11 ستمبر 2001ء کو امریکہ میں رونما ہونے والے واقعہ کے بعدامریکہ کی جانب سے طالبان کے خلاف جنگ کااعلان کیا گیا ۔ اسی اعلان کو لے کر امریکہ نے افغانستان کے خلاف فوجی کاروائی کا آغاز کر دیا اور اس جنگ کو کروسیڈ (صلیبی جنگ )کا نام دیا گیا ۔ عرصہ 17 سال سے امریکہ اور اس کی اتحادی افوا ج طالبان کے ساتھ افغانستان میں نبر د آزما ہیں ۔امریکہ کی وہ نسل جو اس جنگ کے آغاز میں پیدا ہوئی آج اس جنگ کا ایندھن ہے ، یہی حال افغان مجاہدین کا بھی ہے ۔ تاہم ابھی بھی افغان مجاہدین افغانستان کے ستر فیصد حصہ پر قابض ہیں ۔ جو ا مریکہ ایک سپر پاور ہونے کے زعم میں افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا،آج یہ ماننے پر مجبور ہے کہ افغانستان میں افغان مجاہدین سے مذاکرات کیے بنا امریکی اور اتحادی افواج کا اس ملک سے انخلا ء ممکن نہیں۔ تاہم امریکہ کو اب اس جنگ سے جلد از جلد نکلنا ہو گا ۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اس جنگ کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑی ۔ اس جنگ میں اتحادی افواج کی کثیر تعداد ہلاک ہوئی جن میں سی آئی اے کے افراد بھی شامل ہیں ۔جانی نقصان کے علاوہ امریکہ کو کثیر مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے امریکہ کو اپنی فضائی اور زمینی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت دی ۔
اگرچہ امریکہ کی طالبان کے خلاف جنگ جاری ہے تاہم امریکہ یہ جان چکا ہے کہ وہ یہ جنگ مسلسل ہار رہا ہے ۔ امریکی چیف آف جوائٹ سٹاف نے طالبان کے خلاف جنگ میں ہار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان افغانستان میں کمزور نہیں ہو رہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مرے خیال میں یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہو کا ہمیں طالبان کے ساتھ بات چیت سے معاملات طے کرنا ہوں گے ۔امریکہ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہیے ۔ 17 سال کی مسلسل جنگ ،دونوں جانب سے جانی اور مالی کے بعد اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرنپ کو مذاکرات کے ساتھ امن کی جانب قدم بڑھانا چاہیے ۔ امریکی پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ افغانستان سے نکل گیا تو افغا ن حکومت کو گرا دیا جائے گا ۔پاکستان کے حالیہ وزیر اعظم نے (جب یہ اپوزیشن میں تھے ) ایک بیان میں کہا تھا کہ ہمیں افغانستان کو امن کا ساتھی بنانا چاہیے نہ کہ جنگ کا ـ ۔
این بی آر کے شائع کردہ ایک مقالہ کے مطابق امریکہ کو اس جنگ میں براہ راست ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنا پڑے ۔ ایک امریکی سکالر نے اپنے تحقیقاتی مقالہ میں لکھا ہے ۔ہمارے ملک (امریکہ) کی طویل ترین جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے ہمارے وسائل ضائع ہو رہے ہیں اور ملک کے لیے سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو اہے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کو افغان جنگ کو ایک منطقی انجام تک پہنچا دینا چاہیے۔ ایک رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چاہے جتنی بھی اتحادی افواج افغانستان کی جنگ میں جھونک دی جائیں ، اس میدان جنگ میں فتح حاصل کرنا ممکن نہیں ۔
دریں اثناء امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے اور انھیں دعوت دی ہے کہ اس جنگ کو مذاکرات کے



ذریعے ختم کیا جانا چاہیے ۔ ماضی میں سابق صدر بارک اوبامہ کے دور میں بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے گئے تاہم ان مذاکرات کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آ سکے ۔ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے افغان مجاہدین کے ساتھ ماسکو کے مقام پر مذاکرات کیے گئے ۔ ان مذاکرات میں پاکستان ، کابل حکومت ، امریکہ ، ایران اور افغان مجاہدین کے نمائندے شامل ہوئے ۔ امریکی اور افغان مجاہدین کے نمائندوں بالترتیب زلمے خلیل زاد اور سابق افغان ملٹری چیف محمد فضل کے درمیان تین روزہ ملاقاتیں بھی ہوئی ۔ ان ملاقاتوں میں افغان مجاہدین نے صدارتی انتخابات ملتوی کرنے اور غیر جانبدار قیادت کے تحت عبوری حکومت کی تجویز دی ۔ جبکہ عبوری حکومت کے لیے تاجک اسلامی سکالر عبدالستار سیرت کا نام پیش کیا گیا ۔ امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے فوری جنگ بندی کی تجویز پیش کی جس کو افغان طالبان کی جانب سے رد کر دیا گیا ۔ دوسری جانب افغان طالبان کا ایک سفارتی دفتر پچھلے چند برس سے قطر میں کام کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے مطابق نیٹو فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہا ر کیا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق چھ ماہ میں 1690 سے زائد شہری ہلاکتیں اور 3430 سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔
یاد رہے ! امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی افغان جنگ سے پورا خطہ متاثر ہوا ہے ۔ جس میں پاکستان کا نقصان سرِ فہرست ہے ۔امریکہ ، پاکستان کو اس جنگ میں ہونے والے نقصانات کے لیے مورد ِ الزام ٹھہراتا رہا ہے ۔گاہے گاہے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کے خلاف بیانات داغتے رہے ہیں۔گزشتہ ماہ ہی امریکی صدر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے امریکہ کے لیے کچھ نہیں کیااس لیے امداد بند کی۔اس انٹرویو کے جواب میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے زبردست ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکی صدر کو ریکارڈ درست کرنے کا بھی مشورہ دے ڈالا۔ عمران خان نے کہا کہ نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا،لیکن اس کے باوجود ہم نے دہشت گردی کیخلاف امریکا کی جنگ میں ساتھ دیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 75 ہزار پاکستانیوں نے جانیں قربان کیں،کیا ٹرمپ اور کسی اور اتحادی کی اتنی قربانیوں کی مثال دے سکتے ہیں ،پاکستان نے امریکا کو زمینی اور فضائی راستے دیئے ،اس جنگ نے پاکستانیوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا،ہمارے قبائلی علاقے تباہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو 123 ارب ڈالرزسے زائد کا نقصان ہوا جبکہ امریکا نے صرف 20 ارب ڈالرز امداد دی،انہوں نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 1لاکھ 40ہزار نیٹوافواج ،2لاکھ 50ہزار افغان فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود امریکہ نے افغان جنگ کیوں نہ جیتی، ایک ٹریلین ڈالرزخرچ کرنے کے باوجود طالبان آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے امریکا افغانستان میں ناکامیوں پر غور کرے۔
درحقیقت پاکستان نے اس جنگ میں اپنے ستر ہزار سے زائد افراد کی قربانی کے ساتھ ساتھ کثیر مالی نقصان بھی اٹھایا ہے ۔ افغانستان کے ساتھ جڑی سرحد جو پہلے پاکستان کے لیے ایک محفوظ سرحد تھی اب وہ سرحد بھی محفوظ نہیں رہی ۔ اس سرحد پر پاکستان کو باڑ لگانا پڑی اور فوجی چوکیاں بنانا پڑی ہیں ۔دہشت گردی کی ایک طویل لہر نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا ہے جس کو روکنے کے لیے اور علاقے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے پاک فوج کو اپنے ہی علاقوں میں فوجی آپریشن کرنا پڑے ۔
واضع رہے کہ طالبان کے ساتھ افغانستان میں مزید جنگ امریکہ کے بجٹ پر بھاری بوجھ ہے ۔ اگر یہ جنگ جاری رہتی ہے تو امریکہ مزید معاشی بحران کا شکارہو جائے گا۔ مالی نقصان سے قطع نظر کئی قیمتی جانیں روزانہ کی بنیادوں پر ضائع ہو رہی ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے
https://www.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/islamabad/2019-01-10/page-9/detail-5




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest