ہم دن ہی منایا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

اگست کے مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے طول و عرض میں جا بجا بکتے سبز ہلالی پرچم ،گلیوں محلوں میں لگے سٹال اور دن رات بجتے قومی اور ملی ترانے قوم میں جوش و جذبہ کی غماز ہے ۔ اگست کے آغاز سے ہی چہار جانب سبز رنگ نمایاں نظر آتاہے چاہے وہ فیس بک پر قومی پرچم کی ڈی پی ہو ، زیورات ہوں اورتو اور اب تو ملبوسات میں بھی سبز رنگ نمایا ں نظر آتا ہے ۔ آغاز اگست کے ساتھ ہی ملک میں چراغاں کیا جاتا ہے ، سرکاری عمارات کو قومی پرچموں اوربرقی قمقوں سے سجایا جاتا ہے اس کے علاوہ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے علاقے میں جلسے جلسوں کا اہتمام کرتی ہیں ۔ قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی روح پرور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ۔مساجد ، چرچوں اور تمام عبادت گاہوں میں ملک کی ترقی ،سلامتی اور خوشحالی کی خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں ۔ چودہ اگست تک یہ جوش و ولولہ برقرار رہتا ہے لیکن چودہ اگست کا دن گزر جانے کے بعد نہ صرف یہ جوش و ولولہ دھیما پڑ جاتا ہے بلکہ کاغذ کی بنی سبز جھنڈیاں گلیوں سڑکوں اور نالیوں میں گری ہو ئی ملتی ہیں جنھیں کوئی محبِ وطن شخص توچن کر سنبھالتا ہے لیکن جس نے ان جھنڈیوں سے گھر کو سجایا تھا اور اس جھنڈے کے عزت ووقار سے آگاہ نہیں وہ ان کے زمین پر گرنے ، نالیوں میں بہ جانے کا کوئی خیال نہیں رکھتا ، نہ ہی انھیں اس پرچم کی اہمیت اور عزت و احترام کا اندازہ ہے ۔



پوم آزادی ٗ پاکستان ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ یہ وطن جس میں آج ہم سکون کا سانس لے رہے ہیں صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے ہم اسلام کی سربلندی کے لیے خدمات سرانجام دے سکتے ہیں ، یہ سبز ہلالی پرچم صرف کپڑے کا یک ٹکڑا نہیں بلکہ یہ پرچم دنیا میں ہماری پہچان ہے اور زمین کا یہ ٹکڑا اسلام کی بقاء کا ضامن ، ہماری ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کی عزت و آبروکی حفاظت کا ضامن اور ہمارے نظریات کی حفاظت کے لیے ہمیں عطاء کیا گیا ہے ۔ یہ وہ زمین ہے جس میں بستے ہوئے ہم بلا روک ٹوک اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں ، راتوں کو سکون کی نیند سوتے ہیں ۔ جو لوگ نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کے خلاف ہیں ان سے میرا ایک سوال ہے کہ اگر ہندووں کے ساتھ ایک ملک میں رہنا آسان ہے تو کیا ہندؤ ، بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو سکون کا سانس لینے دے رہے ہیں ؟نہیں بلکہ مسلمانوں کی حالت ہندوستان میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ نظریہ پاکستان کے خلاف بولنے والے کیا یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کے بھائی یا بیٹے ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دئیے جائیں یا سرعام ان کی بہنوں ، بیٹیوں کی بے عزتی کی جائے یا انھیں بے گناہ ہوتے ہوئے بھی صرف مذہب کی بنیاد پر سزا دی جائے ؟نہیں۔ یہ سب برداشت کرنا آسان نہیں ۔



یا د رکھیے ! مقبوضہ علاقوں میں بسنے والے مسلمان بدتر زندگی گزار رہے ہیں، آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے اپنے بیٹوں ، اپنی بیٹیوں کی عزتوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔ انھیں بدتر مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار یہ ہے کہ ایک گائے کو ذبح کر دینے پر پورامسلمان خاندان تشدد کا شکار ہو جاتا ہے ۔پاکستان کے خلاف پاکستان میں بیٹھ کر زہر اگلنے والوں سے میری ایک گذارش ہے کہ بخدایہ وطن جیسا بھی ہے آپ کا اپنا ہے ، آپ کو اس سے رزق ملتا ہے ، آپ کی زندگی کی بقاء ،آپ کے بچوں کی حفاظت ، آپ کی دنیا میں پہچان اسی ملک، پاکستان کی وجہ سے ہے ۔جس کشتی میں آپ سوار ہیں اگر اس میں چھید کریں گے تو وہ کشتی ڈوب جائے گی اور اگر کشتی ڈوب گئی تو بچیں گے آپ بھی نہیں ۔بخدا بھارتی گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو نہ بھولیے ، بھارتی گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام ان کے مذہب کی وجہ سے ہوا ۔سمجھوتہ ایکسپرس کا سانحہ ابھی بہت پرانا نہیں ہو ا۔مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم سے کو ن واقف نہیں، دن بدن ان مظالم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک نظر فلسطین پر بھی ڈالیے جہاں نہتے مسلمان بچے تک بموں کا شکار ہو چکے ہیں ۔ مقبوضہ علاقوں کا دکھ ایک جانب برما ہی کو لیجیے جہاں چار چار سو مسلمانوں کو ایک ہی وقت میں قتل کر دیا جاتا ہے اور یہ قتل کسی بغاوت کو کچلنے کے لیے نہیں ، نہ ہی یہ کوئی دہشت گردی کی جنگ ہے بلکہ یہ نہتے انسان ، اپنے مسلمان ہونے کی وجہ سے مارے جاتے ہیں ۔صرف یہ نہیں مغربی ممالک جہاں مسلمان کئی کئی سالوں سے آباد ہیں وہاں آج تک ان کو اول درجہ کے شہری کی حیثیت نہیں دی گئی ۔ اور اگر دی بھی گئی تو ان سے متوازی سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ نرم بستروں پر سونے والے اور منرل واٹر کا استعمال کرنے والے اس جذبے اور اس دکھ کا اندازہ کیسے کر سکتے ہیں جس کے عوض ہمارے اجداد نے اپنے خون کا صدقہ دے کر ہمارے ہاتھوں میں زمین کا یہ ٹکڑا تھما دیا ۔ ان گنت لوگوں کے خون سے سینچی گئی یہ سرزمین اس لیے نہیں حاصل کی گئی تھی کہ اس میں بسنے والے اسی کو برا بھلا کہیں ۔آزادی ء رائے کا حق اپنی جگہ درست لیکن دھیان رہے آزادی رائے کے پیراہن میں اپنے ہی ملک کی برائی یا بدنامی کا سبب نہ بنیں ۔دنیا میں اپنے لفظوں کے ذریعے ملک کو ہر گز ہرگز بدنام نہ کریں ۔
ذرا سوچیے پاکستان ہے کو ن ؟ میں اور آپ ۔ ہم خود ہی معاشرہ ہیں اور ہم خود ہی پہچان ۔ ہم میں سے ہر شخص پاکستان کا سفیر ہے ۔ہر شخص چاہے وہ بیرونِ ممالک سفر کر رہا ہو ۔ جس کا تعلق میڈیا سے ہو ، وہ کوئی طالب علم ہو ، جو کھیلوں میں حصہ لے رہا ہو ، جو اعلیٰ عہدے پر متعین ہے ہم سب پاکستان کے سفیر ہیں ۔ ہم ایک اکائی ہیں ، دیوار میں ایک اینٹ کی حیثیت رکھتے ہیں ، اگر ایک اینٹ بھی درست نہ ہو تو پوری دیوار کمزور ہو جاتی ہے ۔اس لیے ہر اکائی کو ، ہر اینٹ کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہو گا اور اپنے حصے کا فرض ادا کرنا ہو گا ۔اگر ہر ایک شخص اپنے حصے کا فرض ادا کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پورے کا پورا معاشرہ از خود سدھر جائے اور یہ ملک جنت نظیر بن جائے ۔ ہمیں بحیثت قوم شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ مقدس زمیں عطاء ہوئی اس کا احترام کریں بلکہ کوئی ایسا عمل نہ کریں جو اس سرزمین کے لیے بدنامی کا سبب بن جائے



تہوار ، قومی دن منانا اس لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے جشن نئی نسل کو اپنی روایا ت اور اقدار کی منتقلی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ آج کے نوجوان کا جوش و جذبہ کل کے نوجوان کے لیے ایک سبق ہے ، جو کام آج کا نوجوان کرے گا کل کا نوجوان اس سے وہی سب سیکھے گا ایک نسل اپنے ہاتھوں سے اقدار ، روایات اگلی نسل میں منتقل کرتی ہے ۔ تہوار منانا ضروری ہے لیکن صرف تہوار منا لینے پر اکتفا کر لینا ہی عقلمندی نہیں بلکہ ملک کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کر نا از حد ضروری ہے ۔
آئیے! اس بات کا عہد کریں کہ یہ ملک جو اﷲنے ہمیں ایک نعمت کی طرح عطاء کیا ہے اس کی حفاظت کریں گے اور اپنے فکر و عمل سے یہ ثابت کر دیں گے کہ ہم اس ملک کی خاظر اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے ، اس ملک کی عزت کی خاطر ہر وہ کام کریں گے جس سے ہمارے ملک کا نام اقوامِ عالم کے درمیان ایک درخشاں ستارے کی مانند چمکے اور وہ تما م ممالک جن کی نظر میں پاکستان ایک کرپٹ ملک ، پاکستانی قوم ایک کرپٹ قوم کے طور پر جانی جاتی ہے وہ اپنے افکار پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest