آہ! طویل علالت

ہمارے ملک میں بیمار ہونا بے حد آسان لیکن بیماری کی تشخیص ہو جانا از مشکل ہے ۔ایک بار آپ بیمار ہو جائیے پھر دیکھئے کیسے کیسے نایاب نسخہ جات سننے اور سہنے کو ملیں گے ۔ہماری صحت عموماً قابل مذمت نہیں رہتی ۔اگر ایسا کبھی کوٸی موقع آ بھی جاۓ تو ہم اپنے رشتہ داروں کو کانوکان خبر نہیں ہونے دیتے ۔ لیکن اس بار قسمت نے یاوری نہ کی اور ہم بیمار ہو گٸے ۔

آہ ! طویل علالت….

ہوا یوں کہ ہو گٸی اسہال کی شکایت ۔ ہم نے پرواہ نہ کرتے ہوٸے اسے ایک عام سا مرض سمجھا اور وہ بگڑ گیا ۔اگرچہ ہم نے عالم بالا میں جانے کی تیاری مکمل کر لی تھی تاہم ابھی مہلت تھی تو واپس اسی دنیا میں آن وارد ہوۓ ۔سب سے پہلے خاندان کے جن افراد کو علم ہوا ان میں اک دوست بھی شامل تھی ۔جو ہمیشہ ہی خون خوار انداز میں گفتگو فرمانے کی عادی ہیں ۔ہم ابھی عالم بالا کے سفر سے سنبھلنے نہ پاٸے تھے کہ ان کے ہاتھوں شامت آ گٸی۔پہلے تو ایک طویل لیکچر سے نوازا گیا ۔پھر پند ونصح

خاموشی سے ان کی گھن گرج سنی اور ہسپتال سدھار گٸے ۔یہاں جن خاتون نے ڈانٹ ڈپٹ کے فراٸض انجام دیے وہ الگ۔ ہم دل ہی دل میں سخت تلملاٸے کہ الہی یہ کیسا انداز تیمار داری ہے کہ ہر زورداری دوسرے پہ بھاری ہے ۔

صورت حال سنبھلنے نہ پاٸی تھی کہ ایک اور خاتون نے بزریعہ ٹیلی فون اطلاع دی کہ ہم پر شدید جادو ٹونہ کیا گیا ہے توڑ لازم ہے توڑ کے لیے ایک کالا بکرا لاٸیے ۔ہم نےسوچا کیا ہی اچھا ہو کہ یہ بکرا کوٸی ہمیں ہی دے جاۓ تو یقین کیجیے کہ ہمارا فرج بھی خوشی سے باغ باغ ہو جاۓ ۔اک صاحب فرمانے لگے کہ اسہال سے تو جان جایا کرتی ہے اللہ کو شدت سے یاد کیجیے تو دوسرے کہنے لگے ہر طرح کے گھی سے احتیاط کیجیے ۔




ایک مولانا صاحب کا خیال تھا کہ یہ بیماری تو کٸی بیماریوں کی جڑ ہوا کرتی ہے ۔آپ بکرے کی یخنی پیجیے تو دوسرے نے کہا بکرا آپ کے لیے زہر قاتل ہے اس سے بچیے ۔ابھی دم لیا ہی تھا کہ اک پیغام ملا کالا مرغا صدقہ کیجیے ۔ہم نے سوچا کہ کچھ برا بھی نہیں اگر بھنا ہو تو صدقہ ہمارے پیٹ میں غل نہ کرے گا ۔ اسی اثنا ٕ میں کسی نے کہاقہوہ نوش جان کیجیے تو کسی نے قہوے کو کہاقاتل ۔ہم شش وپنج سے نکلے نہ تھے کہ ہو گیا اک مزید فتوی صادر ۔

دہی میں کھاٸیے اسپغول کا چھلکا ۔دہی جو لاٸے تو تھی وہ کھٹی ہو گٸی حالت مزید کچھ خراب۔ اسپغول سے پیٹ ہوا مزید کچھ برہم۔ خیر ! رات جو باقی تھی بات بھی باقی تھی ۔اک خاتون کہنے لگی بظاہر یہ عام ہے مگر نہیں عام ہے یہ آغاز۔اب ہوگا یرقان ہو جاۓ گا سماعت پہ اثر نظر بھی آٸے گا کم کم ہڈیاں بھی چٹخیں گی تمام ۔کہنے لگیں تشنج بھی ہو سکتا ہے ۔ہم ہونق بنے انہیں سنتے رہے ۔بس وہ یہیں نہ رکیں بلکہ مزید گویا ہوٸیں رشیدہ کا بیٹا بھی اسی بیماری سے مرا تھا ۔وہ یقینا ہمیں قبر کی منزلیں بھی طے کروا دیتیں بس والدہ نے ان کی توپوں کا رخ ان کی بہو کی جانب کر دیا اور ہم بچ گٸے ۔
کچھ احوال ہسپتال کا بھی ملاحظہ ہو ہم اکیلے تھے اور خوشی خوشی ڈرپ لگوا رہے تھے ہمارے پہلو میں کسی مریض کی والدہ کو اچانک ترس کا دورہ پڑا فرماتی ہیں ۔اکیلی ہو ؟

کیا کوٸی ساتھ نہیں آیا ؟

ہمارے جی میں آٸی کہیں نہیں اک بھوت کو ساتھ لاۓ ہیں ۔لیکن اس سے بات بڑھ سکتی تھی اماں مر سکتی تھی ۔سو ہم نے صرف نہیں پر اکتفا کیا ۔

وہ مزید ترس کے سمندر میں غوطے کھانے لگیں ۔اللہ کوٸی بھی نہیں تمہارا ؟ تم خود کو اکیلے نہ سمجھو ۔مجھے اپنی ماں سمجھو ۔ہمارے دل میں خیال آیا کہ کہیں اماں بی دو پراٹھے ہی پکا دو لیکن خاموش رہے اتنی دیر میں نرس نے آ کر کہا ٹیکا لگے گا درد ہو گا۔ ہم نے نرس کی مونہی صورت دیکھی اور مسکرا کر کہا کوٸی بات نہیں لیکن ہمارا مسکرانا ہمیں راس نہ آیا۔نرس نے کینولا لگانے کی کوشش میں ہماری بازو کو داغ داغ کر ڈالا۔ بالآخر کینولا لگا کر پے در پےتین سےچار ننھی منی ڈرپیں لگاٸی ۔ ہم ڈرپ کے قطرے گنتے رہے ،مسکراتے اور غم مناتے رہے ۔ جب لوٹ کے گھر پپہنچے تو اک ہمساٸی آن ٹکراٸی ۔چھوٹتے ہی بولی ۔شکر ہے آپ بچ گٸی ورنہ تو کوٸی نہ بچا۔ہم اسی حیرانی میں تھے کہ انھیں ہمارے بچنے کی خوشی ہے یا غم ؟؟

خیر، کرتے کراتے اک ماہ کے بعد ہماری حالت سنبھلی اور ہم نے خدا کا شکر ادا کیا

https://fqdupdates.com/%D8%A2%DB%81-%D8%B7%D9%88%DB%8C%D9%84-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%84%D8%AA/




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest