از طرف : میمونہ صدف
ٹیکنالوجی میں ترقی اور سوشل میڈیا کی ہر خاص و عام تک رسائی نے دنیا کوگلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے ۔طبعی طور پر جن ممالک کے حالات کے بارے میں جاننا ایک صدی پہلے تک ناممکن تھا ۔اب ان ممالک کی خبریں ایک کلک میں مل جاتی ہیں ۔حالیہ وقت میں کسی بھی ملک کی خبریں با آسانی دوسرے ممالک میںنہ صرف سنی بلکہ دیکھی جا سکتی ہیں۔گذشتہ چند برس کے دوران الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی ایک بہت بڑی طاقت کے طور پر منظر عام پر آیا ہے ۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے استعمال نے عوام الناس کی رائے کو بھی انھی ویب سائٹس کا مرہون ِ منت بنا دیا ہے ۔ یہ بات بلا شبہ درست ہے کہ سوشل میڈیا نے دنیا بھر کے لوگوں کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ عوام کے اذہان کو کسی بھی جانب مائل کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے ۔ لوگ چاہے وہ پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ سوشل میڈیا کا استعمال ضرور کرتے ہیں۔معلومات کے میدان میں فاصلوں کے سکڑ جانے کی وجہ سے جہاں سچ کی تشہیر ممکن ہوئی ہے وہاں پراپگنڈہ اور جھوٹ کی تشہیر بھی عام ہوئی ہے ۔مختلف ممالک میڈیا اور سوشل میڈیا کو اپنیمخصوص نظریہ کی تشہیر وتر ویج کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔



حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے نام نہاد حملے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو ا ہے ۔ اس کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستانی حدود میں در اندازی کی جس کا جواب پاکستانی فضائیہ کی جانب سے بروقت دیا گیا اور بھارتیطیاروں کو واپس بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحدی حدود میں سرجیکل سٹرائیک کا نہ صرف دعوی ٰ کیا گیا بلکہ بھارتی میڈیا کے ہر چینل نے اس جعلی سرجیکل سٹرائیک کا واویلا کرنا شروع کر دیا ۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی ایک طوفان برپاکر دیا گیا ۔ پاکستانی افواج کے ترجمان نے اس کا جواب بڑی تفصیل سے اپنی پریس ریلز میں دیا ۔ بھارتی میڈیا اپنے عوام کے مورال کو بلند کرنے اور پاکستانی عوام کے دل و دماغ میں اپنی فوج اور دفاہی اداروں کے خلاف جذبات کو بھڑکانے کے لیے جھوٹی خبروں کی تشہیر کرتا رہا ۔ بھارتی میڈیا کا بھارتی فضائیہ کا پاکستانی حدود میں داخل ہونے کو سرجیکل سٹرائیک کا نام دینا بھارت کے پاکستان دشمن پراپگنڈا کا ہی ایک حصہتھا ۔بعد میں ہونے والے واقعات نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی افواج بھارتی افواج کی نسبت کہیں بہتر اور پیشہ ورانہ مہارت میں دنیا بھر کی افواج میں سرفہرست ہیں ۔ دنیا بھر کے میڈیا نے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ اور بھارتی میڈیا کی جھوٹی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ۔آئی ایس پی آر کی جانب سے بروقت درست اور جھوٹ سے پاک خبروں کی وجہ سے یہ ادارہ بہترین ادارہ کی صورت میں ابھرااور پاکستانی میڈیا کا کردارتما م عالم میں سراہا گیا ۔افواج پاکستان کے ترجمان ادارہ کے سربراہ نے سماجی رابطے کی سائٹ کا بہترین استعمال کرتے ہوئے دشمن پرنہ صرف اپنی نفسیاتی برتری قائم رکھی بلکہ بھارت میں بھی آئی ایس پی آر کی جانب سے کی گئی پریس ریلز کو مستند مانتے ہوئے اس تمام عرصہ میں سنا گیا۔یہی وجہ ہے کہ بھارت بھی اب آئی ایس پی آر کی طرز پر ایک ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
دوسری جانب سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ نیوزی لینڈ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے حملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملہ آور اپنے سر پر کیمرہ لگائے تمام کاروائی کو براہ راست سوشل میڈیا پر نشر کرتا رہا تاکہ مسلمانوں خصوصا یورپ میں مقیم مسلمانوں میں خوف وہراس پھیلایا جا سکے ۔اس طرح ان ممالک میں بھی یہ کاروائی براہ راست ان گنت لوگوں نے دیکھی جو نیوزی لینڈ سے بے انتہافاصلے پر واقع ہیں اور آن کی آن میں یہ وڈیو ڈائون لوڈ ایبل فارمیٹ میں تقریبا تمام ممالک میں پھیلا دی گئی ۔ بعد ازاں اسی سوشل میڈیا پر متاثرین کے لیے امداد کی درخواست بھی کی گئی ۔اسی سوشل میڈیا پر تمام لوگوں نے دہشت گرد ی کو پہچانااور مسلمانوں کا اصل چہرہ بالآخر دنیا کے سامنے آگیا ۔سوشل میڈیاکی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر سے لے کر ایک عام شخص تک اس پر نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے بلکہ اپنے خیالات پوری دنیا تک پہچا سکتا ہے ۔ ملکی سطح پر پاک فوج کے ترجمان ، وزیر ِ اعظم پاکستان اپنے زیادہ تر پیغامات ٹویٹر کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دیتے ہیں ۔ اگر کوئی عام آدمی اپنا پیغام عہدے داران کو پہنچانا چاہے تو اسی سماجی رابطے کی ویب سائٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔



یاد رہے ! موجودہ حالات میں عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔حالیہ حالات میں افواہوں کا بازار گرم ہے ۔ اگرچہ کسی بھی بڑی جنگ کا خطرہ وزیر اعظم پاکستان اور افواج ِ پاکستان کی بہترین حکمت ِ عملی کی وجہ سے ٹلتا نظر آتا ہے تاہم آج کل ہر ملک دوسرے ملک پر نفساتی فتح حاصل کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے اور اس کے لیے تمام ذرائع خصوصا سوشل میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ ملکی ساکھ اور اسلام کا درست چہرہ دنیا کے سامنے لانے کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیااور الیکٹرانک میڈیا کا درست استعمال کیا جائے اور پاک فوج کے ہر اول دستہ کے طور پر اپنا کردار ادا کیا جائے ۔ افواہوں اور غلط خبروں کی تشہیر سے بچنے کے لیے بنا تحقیق کسی بھی خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کرنے سے گریز کیا جائے ۔ اپنے ملک و ثقافت کے دفاع کو ممکن بنانے لے لیے عوام کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا مثبت استعمال کیا جائے اور کسی بھی ایسی بات کی تشہیر سے بچا جائے جو ملکی مفادات کے منافی ہو ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest