قسط نمبر ١٤

ابو ۔۔ذات کو اتنی اہمیت کیوں دے رہےہیں آپ ۔ “…………علی نے پوچھا ۔

ذات کو اہمیت اس لیے دے رہا ہوں کہ اگر میں یہ خیال نہیں کروں گا تو کل کو” میرے فیصلہ کو کوٸی نہیں سنے گا ۔”………..چوہدری عدیم نے سمجھاتے ہوۓ کہا ۔

تو آپ اپنی انا کی خاطر اپنی بیٹی کی بھینٹ چڑھا دیں گے ؟ “………..علی نے کہا ۔۔۔

علی! ۔۔تم باپ کے سامنے اتنا بول بھی کیسے سکتے ہو ؟ “…………چوہدری عدیم نے کہا اور علی ایک دم سے چپ ہو گیا ۔

علی حمزہ کا دوست تھا اوراسے اچھی طرح جانتا تھا ۔لیکن چوہدری عدیم کی بات بھی اپنی جگہ بالکل درست تھی۔

چوہدری عدیم یہ کہہ کر گھر چلے آۓ اور بات یہیں پر ختم ہو گٸی ۔

ثمرین! ۔۔۔چوہدری رشید نے اپنے بیٹے کے لیے ہماری ارسہ کا رشتہ مانگا ہے مجھے یہ بتاٶ کہ کتنی کچھ تیاری کرنا ہو گی۔ “…………چوہدری عدیم نے پوچھا ۔

چوہدری صاحب ارسہ سے پوچھ لیں ۔ اتنی جلدی ۔۔”………….ثمرین گڑبڑاٸیں ۔۔

کہاں وہ حمزہ کے لیے بات کر رہے تھے اور کہاں یہ چوہدری رشید کا بیٹا۔

مرین ۔۔میں نے جو پوچھا ہے وہ بتاٸیں ۔مجھ سے سوالات کرنے یا راۓ دینے کی ضرورت نہیں ۔”……… چوہدری عدیم نے تلملاتے ہوۓ کہا ۔ چوہدری عدیم ثمرین سے ہر معاملہ میں راۓ لیتے تھے لیکن اب بیٹی کا معاملہ آیا تو انھیں دودھ سے مکھی کی طرح باہر نکال کر پھینک دیا ۔ چوہدری صاحب! ۔۔۔”……….ثمرین نے دکھی لہجے میں کہا ۔

ثمرین!!….. آپ نے زندگی بھر میرے ہر فیصلے میں ساتھ دیا ہے میں چاہتا ہوں کہ ہماری بچی کی شادی اس خاندان کے لیے خوشیوں کا باعث بنے۔”…… چوہدری عدیم نے کہا تو ثمرین سر ہلا کر رہ گٸیں۔

آپ بلقیس کو بھی بلوا لیں ۔۔تیاری شروع کریں۔۔میں چوہدری رشید کو پیغام بجھوا دیتا ہوں۔ ابوبکر کی کال آتی ہے تو اسے بھی بتا دیں۔۔”……….چوہدری عدیم نے کہا ۔

ثمرین نے خاموشی سے اثبات میں گردن ہلاٸی ۔ ۔۔۔۔

بلقیس !۔ چوہدری صاحب نے ارسہ کی شادی چوہدری رشید کے بیٹے سے طے کر دی ہے تم آ جاٶ تاکہ کچھ دیکھ لیں دینے دلانے والے جوڑے اور اس کا جہیز ۔ “…..ثمرین ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بڑی بہن کو مطلع کر رہی تھی ۔

ثمرین!….. تو میں نے جو بات کی تھی تم لوگ اس بارے میں کچھ نہیں سوچ رہے ؟”….. بلقیس نے کہا ۔




بلقیس!…… چوہدری عدیم صاحب اس معاملے میں بات تک کرنے کو تیار  نہیں ۔ آپ آ جاٶ تو ارسہ کی شادی کی تیاری کا آغاز کریں۔”….. ثمرین نے کہا ۔

ٹھیک ہے…. آج تمھارے بھاٸی آتے ہیں تو ہم دونوں آتے ہیں تمھاری طرف۔” ……بلقیس نے کہا ۔

آپا ۔دو چار دن کے لیے آ جاٶ ۔۔۔بھاٸی بھی یہیں رہ جاٸیں ۔”…….۔ثمرین نے منت بھرے لہجے میں کہا ۔

تم فکر نہ کرو میں آ جاٶں گی ۔”…….. بلقیس نے یقین دہانی کرواٸی ۔اور فون بند کر دیا ۔

ثمرین کا فون بند کرتے ہی انھیں حمزہ کا خیال آیا ۔

ہاۓ !…….کیسا پیارا بچہ ہے ۔ چلو اللہ نصیب اچھے کرے ۔ بلقیس نے بے اختیار حمزہ کو دعا دی ۔وہ کردار اور اخلاق کے حوالے سے  تھا ہی ایسا ہر کوٸی بے اختیار اسے دعا دیتا۔

اس شام بلقیس چوہدری عدیم کے گھر چلی آٸی ۔ پیٹاں کھولی گٸی ۔بسترے برتن سب دیکھا گیا ۔ ثمرین نے کسی قسم کی کوٸی کمی نہ چھوڑی تھی۔ارسہ سب دیکھ رہی تھی ۔ اس کے دل میں کہیں کوٸی دکھ تھا ایک کسک جو اب شاید اس کی تمام عمر اس کے ساتھ رہنا تھا۔ حمزہ سے اس کا رابطہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ لیکن رابطے نہ ہونے سے محبت میں کمی نہیں ہوا کرتی۔

حمزہ میرے ہاتھوں پر مہندی تمھارے ہی نام کی لگے گی چاہے یہ جسم کسی کا بھی ہو جاۓ”…… ارسہ نے حمزہ کو میسج کیا ۔ حمزہ نے میسج دیکھا ۔

اگر مجھ سے شادی نہیں کر سکتی تواس سب کی بھی ضرورت نہیں تھی ۔ حمزہ نے چاہا کہ اسے میسج کر دے لیکن اس نے میسج کیا نہیں۔ بس سوچ کر رہ گیا۔

۔ارسہ جانتی تھی کہ حمزہ اسے جواب نہیں دے گا لیکن پر بھی وہ اس کو میسج کرتی رہتی تھی۔

حمزہ مسلسل ذہنی اور نفسیاتی اذیت سے گزر رہا تھا ۔ یہاں تک کہ ارسہ کی شادی کا دن آن پہنچا ۔

حمزہ کی نفسیاتی حالت اتنی گر چکی تھی کہ اسے شدید بخار نے آن گھیرا یہاں تک کہ اسے ہسپتال داخل کروانا پڑا ۔

حمزہ ۔!۔۔۔عاٸشہ اس کے پاس کھڑی تھی ۔ اس کی بازو پر ڈرپ لگا دی گٸی تھی ۔

حمزہ ٕ!۔۔یہ کیا ہے ؟ تم یوں بیمار ارسہ کی شادی کے دنوں میں۔ “…….عاٸشہ نے اس کو ڈانٹتے ہوۓ کہا ۔




باجی۔!۔۔میں ارسہ سے بہت محبت کرتا ہوں ۔”…… حمزہ نے کراہتےہوۓ کہا ۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ گویا ایک سیلابی ریلا تھا جو ہر بند کو توڑ نکلا ہو ۔

تم نے یہ تک نہ سوچا کہ ارسہ تمھاری بڑی بہن کی دوست ہےبڑی ہے۔ ایک دفعہ بھی نہیں سوچا۔ کیا عزت رہ جاۓ گی میری ارسہ کی نظروں میں ۔۔”…….عاٸشہ گرج رہی تھی ۔

حمزہ نے آج پہلی بار عاٸشہ کو اس لہجے میں بات کرتے سنا تھا ۔

عاٸشہ باجی!….. ۔۔۔حمزہ نے بے بسی سےکہا ۔

چپ رہوحمزہ!……بالکل چپ۔۔۔میرادل کرتا ہے تمھارا منہ توڑ دوں ۔تم نے یہ کیا کیا ہے ؟ عاٸشہ گرجی۔

باجی! ۔میرا کوٸی قصورنہیں ہے ۔ “……حمزہ نے کہا ۔

قصور تمھارا نہیں تو کیامیرا ہے ؟۔۔ہاں میرا ہی قصورہے ۔ میرا ۔”………..عاٸشہ مسلسل بول رہی تھی ۔اک دم سے وہ کتنی پراٸی ہو گٸی تھی ۔حمزہ خاموشی سے سنتا رہا ۔عاٸشہ بولتےبولتے ہانپنے لگی ۔ ٕحمزہ نے اپنی آنکھیں موند لیں

حمزہ کے دل میں عاٸشہ کا ایک ایک لفظ پیوسط ہو رہا تھا ۔ عاٸشہ کو لگتا تھا جیسے سارا قصور ہی اس کا تھا جس نے ارسہ کو حمزہ سے بات کرنے سے نہ روکا۔

ہسپتال میں حمزہ کا علاج چلتا رہا اور چوہدری عدیم کی حویلی میں ارسہ کی شادی کی تیاری۔ وہ ایک روشن دن تھا ۔علی وقت نکال کر حمزہ کا حال دریافت کرنے چلا آیا ۔

حمزہ !……یہ تجھے کیا ہو گیا ہے یار” ۔۔علی نے حمزہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔

وہ بھی اس کے دل کے حال سے لا علم تھا۔ پتہ نہیں یار کیا ہوا ہے ۔۔؟ “……حمزہ نے نقاہت بھرے لہجے میں کہا۔

اللہ تمھیں صحت دے یار ۔”…….. علی نے کہا ۔

کچھ دیر وہ اس کے پاس بیٹھا پھر اٹھ کرچل دیا ۔ حمزہ کا بیمار ہونا اسے چونکا گیا تھا لیکن وہ کچھ کرنے سے قاصر تھا کیونکہ دوسری طرف اس کا باپ تھا۔

چند دن ہسپتال میں گزارنے کے بعد حمزہ کو گھر بھیج دیا گیا۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکا تھااور سنجیدہ بھی ۔ اس نے دوبارہ سے کام پر جانا شروع کر دیا ۔ اس دن ارسہ اسجد لاج چلی آٸی ۔

کیسی ہیں آنٹی ۔۔؟ عاٸشہ کیسی ہے ؟ کہاں ہے ؟….. ارسہ نے رابعہ کے سامنے سر جھکاتے ہوۓ کہا ۔

رابعہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ماتھے پر پیار کیا۔ ارسہ دل ہی دل میں  شرمندہ ہو گٸی ۔

عاٸشہ !……ارسہ آٸی ہے بیٹے ۔”……….. رابعہ نے عاٸشہ کو آواز دی ۔

بیٹے!………. تم یوں کرو عاٸشہ کے کمرے ہی میں چلی جاٶ ۔ میں چاۓ لاتی ادھر ہی ۔”……. رابعہ نے کہا ۔

ارسہ نے اثبات میں گردن ہلاٸی اور مرے مرے قدموں سے عاٸشہ کے کمرے کی جانب بڑھ گٸی ۔ عاٸشہ نماز پر کر دعا مانگ رہی تھی چہرہ آنسوٶں سے تر تھا ۔

عاٸشہ !….۔ ارسہ نے شرمندگی سے اسے پکارا ۔ عاٸشہ نے اپنے چہرے سے آنسو پونچھے ۔

ارسہ!………… تم کب آٸیں ؟ …….عاٸشہ نے آگے بڑھ کر معانقہ کرتے ہوۓ کہا۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے ۔” ارسہ نے کہا ۔

سوری یار !۔۔میں تمھاری شادی کی تیاریوں میں ضرور شامل ہوتی لیکن حمزہ کی بیماری کی وجہ سے ۔۔عاٸشہ کہتے کہتے رک گٸی ۔




عاٸشہ !….میں آپ لوگوں کو کچھ بتانا چاہتی ہوں ۔”…… عاٸشہ نے  ہمت مجتمع کرتے ہوۓ کہا ۔

کہو کہو ارسہ! ۔۔۔تم کب سے ہم سے جھجھکنے لگی ۔۔”………رابعہ اسی وقت کمرے میں داخل ہوٸیں تھیں۔

آنٹی !………….وہ ۔۔۔ارسہ کو سمجھ نہ آ رہی تھی کہ وہ بات کہاں سے شروع کرے ۔

بولو ارسہ !……..کیا بات ہے ؟ ………عاٸشہ نے اس کا ہاتھ دبا کر تسلی دی ۔

عاٸشہ !…..میں بھی حمزہ سے محبت کرتی ہوں لیکن ابو۔۔ارسہ نے گہری سانس لے کر کہا۔

ارسہ !۔۔۔تم بھی۔ کم از کم مجھے بتا تو دیتی ۔ “………..عاٸشہ پر گویا دکھ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔

بس عاٸشہ مجھ میں جرات ہی نہ تھی۔ “………….ارسہ نے سرجھکا کر کہا ۔

بیٹے !………اس میں جرات کی کیا بات تھی ؟ تم اس گھر میں بچپن سے آ جا رہی ہو ……اگر کہیں دیتی تو آج حالات مختلف ہو سکتے تھے ۔ رابعہ نے دکھ سے کہا ۔

اوروہ حمزہ اتنا سارا دکھ اکیلے سہہ گیا ……عاٸشہ نے کہا۔

عاٸشہ !……وہ اکیلا قصوروار نہیں۔”………… ارسہ نے کہا۔

اب ان تمام باتوں سے کیا حاصل تمھارا رشتہ طے ہو چکا ہےاور کچھ دنوں بعد تمھاری شادی ہے “……… عاٸشہ نے کہا ۔ ارسہ چپ ہو گٸی ۔ بیٹا! ۔۔تقدیر کا فیصلہ ہے اس میں تم لوگوں کا کوٸی قصور نہیں ۔ بس  اللہ کی رضا مان کر جو ہو رہا اسے قبول کرو۔ “……..رابعہ نے سمجھایا  ۔

ارسہ کو اپنا آپ ان سب کا مجرم محسوس ہو رہا تھا ۔رابعہ کی بات سے اس کے دل کا پوچھ کچھ کم ہو گیا ۔ وہ شام ڈھلے تک باتیں کرتی رہیں ۔ ارسہ جب اسجد لاج سے گھر جانے کے لیے نکلی تو اس کے دل کا پوچھ تقریبا نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا

………………………………………………………..

حمزہ تھکا ہارا گھر آیا تھا ۔ آتے ہی اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا ۔

حمزہ بیٹے! ۔۔۔کچھ کھایا پیا کرٶ ۔۔بہت کمزور ہوتےجا رہے ہو۔”………. رابعہ کو حمزہ کی فکرہو رہی تھی۔

میں یہیں لے آتی ہوں کھانا  ۔ “…………..رابعہ نے کہا ۔

نہیں امی!…… میں بس تھوڑی دیر میں آ جاتا ہوں ۔ حمزہ نے  کہا اس کے لہجے میں تھکاوٹ غالب تھی ۔

رابعہ اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوۓ باورچی خانے کی جانب بڑھ گٸی۔

لیٹے رہو! ۔۔۔حمزہ نے عاٸشہ کو اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ دیکھا تو ایک دم سے اٹھ بیٹھا عاٸشہ نے اسے لیٹنے کو کہا ۔ اور خود موڑھا کھینچ کے اس کے بیڈ کے پاس بٹھ گٸی ۔

حمزہ! ۔۔آج ارسہ آٸی تھی اس نے ہمیں سب بتا دیا ہے ۔ “……اس نے کہا تو حمزہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹ پڑیں ۔




باجی!۔۔۔حمزہ نے حیرانی سے کہا۔

ہاں حمزہ!……. آج وہ آٸی تھی اور مجھے دکھ ہے کہ تم لوگوں نے مجھے نہیں بتایا۔ اگر بتا دیتے تو شاید میں کچھ کرنے کی کوشش تو کرتی۔ عاٸشہ نے دکھ سے کہا ۔

باجی! ۔۔۔آپ ارسہ سے پوچھ لیں کسی چیز کی کمی اس کے جہیز میں رہ گٸی ہو تو ہماری طرف سے پوری ہو جاۓ گی ۔ میں دبٸی کا ویزہ لے رہا ہوں ۔ میں اب یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔ “حمزہ نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا ۔

عاٸشہ جانتی تھی کہ حمزہ کا یہ فیصلہ اس کے سنبھل جانے کے لیے بہت بہتر ہے۔

لو کھانا کھا لو ۔۔اور کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔”……..رابعہ نے کہا ۔

میں دبٸی جا رہا ہوں امی ۔ حمزہ نے سر جھکا کر کہا ۔

دبٸی !۔۔۔کب ۔۔”………رابعہ نے حیرت سے پوچھا ۔

امی !……..جیسے ہی ویزہ مل گیا ۔”…………. حمزہ نے کہا رابعہ خاموش ہو گٸیں۔

……………………………………………………………….

ارسہ تمھارے چہرے پر وہ رونق نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ بلقیس نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا ۔

ںبیں آنٹی!……… ایسی تو کوئی بات نہیں۔ ارسہ نے نظریں چرائی ۔ مبادا کہ اس کی چوری پکڑی جائے۔

تم خوش تو ہو نا۔…… بلقیس نے پوچھا
جی خالہ!…….. میں بہت خوش ہوں ……… یہ کہتے ہوئے ارسہ کی آنکھیں بھر آئیں

بلقیس اور اس کے شوہر کچھ دنوں سے چوہدری ہاٶس میں رہ رہے تھے۔ وہ دن رات اس کے جہیز کا سامان خرید رہے تھے ۔پیٹیوں کو کھولا جا رہا تھا ۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ اس کے جہیز میں کوٸی کمی نہ رہ جاۓ۔ عاٸشہ اور رابعہ بھی چوہدری ہاٶس چلی

آٸیں۔آٸیں! ۔۔بہن ۔۔”……..ثمرین نے خوش دلی سے کہا ۔

بہن !………ارسہ میری اپنی بیٹی ہے بس حمزہ بہت بیمار ہو گیا تھا۔کافی دن اسے ہسپتال رکھنا پڑا۔ “………..رابعہ نے شرمندگی سے کہا ۔ علی نے بتایا تھا حمزہ کا ۔لیکن بہن شادی والا گھر ہے آیا گیا ہی بہت ہے میں آ نہیں سکتی ۔بلقیس اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں بیٹھی ہے ۔ سب بہت جلدی طے ہوا۔”………..ثمرین صفاٸیاں دینے لگیں۔

آپ سے کوٸی گلہ نہیں بہن ۔”…….. رابعہ نے کہا ۔

آنٹی !……….میں ارسہ کے پاس جاتی ہوں ۔ عاٸشہ نے کہا ۔

ہاں ہاں بیٹا !..اس کے پاس جاٶ ۔ اس کو کوٸی ابٹن  وغیرہ لگاٶ ۔”…….ثمرین نے کہا ۔عاٸشہ دھیما سا مسکراٸی اور ارسہ کے کمرے کی جانب بڑھ گٸی ۔۔

عاٸشہ !……….حمزہ کی طبیعت ابھی کیسی ہے ۔۔ اگرچہ ارسہ کی شادی طے ہو گٸی تھی لیکن وہ حمزہ کا حال احوال پوچھنا کبھی نہ بھولتی تھی۔ اس کو میسج بھی کرتی رہتی تھی ۔

بہتر ہے ۔ وہ دوبٸی جانا چاہتا ہے۔ شاید آج کل میں چلا جاۓ۔”………. عاٸشہ نے اداسی سے کہا ۔

شاید !………….اس کے لیے یہی بہتر ہے ۔ ارسہ نے کہا۔

ہاں !۔۔اب اورکوٸی راستہ بھی تو نہیں ہے نا۔ “………..عاٸشہ نے کہا ۔

حمزہ کہہ رہا تھا تمھیں کچھ چاہیے تو بتا دو۔”………… عاٸشہ نے کہا ارسہ نے نفی میں سر ہلایا ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گٸے ۔

اب صبر کے علاوہ کوٸ چارہ نہ تھا۔

نہیں ارسہ! ۔۔تمھاری زندگی کا ایک نیاباب شروع ہونے کو ہے اس نٸے باب کا آغاز آنسوٶں سے نہ کرو۔ عاٸشہ نے اسے گلے سے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest