قسط ٢۔

عاٸشہ تم اکیلے نہ آیا کرٶ کالج ۔۔میں تمھیں پک کر لیا کروں گی “۔ کالج کا پہلا دن تھا عاٸشہ اور ارسہ گراونڈ میں بیٹھی تھیں ۔ دونوں نے ایک سے مضامین کا چناٶ کیا تھا۔

  ابھی تو حمزہ  یا نوفل آ جاتے ہیں ساتھ۔ لیکن میں سوچ رہی تھی کہ اکیلے آیا جایا کرٶں۔” عاٸشہ نے کہا ۔

 اکیلے کیوں ۔ مجھے بھاٸی چھوڑ جاتے ہیں ۔کل سے تم ہمار ے ساتھ آیا کرو۔ ارسہ نے خوشی خوشی آفر کی۔

ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔ مجھے آج یہ اکنامکس کی کچھ خاص سمجھ نہیں آٸی ۔ عاٸشہ نے ہامی بھرتے ہوۓ کہا ۔

پلے تو میرے بھی کچھ نہیں پڑھا گھر جا کر دوبارہ پڑھوں گی تو شاید کچھ سمجھ آہی جاۓ ۔ ارسہ نے گردن ہلاتے ہوۓ کہا ۔

سوچ میں بھی یہی رہی ہوں۔ عاٸشہ نے ارسہ کی ہاں میں ہاں ملاٸی ۔اتنی دیر میں اگلے پریڈ کا وقت ہو گیا وہ دونوں اٹھیں اور کمرہ جماعت میں چلی گٸیں ۔

عاٸشہ تم ابھی کیسے جاٶ گی ؟ اکیلی یا کوٸی آٸے گا ۔ارسہ نے پوچھا ۔

حمزہ نے آنا ہے تمھیں لینے کون آۓ گا ۔ عاٸشہ نے پوچھا ۔

ابو آٸیں گے یا علی آۓ شاید ۔ عاٸشہ نے کہا ۔

وہ دونوں باتیں کرتیں کرتیں کالج کے دروازے تک جا پہنچی ۔ دروازے پر جن لڑکیوں کو ساتھ لے جانے کے لے گھر سے آۓ تھے ان کا ہجوم تھا ۔

جن لڑکیوں نے اکیلے گھرجانا تھا وہ ایک ایک کر کے کالج سے نکل رہی تھی۔ حمزہ ایک جانب کھڑا عاٸشہ کا انتظار کر رہا تھا ۔

۔وہ رہا حمزہ ۔عاٸشہ کی حمزہ پر نظر پڑی تو وہ چہک کر بولی۔

تم جاٶ ۔۔ارسہ نے لوگوں کے ہجوم پر ایک نظر ڈالتے ہوۓ کہا۔

ارے ایسے کیسے جاٶں جب تک تمھارے گھر سے کوٸی نہیں آتا میں یہیں ہوں۔ عاٸشہ نے بھی ہجوم پر نظریں دوڑاٸیں۔

یار ۔۔حمزہ بےچارہ نہ جانے کتنی  دیر سے کھڑا ہو۔ ارسہ نے فکرمندی سے کہا ۔

کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔عاٸشہ نے کہا ۔۔

وہ دیکھو ۔۔علی بھی آ گیا ۔ ۔۔علی ارسہ کو لینے آیا تھا اس نے حمزہ کو دیکھا تو اس کے پاس جا کے کھڑا ہو کے باتیں کرنے لگا ۔

اب ان دونوں کو کوٸی احساس نہیں ہونا کہ یہ کسی کو لینے آۓ ہیں۔ عاٸشہ نے ہنستے ہوۓ کہا ۔

چلو ۔۔۔ورنہ ہم گیٹ پر اور یہ دونوں گیٹ کے باہر سارا دن گزار دیں گے ۔ ارسہ نے خوش کن لہجے میں کہا اور انھوں نے باہر کی جانب قدم بڑھا دیے ۔

علی کے پاس موٹر باٸیک تھا جبکہ حمزہ اور عاٸشہ نے پیدل جانا تھا ۔

حمزہ کل سے تم نہ آنا ۔میں ارسہ باجی کے ساتھ عاٸشہ باجی کو بھی لے آٶں گا ۔ علی نے حمزہ کے کندھے پر ہاتھ دھرتے ہوۓ کہا ۔

ٹھیک ہے بھاٸی ۔۔تیری مہربانی ۔ حمزہ نے شکرگزارلہجے میں کہا ۔ ۔۔۔

ذمہ داری سے جان چھڑانا کوٸی تم سے سیکھے حمزہ ۔۔۔عاٸشہ نے سرزنش کی ۔

علی جب ارسہ کو کالج لے جاۓ گا تو تمھیں بھی لے جاۓ گا ۔۔اگر میرے پاس باٸیک ہوتی تو یہ ذمہ داری میں اٹھاتا ۔۔حمزہ نے کہا

………………………………………………………………


حویلی میں پنجاٸیت سجی تھی ۔ گاٶں کے سر کردہ لوگ بیٹھے تھے ایک نوجوان کو بھی بلایا گیا تھا جس پر الزام تھا کہ اس نے گاٶں کی ایک لڑکی کو ورغلایا تھا اور اسے گھر سے بھگانا چاہتا تھا۔ چوہدری عدیم سب لوگوں کی راۓ سن رہا تھا۔ لڑکی کا باپ دہایاں دے رہا تھا ۔ “چوہدری جی میں غریب ہوں لیکن عزت دار ہوں ۔ میں اپنے خاندان سے باہر کیسے دے دوں لڑکی” ۔ وہ مزارع تھا ۔
“اور لڑکی جو بھاگ گٸی تو “۔۔۔چوہدری عدیم کے پاس بیٹھے بزرگ نے پوچھا ۔
بھاگ کیوں گٸی ۔ میں اس کو مار دوں گا” ۔ مزارع غصے سے بولا۔
‘اگر مارنا تھا تو یہاں کیوں آۓ ہو ؟ مسٸلے کا حل نکالنا سیکھو ۔ جان سے مارنا بہت آسان ہے “۔ چوہدری عدیم نے سب باتیں سن کر کہا ۔ “چوہدری جی تو پھر میں کیا کروں ۔میری عزت خاک ہو گٸی”  ۔ مزارع رونے لگا ۔
“تیری  لڑکی نے بے وقوفی کی ہے ۔شفیع محمد۔ اور اب اس مسٸلے کو سمجھداری سے سلجھاٶ” ۔ چوہدری عدیم نے سوچتے ہوۓ کہا ۔
“کیا کروں چوہدری جی ۔۔اس لڑکی نے مجھے کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا “۔ مزارع کے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو پیٹا ۔ “چوہدری صاحب میں تو کہتا ہوں اس لڑکی کا نکاح اس کے اپنے ہی خاندان میں کسی سے کروا دیں ۔ آج کے آج “۔۔۔پنچوں میں سے ایک نے کہا ۔
“چوہدری صاحب میں بھی تو نکاح ہی کرنا چاہتا تھا لیکن شفیع چاچا مان ہی نہیں رہے “۔ مجرم لڑکے نے  دکھی لہجے میں کہا ۔
“چوہدری جی میں کیسے مانوں ۔۔یہ مراثیوں کا لڑکا ہے لوگ مجھ پر تھو تھو کریں گے”۔ مزارع نے اپنا دکھ بیان کیا ۔
مزارع جس کا نام شفیع محمد تھا کی بات پر بیٹھک میں خاموشی چھا گٸی۔
“اس لڑکے کا نکاح شفیع محمد کی بیٹی سے کروا دیں کیونکہ وہ بدنام ہو چکی ہے اور بدنام لڑکی کے لیے بہت مشکلات ہوا کرتی ہیں”۔ چوہدری عدیم نے کہا تو جیسے سب کو دھچکا لگا ہو ۔
“چوہدری صاحب” ۔۔۔شفیع محمد نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔
“شفیع محمد تیری جتنی عزت پورے گاٶں میں اچھالی جا چکی کیا کافی نہیں ہے ؟ اب رہی سہی کسر کسی اور سے نکاح کروا کر نکالو گے ؟ اگر تمھاری لڑکی شادی کے بعد بھی اس لڑکے کے ساتھ بھاگ نکلی تو کیا کرو گے”؟ ۔ چوہدری عدیم نے تفصیل سے بات سمجھاٸی ۔
ان کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی ۔ اس پنجاٸیت میں علی ان کے ساتھ بیٹھا تھا ۔
عثمان اور ابوبکر کو چوہدراہٹ سے کوٸی دلچسپی نہ تھی ۔
شفیع محمد نے چوہدری عدیم کی بات سنی تو سوچ میں پڑ گیا ۔
“باتیں تو سب کی سب ٹھیک تھیں۔ لیکن چوہدری صاحب میں اس کی شادی کے بعد اس سے کوٸی رابطہ نہ رکھوں گا” ۔ شفیع محمد نے آخری حربہ کے طور پر کہا ۔
“شفیع محمد رابطہ رکھو یا نہیں ۔ عزت کو بچاٶ”۔ چوہدری عدیم نے کہا اور سب اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔
پنجاٸیت برخاست ہوٸی تو علی اور چوہدری عدیم دونوں گھر کے اندرونی حصہ میں چلے آۓ۔
چوہدری عدیم کی آنکھیں غم و غصے کی ملی جلی کیفیت کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں ۔
“چوہدری صاحب یہ آپ کی آنکھیں کیوں اتنی سرخ ہو رہی ہیں “۔ ثمرین نے اپنے شوہر کی آنکھوں میں سرخی دیکھی تو پوچھنے لگی۔
“ثمرین پہلے ایک کپ چاۓ بنا دو”۔ چوہدری عدیم نے اپنے ہاتھ سے سر کو دبایا ۔
علی بھی صوفے پر آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔
“میں بناتی ہوں امی” ۔۔۔ارسہ جو ابھی کچن سے ہی باہر نکلی تھی اس  نے باپ اور بھاٸی کو دیکھا تو واپس مڑ گٸی ۔
“چوہدری جی ۔۔مجھے بتاٸیں تو سہی کہ ہوا کیا ہے” ؟ ثمرین نے پریشانی سے پوچھا ۔
“امی ۔۔چاچا شفیع محمد کی بیٹی نے مراثیوں کے لڑکے کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کی ہے”۔ علی نے باپ کو مشکل سے نکالتے ہوۓ کہا ۔”میں کہتی ہوں یہ آج کل اولادوں کو کیا ہوا ۔ اپنے پرکھوں کی محنت سے کماٸی ہوٸی عزت کو پاٶں تلے روند ڈالتے ہیں “۔ ثمرین نے قدرے غصے میں کہا ۔
“بس ثمرین باپ کی محبت پر اس لڑکے کی محبت حاوی ہوگٸی “۔  چوہدری عدیم نے اداسی سے کہا ۔
“چوہدری صاحب!.. کیا ہو گیا ہے آپ کو “۔۔۔ثمرین نے پریشانی سے کہا ۔
“آج ایک باپ کا شرم سے جھکا ہوا سر دیکھ رہا تھا میں ۔گاٶں والے ٹھٹھے اڑا رہے تھے اس کے” ۔ چوہدری عدیم نے دکھ سے کہا ۔
“امی !۔۔چاچا شفیع کی حالت قابل رحم تھی ۔ بڑا دکھ ہو رہا تھا “۔ علی نے اپنا سر دباتے ہوۓ کہا ۔
“ابو! ۔۔۔میں تو کہتی ہوں یہ تو امتحان ہوتا ہے ماں باپ سے پیار کا امتحان” ۔ ارسہ نے چاۓ کی پیالی باپ کو پکڑاتے ہوۓ کہا ۔
اگلے چند روز تک شفیع محمد کی بیٹی لوگوں کی باتوں کا مرکز رہی پھر آہستہ آہستہ لوگ اسے بھولنے لگے۔ لیکن یہ واقعہ ارسہ اور علی کے دماغ پر ثبت ہو کےرہ گیا
……………………………………………….
“ابا!.. مجھے باٸیک خریدنا ہے ۔ کچھ پیسے میرے پاس ہیں کچھ آپ دے دیں”۔ حمزہ قریشی اور اسجد قریشی اکٹھے بیٹھے تھے ۔
“ابو جی !۔۔بھاٸی صحیح کہہ رہا ہے ۔ باٸیک بہت ضروری ہے” ۔ نوفل جو ابھی ابھی باہر سے آیا تھا اور آتے ہی پنکھے کے نیچے کھڑا ہو گیا۔
“کچھ کر لیں گے ۔ تم لوگ فکر نہ کرو”۔ اسجد صاحب نے سوچتے ہوۓ کہا ۔
ان کے دونوں بیٹے قدمیں ان کے برابر آ چکے تھے۔
“ہاۓ!…دہاٸی ہے کوٸی شربت پلاۓ” ۔ حمزہ نے عاٸشہ کو کمرے میں آتے دیکھا تو نوفل کو آنکھ ماری دونوں شرارت سے مسکرانے لگے۔ “میں بھی گرمی ہی سے آٸی ہوں میرے لیے کسی نے ہیلی کاپڑ نہیں بھیجا تھا “۔ عاٸشہ چلچلاتی دھوپ سے آٸی تھی اس کا دماغ پہلے ہی کھول رہا تھا۔
“ہاہاہا!۔۔۔۔۔یہ پانی پیو ۔۔کسی نے تمھارا نام لیا تھا”۔ رابعہ شربت بنا کر لا رہی تھی عاٸشہ کو دیکھا تو ایک گلاس اور لے آٸیں ۔ سب کو شربت کے گلاس تھماتے ہوۓ ہنسنے لگی ۔
“یہ حمزہ اور نوفل کہہ رہے تھے” ۔ عاٸشہ نے ماں کو شکایت لگانے کے انداز میں کہتے ہوۓ کتابیں اور بیگ صوفے پر اچھال دیا۔
“امی! ۔۔۔ہم نے کسی کا نام تو نہیں لیا” ۔ حمزہ نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔
“نام نہیں لیا لیکن دیکھا تو میری طرف نا “۔ عاٸشہ تنک کر بولی ۔
“حالانکہ دیکھ مگر پیار سے ۔ ٹرک کے پیچھے یہی لکھا ہوتا ہے” ۔ نوفل نے ہنستے ہوۓ کہا ۔
“نوفل کے بچے۔” ۔۔عاٸشہ نے غصے سے کہا ۔
“باجی! ۔۔نوفل سے پہلے حمزہ کے بچے ۔میں بڑا ہوں پہلا حق میرا ہے”۔ حمزہ نےکہا اور سب اس کی بات پر کھکھلا کر ہنس دیے۔ بات سے بات نکالنا حمزہ کا خاصہ تھا ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest