۔۔

حمزہ میں نے تمھارا دل دکھایا ہے نا ۔۔اسی لیے میرے ساتھ بھی یوں ہو رہا ہے ۔۔۔سزا مل رہی مجھے ۔ ارسہ نے سوچا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

چند لمحے رونے میں گزرے پھر وہ خود سنبھل گٸی۔ فون اٹھایا ۔



حمزہ تم ٹھیک ہو ۔ایک وٹس ایپ میسج حمزہ کو کیا ۔

کچھ لمحے اس نے جواب کا انتظار کیا۔ جواب نہ آیا تو اس نے موباٸل ایک جانب اچھال دیا اور خود بستر پرلیٹ گٸی ۔

ایک تو تھکن دوسرا بے تحاشا رونے کی وجہ سے لیٹ جانے کی کچھ دیر بعد اس کی آنکھ لگ گٸی ۔ مسز رشید نے بھی اسے نہ جگایا ۔وہ مغرب تک سوتی رہی ۔ یہاں تک کہ چوہدری صدیق گھر آیا اسے بے سدھ سوۓ ہوۓ دیکھا تو ایک لمحے کے لیے کہ اس کے معصوم چہرے کو دیکھ کر اسے اس پر ترس بھی آنے لگا ۔لیکن دوسرے لمحے ہی اسے اپنی محبوبہ یاد آگٸی ۔ جس کے لیے اس کے والدین نے ہاں نہیں کی تھی۔

مجھے پتہ ہے کہ تم معصوم ہو لیکن اگر میں تم نے اچھا سلوک کرنے لگوں گا تو تم ہمیشہ کے لیے میرے گلے کا ڈھول بنی ہو گی ۔۔تمھیں اپنی زندگی سے نکالنے کے لیے مجھے جس حد تک جانا پڑا میں جاٶں گا۔۔۔اس لیے سوری ارسہ بیگم ۔۔۔چوہدری صدیق نے دل میں کہا ۔

کیا یہ گھر ہے یا سراۓ ۔جب دیکھو نحوست۔ چوہدری صدیق نے ایک دم سے چلا کر کہا ۔

ارسہ جو گہری نیند سوٸی ہوٸی تھی یکایک چونک کر جاگی ۔ غاٸب دماغی سے چوہدری صدیق کی جانب تکنے لگی۔

ارسہ بیگم۔۔۔یہ میرا گھر ہے کوٸی ہوٹل نہیں جو تم وقت بے وقت سوتی رہتی ہو ۔۔چوہدری صدیق نے چلا کر کہا ۔

وہ ۔۔وہ مجھے ۔۔مجھے وہ ہکلاتے ہوۓ کہنے لگی ۔

صفاٸی دینے کی ضرورت نہیں ۔ جب دیکھو نحوست۔۔چوہدری صدیق کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی ۔

ارسہ کو ناکردہ گناہوں کی سزا سناٸی جا رہی تھی ۔ چوہدری صدیق نے اسے صفاٸی کا موقع نہ دینا تھا نہ ہی دیا ۔مسز رشید نے آوازیں سنی تو دوڑیں آٸیں ۔

کیا ہوا۔۔صدیق کیوں چلا رہے ہو تم۔۔مسز رشید نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔

مجھ سے کیا پوچھتی ہیں آپ ۔۔اپنی لاڈلی بہو سے پوچھیں نا ۔چوہدری صدیق نے ماں کی جانب دیکھتے ہوۓ کہا۔

جو بھی ہے۔ آواز اتنی بلند نہیں ہونی چاہیے ۔ مسز رشید نے کہا ۔

امی ۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔ انھیں تو ہر وقت غصہ آیا رہتا ہے ۔ ارسہ نے آہستگی سے کہا۔



ہاں ہاں۔۔۔میں تو پاگل دیوانہ ہوں نا ۔۔تم کہنا کیا چاہتی ہو ۔۔چوہدری صدیق تلملا کر بولا ۔

نہیں میرے کہنے کا ۔۔۔۔ارسہ نے کچھ کہنا چاہا۔۔

ارسہ بیٹے ۔ ہر وقت حجت کرنا ضروری نہیں ہوتا ۔ایک بول رہا ہو تو دوسرے کو چپ رہنا چاہیے ۔ مسز رشید نے اس کی بات کاٹی ۔

چوہدری صدیق تم میرے ساتھ آٶ۔۔۔مسز رشید بیٹے کو تقریبا گھسیٹتے ہوۓ کمرے سے باہر لے گٸیں ۔

صدیق ۔۔۔ایسا مت کرو بیٹا ۔ ایسے معاملہ خراب ہو جاۓ گا ۔ مسز رشید نے اسے لاٶنچ کے صوفہ پر بیٹھاتے ہوۓ کہا۔

امی ۔۔۔مجھے اس کا چہرہ دیکھتے ہی غصہ آنے لگتا ہے ۔ اب میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتا ۔ چوہدری صدیق نے کہا۔

صدیق بیٹا ۔۔۔کیوں اپنے باپ کی عزت کے دشمن بنے ہو ؟۔۔مسز رشید نے پیار سے سمجھاتےہوۓ کہا ۔

امی ۔۔میرا دم گھٹ جاۓگا اباکی پگڑی کے بوجھ سے ۔ چوہدری صدیق نے کہا ۔

بیٹے بزرگوں کی بناٸی ہوٸی عزت بوجھ نہیں ذمہ داری ہوتی ہے اس ذمہ داری کو نبھانا چاہیے نہ کہ بوجھ سمجھ کر خود کو تھکاتے پھرو ۔۔۔مسز رشید نے سمجھاتے ہوۓ کہا ۔

امی پلیز ۔۔اپنا یہ لیکچرمجھے نہ سناٸیں۔ یہاں میری زندگی میری محبت مجھ سے چھین لی آپ نے اور اب اخلاقیات نہ ہی سیکھاٸیں تو بہتر ہے ۔ چوہدری صدیق نے اکتاۓ ہوۓ کہا ۔ اور صوفے سے اپنا سر ٹکا لیا ۔

ارسہ کا زرد پڑتا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرا ۔ لیکن اس نے اگلے ہی لمحے اس سوچ کو جھٹک دیا۔ ارسہ کمرے میں کسی بت کی طرح ساکت بیٹھی آج کے سارے ہنگامے میں اپنا قصور تلاش رہی تھی

 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest