کامیابی کا راز

یہ بحث ازل سے جاری ہے اور ہر زمانے کے لوگ یہ راز معلوم کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں کہ کامیابی کیا ہے ؟ کامیابی کن لوگوں کے قدم چومتی ہے ؟ ایک جیسی جسمانی اور ذہنی صلاحیت ہونے کے باوجود کچھ لوگ شہرت کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ گمنامی کی زندگی گزار تے رہتے ہیں ۔



کامیابی دراصل ایک فلسفے کا نام ہے ۔عموما کامیابی سے مراد لوگ ایک منزل کو پا لینا ہی سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ۔ کامیابی دراصل ایک مسلسل سفر اور ان تھک محنت کا دوسرا نام ہے ۔ ہمت نہ ہارنا اور ایک کے بعد دوسری منزل کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہی اصل کامیابی ہے ۔ایک منزل کو حاصل کرکے اس کامیابی پر اکتفا کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ یہ طرزِ عمل اورسوچ زوال کو دعوت دیتی ہے ۔ اور اس کے بعد ناکامیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ دیکھا جائے تو وقت ہر شخص کے لیے ایک ہیہی رفتار سے چلتا ہے ۔ ایک گھنٹہ ساٹھ منٹ جبکہ ایک دن چوبیس گھنٹوں پر ہی مشتمل ہوتا ہے ۔نہ تو وقت کی رفتار میں ردوبدل ہوتا ہے نہ ہی کمی بیشی ۔لیکن اس کے باوجود کامیابی کی دیوی چند لوگوں ہر مہربان جبکہ کچھ پر نامہربان رہتی ہے ۔ کامیابی کی دیوی صرف ان پر مہربان ہوتی ہے جو اناپنے وقت کو فضولیات میں ضائع نہیں کرتے بلکہ اپنے وقت کے ایک ایک لمحے کی قدر کرتے ہوئے اسے احسن اور پر عمل طریقے سے گزارتے ہیں ۔ وہ نہ تو منصوبہ بنانے میں وقت صرف کرتے ہیں اور نہ ہی راہ کا تعین کرنے میں بلکہ وہ زیادہ وقت کام کرنے میں صرف کرتے ہیں ۔کیونکہ صرف منصوبہ بنا لینا، خواب دیکھ لینا کافی نہیں بلکہ اس منصوبے کو پورا کرنے لیے محنت کرنا ضروری ہے ۔ قرآن پاک میں اﷲہمیں کامیابی کا راز کچھ یوں بتاتا ہے ۔
بے شک انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے ۔
کامیابی کے زینے طے کرنے کے لیے صرف محنت کرنا ضروری نہیں بلکہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی منزل کا تعین کرنا اوردرست سمت میں محنت کرنا ضروری ہے ۔
یہ بات نہایت اہم ہے کہ آپ کو علم ہو کہ آپ کی منزل ہے کیا؟اور آیا آپ یہ منزل حاصل کرنے کے اہل ہیں بھی یا نہیں ؟؟؟اس منزل کو حاصل کرنے کے لیے کون سا راستہ بہترین ہے ؟؟؟ منزل کا تعین اوراس کے بعداس منزل کو حاصل کرنے کے لیے صحیح سمت کا تعین کرنا ضروری ہے۔اگر سمت کا تعین درست نہ ہوتو انسان چاہے جتنی کوشش کرتا رہے وہ کامیاب نہیں ہو سکتا بلکہ بے نیل و نامراد ہی رہتا ہے ۔اگر اپنی منزل کا تعین اس طرح سے کیا جائے جس کو حاصل کرنے کی آپ صلاحیت نہ رکھتے ہوں تو آپ کبھی بھی وہ منزل حاصل نہ کر پائیں گے بلکہ الٹا کسی اور منزل کا تعیں کرنے میں بھی ناکام رہیں گے ۔ اور ناامید ہو کررہ جائیں گے ۔ اپنی صلاحیتوں کو پرکھنے اور ایک دفعہ فیصلہ کر لینے کے بعداگر اس منزل کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا جائے ، اور کوئی مشکل پڑنے پر ناامید نہ ہوتو کوئی وجہ نہیں کہ منزل حاصل نہ ہو پائے ۔کامیاب شخص وہ ہے جو ایک غلط فیصلے کو بھی درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا اور پھر اس خواب کی تعبیر کے لیے ان تھک کوشش کرناہی کامیاب لوگوں کا شیوہ ہے ۔



کامیابی حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ ذہانت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کامیابی کادارومدار 1% ذہانت جبکہ 99% محنت پر ہے ۔ دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی حالاتِ زندگیکا مطالعہ کیا جائے تو ان سب میں ایک ہی بات مشترک نظر آتی ہے اور وہ ہے بے انتہا کوشش ، اور self motivation ۔اگر دیکھاجائے تو ان لوگوں نے ایک منزل کا تعین کیا اور پھر اس سمت کا جو انھیں منزل تک لے جائے ۔اس کے بعد یہ تمام لوگ حوادثِ زمانہ سے نہیں گبھرائے اورانھوں نے برے سے برے حالات میں بھی اپنی کوشش کو ترک نہیں کیا ۔کامیاب لوگوں کی چند زندہ مثالوں میں قائداعظم کی مثال روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انھوں نے پاکستان حاصل کر لینے کے بعد بھی محنت کا دامن نہ چھوڑا ۔ یہاں تک کہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔صرف قائدِ اعظم ہی نہیں تحریک پاکستان میں شامل تمام لوگوں نے ہندوؤں اور انگریزوں کے کسی ہتھکنڈے کے سامنے ہتھیار نہیں پھینکے ۔ بالکل اسی طرح اگر کارل مارکس اپنی غربت سے تنگ آکر اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا تو آج دنیا میں مارکسزم ( کمیونزم ) کا نام و نشان تک نہ ہوتا ۔کارل مارکس بھی اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک اپنے مقصد کی خاطر کام کرتا رہا ۔
اس کے برعکس ناکامی کا تعلق منزل حاصل کرنے سے قاصر رہنا نہیں ہے بلکہ اپنی ہار کو مستقل مان لینااوردوبارہ سے کوشش کرنے سے انکار کر دینا ہی اصل ناکامی ہے ۔ایسے لوگ جنہوں نے منزل کا تعین کرنے میں یا متعین منزل کی راہ میں پڑنے والی مشکلار سے ڈر کر ہمت ہار دی ان کا آج نام و نشان تک نہیں ملتا ۔ جو یہ چاہے کہ کوئی ابنِ مریم آئے گا اور اس کی مشکلات کو حل کرے گا ۔ پریشانیوں سے نجات دلائے گا ، ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو پاتے ۔ وہ نہ تو اپنی زندگی احسن طریقے سے گزار پاتے ہیں اورنہ ہی اپنی نسلوں کے لیے کچھ کر پاتے ہیں ۔ تساہل پسندی ہی ناکامی کا پہلا سبب ہے ۔
اجتماعی سطح پر تاریخِ اقوامِ عالم گواہ ہے کہ قوموں کے زوال کا سبب بھی ایک منزل حاصل کر لینے پر ہی اکتفا کر لیناہی ہے ۔ اس ایک کامیابی کا جشن مناتے رہنا اور اگلی منزل کو بھول جانا ہی زوال کی پہلی سیڑی ہے ۔کیونکہ اقوامِ عالم دن بدن ترقی کے زینے طے کر رہی ہیں ، نئی سے نئی ایجادات پرانی ایجادات کا متبادل بنتی جا رہی ہیں ۔ ایسے میں اگر کوئی قوم ایک ہی کامیابی کو باعثِ فخر سمجھ کر اسی پر اکتفا کر لے تو وہ دوسری اقوام سے پیچھے رہ جائے گی ۔



آج کل ہمارا انفرادی اور اجتماعی طرزِعمل تساہل پسندی اوربے عملی کا غماز ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ کوئی ابنِ مریم آئے اورملک وعوام کو مالی اور معاشرتی مسائل سے نکالے ۔ہم میں سے کوئی شخص یہ نہیں چاہتا کہ وہ محنت یا کوشش کرے۔ہم گفتار کے غازی توہیں لیکن عمل سے بے بہرہ ۔کوئی بھی حکومت یا کوئی بھی حکمران اس وقت تک ملک کی حالت نہیں بدل سکتا جب تک کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی میں محنت اور عمل کو اپنا شیوہ نہ بنا لے ۔ تمام مسائل کا حل خود ہمارے ہاتھوں میں ہے ۔ جب تک پہلی اکائی سے لے کر آخری اکائی تک ہرشخص ، اپنی اپنی جگہ پر کوشش نہیں کرے گا ہمارے نہ تو ملکی حالات میں تبدیلی آئے گیاور نہ ہی معیشت میں بہتری آئے گی ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest