کہا جاتا ہے کہ ایک باعمل انسان کسی بے عمل فلسفی سے کہیں بہتر ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسا انسان جو ہر اچھائی، بھلائی برائی کو جانتا ہولیکن وہ اپنے عمل کو اپنے اوپر نافذ کرنے کی بجائے دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرنا چاہتا ہو۔ یعنی بھلائی کرنے کی بجائے بھلائی کی تبلیغ کرنے لگے۔ کچھ یہی حال ہمارے معاشرے کا ہو چکا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص نصیحت کرنا چاہتا ہے نصیحت پکڑنا نہیں چاہتا۔ یہ منافقت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
اگر آپ پورے ملک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، خصوصا فیس بک پر نظر دوڑائیں تو والدین کے احترام سے لے کر معاشرتی زندگی میں بھلائیاں پھیلانے کے بارے میں پوسٹس نظر آئیں گی۔ جبکہ حقیقت کی دنیامیں فیس بک پر پوسٹ کرنے والے خود اپنی پوسٹ سے متضادد رویہ اختیار رکھے ہوئے ہوں گے۔ وہ سب گناہ جن کی سنگینی جانے بغیر اک فیشن کے طورپر اپنایا جاتا ہے۔
1907ء میں فیڈرک روجزز نے اپنی کتاب seven deadly sins میں ایسے رویوں کو معاشرتی گناہ قراردیا۔جن رویوں کو فیڈرک نے معاشرتی گناہ قراد دیا وہ غرور، حسد، غصہ، شہوت پرستی، لالچ، بسیار خوری اور کاہلی ہیں۔ فڈرک روجزر نے تفصیلا ان رویوں کو تمام معاشرتی برائیوں کی جڑ قرار دیا ہے۔1925ء میں مہاتما گاندھی نے ہفتہ وار Young India میں اپنے ایک کالم میں معاشرتی گناہوں کے بارے میں لکھا جس میں انھوں نے خود غرضی میں لپٹی خوشی، بغیر محنت کے دولت، بغیر عمل کے علم، انسانیت کے بغیر سائنس، قربانی کے بغیر مذہب، اقدار کے بغیر سیاست کو تمام معاشرتی برائیوں کی جڑ قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ اگر یہ گناہ نہ کیے جائیں تو معاشرے کا ہر فرد ایک مکمل اور بہترین زندگی گزار سکتا ہے۔2007ء میں گوم پیٹر نے اپنی کتاب The Scandalous Gospel of Jesus میں اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے۔ اسی طرح 2010ء میں ٹیلر ایڈم نے Mobilizing Hope کے نام سے معاشرتی گناہوں کی تفصیل درج کی ہے۔ جبکہ 2011ء میں تھامس وبر نے معاشرتی کوتاہیوں پر مفصل لکھا۔
گاندھی جی کے برعکس قائداعظم محمد علی جناح نے دنیا کو تحریری شکل میں کچھ نہیں دیا لیکن اگر ان کے کردار اور ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو جن معاشرتی برائیوں کا ذکر گاندھی جی نے اپنے کالم میں کیا ان میں سے کوئی ایک بھی قائداعظم میں نہیں پائی جاتی۔قائداعظم نے اقتباس کے طور پر اپنے کردار کو پاکستان کے لوگوں کے درمیان چھوڑ۔


تاریخ کے اوراق پلٹتے جائیں تو ہمیں کئی اایسی مثالیں ملتی ہیں جو شخص بھی عمل اور اپنے کردار میں از خود ایک کتاب ہوں وہ فلسفہ تا تحریری اقتباس بہت کم چھوڑتے ہیں۔ اس کی عظیم ترین مثال حضرت علیؓ ہیں۔جو خانہ نبوت کی گود میں پلے، تیرہ برس کی عمر سے اسلام کے ساتھ ایک جری سپاہی کی حیثیت سے رہے۔ جس کو خود پیغمیر خدا ﷺ نے علم کا دروازہ قرار دیا لیکن اگر ان کے خطبات کے علاوہ مروجہ احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو انھوں نے نہایت ہی کم احادیث روایت کیں۔ ان کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروق ؓ، حضرت عثمان غنی ؓ تمام اصحاب عملا حضور ﷺ کے ساتھ رہے لیکن ان تمام اصحاب نے اپنی زندگیوں میں کوئی خاطر خواہ احادیث روایت نہ کیں۔ بلکہ خال خال ہی کوئی حدیث ان کے نام سے منسوب کی جاتی ہے۔لیکن اگر ان کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ازخود احادیث پاک کا چلتا پھرتا نمونہ نظر آئیں گے۔
یاد رہے! نیکی کے تمام اسباق نہ صرف سبھی جانتے ہیں بلکہ ہمیں اچھی طرح یاد بھی ہیں لیکن ان پر نہ تو کوئی عمل کرنا چاہتا ہے لیکن سب کی خواہش یہ ضرور ہوتی ہے کہ دوسرے ان تمام باتوں پر عمل کریں۔ہمارے عمل کی حد یہ ہوا کرتی ہے کہ فیس بک پر ایک پوسٹ کر دی جائے وٹس ایپ کا سٹیٹس لگا دیا جائے اور عملی زندگی میں اپنی ہی کہی گئی بات پر عمل نہ کیا جائے۔ جتنا ہم فیس بک پر نیک بنتے ہیں اگر اس سے آدھا بھی حقیقت میں نیک ہو جائیں تو معاشرہ بھلائی کا ایک بہترین نمونہ بن جائے گا۔ منافقت کا یہ عالم ہے کہ ہم حضورﷺ سے محبت کے دعویٰ دار ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا نعرہ بن چکا ہے۔ سیرت مبارکہ کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن ان کی سیرت مبارکہ پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہتے۔ اس کی بنیادی وجہ منافقت ہے۔ منافقت کو ہم نے اپنی فطرت ثانیہ بنا لیا ہے۔ اور اسی منافقت کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بیشتر برائیاں پنپ رہی ہیں
یہاں یہ بات قابل ِ غور ہے کہ جو غیر مسلم اسلام کو نہیں جانتے ان کے لیے مسلمانوں کی ذات ہی تفسیر اسلام ہے۔


1 thought on “کیا ہم منافق ہیں؟

  1. علم کا ایک قطرہ، جہالت کے سمندر سے بہتر ھے
    عمل کا ایک قطرہ، علم کے سمندر سے بہتر ھے
    اخلاص کا ایک قطرہ، عمل کے سمندر سے بہتر ھے

Leave a Reply to Naazir Abbas Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest