Home / Home / اردو مضامین / اپریل فول اور اس کی حقیقت 

اپریل فول اور اس کی حقیقت 

اپریل لاطینی زبان کے لفظ اپریلس

Aprils

یا اپریر Aprire

سے ماخوذ ہے ، جس کا لفظی مطلب ہے ، پھولوں کا کھلنا، یا کلیوں کا چٹخنا ۔چونکہ اپریل کا مہنیہ شدید سردی کے بعد اور شدید گرمی سے پہلے آتا ہے اور اس میں بہار اپنے جوبن پر ہوتی ہے ۔اس لیے اس مہینے کو پھولوں اور کلیوں سے مسوم کیا جاتا ہے ۔یہ مہینیہ قدیم یونان کی دیوی افروڈائیل Aphrodite کا مہینہ بھی کہلاتا ہے ۔ یہ دیوی محبت اور خوبصورتی کے طور پر جانی جاتی ہے ۔اس دیوی کیبالوں میں ایک سرخ گلاب ہے جو کہ پھول کو محبت کی ابتداء کا مظہر بناتا ہے ۔ چین میں ا اپر یل کو کھیت کے صاف یا فصل کے کٹنے کے مہینے کر نے کے مہینے کے طور پر منایا جاتاہے۔جبکہ امریکہ میں اس مہینے کو شاعری کے مہینے کے طور پر منایا جاتاہے۔اور اس مہینے میں پورے امریکہ میں شاعری کے مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں۔لاطینی امریکہ میں اپریل بدھاکی سالگرہ کے طور پر منایا جاتاہے۔جبکہ یورپ میں اس مہینے کو پیٹرن سینٹ کی تقریبات کے لیے وقف کیا گیا ہے۔اس مہنے کی پہلی تاریخ قریبا تمام دنیامیں اپریل فول کے طور پر منائی جاتی ہے ۔اپریل فول کی حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں ۔


اپریل فول جس کو بڑے کروفر کے ساتھ ہمارے ملک کے طول وعرض میں بھی منایا جاتا ہے آئیے!اس اپریل فول کی حقیقت اور تاریخ کی جانب ایک نظر دوڑاتے ہیں ۔ یہ کو ئی500 برس پہلے یکم اپریل کا دن تھاجب اس دن کو منانے کا آغاز ہوا ۔ پانچ سو برس پہلے عیسائیوں کی سپین کی فتح کے بعد مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا گیاجس کا مقصد سپین سے اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ تھا ۔لیکن جب عیسائی فرمارواؤں کو پھر بھی یقین نہ ہوا کہ تمام مسلمان ختم ہو گئے ہیں ۔ تو انھوں نے باقی ماندہ مسلمانوں کو ا کٹھا کیااور ایک اعلان کروایاکہ انھیں سمندر کے راستے بحفاظت عرب بھیج دیا جائے گا ۔ان تمام مسلمانوں کو ایک بحری جہاز میں سوار کروایا گیا ۔مسلمان جو کہ غارت گردی ، اور نسل کشی سے بے تحاشہ تنگ تھے اس بات پر اطمنان کے ساتھ عازمسفر ہوئے کہ ان کی جان بچ جائے گیااور وہ بحفاظت کسی اور خطہ زمین پر منتقل ہو جائیں گے۔اس خیال کے تحت سپین میں قتل گری سے بچ جانے والے قریباتمام مسلمان اس جہاز میں جانے کو تیار ہو گئے ۔عیسائی فرمانروا اپنی محفلوں میں جیت کاجشن منارہے تھے جبکہ جرنیلوں نے ان بچے کچے مسلمانوں کو غرناطہ سے الودع کیا۔ اس سفر میں جو ان بچے ،بوڑھے ،عورتیں اور مریض تک سبھی شامل تھے ۔جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچاتو ان تمام مسلمانوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈبو دیا گیاا۔ اس طرح یہ سمندر ان تمام خستہ حال مسلمانوں کا مشترکہ مدفن بن گیا۔ جب یہ خبر سپین پہنچی تو ایک جشن کا اہتمام کیا گیا کہ سپین سے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کر دیا گیا ہے ۔یہ یکم اپریل کا ہی دن تھا جیسے بعد میں باقاعدگی سے منایا جانے لگا۔ یوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دن پورے یورپ کی فتح کا دن بن گیا اوراس دن تمام یورپ میں شراب پی کر لوگوں سے جھوٹ بول کر انھیں بے وقوف بنایا جانے لگا ۔ اسے انگریزی میں FIRST APRIL FOOL یعنی یکم اپریل ’’کے بے وقوف ‘‘کا نام دیا گیا اور آج یہ دن عملی مذاق کا دن کہلاتا ہے۔یعنی عملی طورپر کسی کے ساتھ ایسا مذاق کیا جائے اوراس کی پریشانی سے لطف اندوز ہوا جائے ۔
یورپ میں بالخصوص اور پوری د نیا میں بالعموم اس دن جھوٹ بول کر لوگوں کو پریشان کر کے یہ دن منایا جاتاہے۔ اس دن سوچ سمجھ کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ لوگ اس طرح کے جھوٹ سے پریشان ہو جاتے ہیں ۔جبکہ جھوٹ بولنے والا اس خوشی میں ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔عموماایسے مذاق قریبی دوستوں ،رشتہ داروں کے ساتھ کہے جاتے ہیں جن کے اثرات بے حد منفی بھی مرتب ہو جاتے ہیں اور مذاق کرنے والا ساری زندگی کے لیے شرمندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔


اس دن کو منانے کے نقصانات میں سے ایک نقصان جھوٹ کے گنا ہ کا ہے جس کی اسلام میں شدید مذمت کی گئی ہے یہاں تک کہ اس کو کفر کہا گیا ۔اس سے بچنے اورمذاق میں بھی جھوٹ سے گریز کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور دوسرا اپنے ہی قریبی رشتوں کو پریشانی میں مبتلاکردینا۔کسی عزیز یا دوست کو جان بوجھ کر پریشانی میں مبتلا کرنا اور پھر اس کی پریشانی پر خوش ہونا انسانیت کی سطح سے گر جانے کے مترادف ہے
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دشمن پر بھی صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے یہاں تک کہ کئی برس تک مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے کفار کو جب فتح مکہ کا موقع آتا ہے تو عام معافی کا اعلان کیا جاتا ہے ۔قرون اولیٰ کے خلافت کے ادوار میں یہ حکم نافذکیا گیا کہ جو شہر فتح کیا جائے گا ۔وہاں عورتوں ،بوڑھوں اور بچوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔کھیتوں اور فصلوں کو اجاڑا نہیں جائے گا۔یعنی مسلمان اگر فاتح ہو تب بھی رحمی دلی کاجیتا جاگتا نمونہ ہو ۔ اسلام میں حقوق اﷲکے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی برابر اہمیت دی گئی ہے یہاں تک کے ہمسائے ، دوست تک کے حقوق بیان کئے گئے ہیں ۔ گویا اسلام چاہتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جس میں ہر شخص کو مکمل حقوق حاصل ہوں اور ہر شخص اپنی جگہ اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہواور ان کو پورا کر نے کا اخلاقی طور پر ذمہ داریوں کو پوراکا مجاز ہو۔ جہاں پر ایک دوسرے کاخیال رکھے ۔
اسلام ہمیں ایسے کسی بھی فعل سے سختی سے منع کرتا ہے جس سے کسی کادل دکھے یا کوئی پریشانی میں مبتلا ہو جائے ۔ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے زبان اور ہاتھ کی ایضاء سے دوسرے انسان محفوظ رہیں ۔گویا مسلمان کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ اس طرح کی تہذیب کواپنائے یا اس طرح کے کسی بھی مذاق کا حصہ بنے جس سے کسی کو جسمانی یا روحانی ایضاء پہنچنے کا خطرہ ہو ۔
جس مذہب کے رہنمائے اعظم رحمت العالمین کا لقب پاتے ہوں اس مذہب کے پیروکاروں کے لیے یہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں کہ وہ جھوٹ بول کر نفسانی تسکین حاصل کریں اور جان بوجھ کر کسی کو پریشانی میں مبتلا کر دیں ۔
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رجحان پنپ رہا ہے کہ بنا سوچے سمجھے، بنا تحقیقاہل مغرب کے نقش قدم پر چلنے والے خود کو تہذیب یافتہ سمجھتے ہیں اور اس میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ عہد حاضر کی تہذیب کے پرورد ہ اس بدتہذیبی کو بڑے فخر سے اپنائے ہوئے ہیں۔ آج ہمارے اس وطن میں بھی اپریل فول بڑے کروفر سے منایا جاتا ہے اورہمارے نوجوان اس دن کی تاریخ کو بنا جانے اپنے دوستوں ، رشتہ داروں سے جھوٹ بول کر یا انھیں پریشان کر کے کھوکھلی خوشیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ جو کہ بعد ازاں کسی بھی ناخوش گوار واقعے کا سبب بن سکتا ہے ۔
وقت کا تقاضا ہے کہ نئی نسل کسی بھی موقع کو مناتے ہوتے تاریخ کو جانے ، تحقیق کرے اور پھر فیصلہ کرے کہ آیا یہ دن منانا چاہیے بھی یا نہیں ۔ اندھی تقلیدسے بچیں ۔بھیڑ چال چلنے کی بجائے تحقیق کواپنا شعار بنائیں ۔ جب اس قوم کا ہر فرد تحقیق کرنے لگے گا تو صحیح غلط میں فرق واضع ہوجائے گا اور یہ فیصلہ کرنا بے حد آسان ہو جائے گا کہ کیا کرنا چاہیے اور کس چیزسے گریز کرنا چاہیے۔اور بہت سے مسائل اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔


About admin786

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
WpCoderX