اہم اور غیر اہم میں امتیاز کیجیے 

ایک حکایت ہے کہ اگر ایک خالیٍ گلاس میں ریت ، چند پتھر اور چھوٹے سائز کی کنکریاں ڈالی جائیں اور اس ترتیب سے ڈالی جائیں کہ سب سے پہلے پتھر ڈالے جائیں ، پھر چھوٹی کنکریاں اور آخر میں ریت ڈالی جائے تو گلاس میں سب سما سکتا ہے ۔ لیکن اگر گلاس میں سب سے پہلے ریت بھر دی جائے تو کنکر اور پتھر اپنی جگہ نہیں بنا پائیں گے ۔ بالکل یہی حال ہماری نجی اور معاشرتی زندگی کا ہے ۔گلاس سے مراد اگر کسی شخص کی زندگی لی جائے توہماری نجی زندگی میں پتھروں سے مراد اہم ترین کام ، اہم ترین لوگ جیسے خاندان ، احباب ، اولاداور کھانا پیناہے کیونکہ ان کے بغیر زندگی گزارنا ناممکنات میں سے ہے جبکہ کنکر وہ تمام لوگ ،یا کام ہیں جو نسبتا کم اہم ہیں جیسے دوست، دفتر میں ساتھ کام کرنے والے افراد، ذرائع معاش، اشیائے ضرورت کی تلا ش کو ظاہر کرتی ہیں ۔اور ریت وہ تمام کام، وہ غیر ضروری مصروفیات ہیں جوزندگی کوبظاہر تازگی بخشتے ہیں لیکن ان کے بغیر بھی زندگی گرزاری جا سکتی ہے مثلا ٹی وی دیکھنا ، کمپیوٹر گیم کھیلنا یا فیس بک کا استعمال کرنا ۔اب اگر ان نسبتا غیر ضروری کاموں کو زندگی کیضروری کاموں پر ترجیح دی جائے اور اپنی زندگی کو ان کاموں میں اس قدر مصروف کر لیا جائے کہ قریبی رشتہ دار بے توجہی کا شکا ر ہو جائیں تو ا س کا مطلب ہے آپ نے گلاس کو ریت سے بھر دیا ہے ۔بے توجہی کے سبب ا ہم رشتوں کے درمیان اختلافات اور خلیج بڑھ جاتی ہے ۔اس بنا پر لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض اوقات خاندانی نظام در ہم برہم ہو جاتا ہے ۔ملک میں دن بدن بڑھتے ہوئی طلاق کی شرح کی ایک بڑی وجہ فریقین کی بے توجہی بھی ہے۔ ایک اچھی زندگی کے لیے اور کسی بھی قسم کے اختلافات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے وقت کو مناسب طریقے سے صرف کیا جائے ۔اہم اور غیر اہم کے درمیان خط امتیاز کھنچنا ضروری ہے ۔ رشتوں کی اہمیت کا اندازہ کر کے اپنے وقت کو بہتر طور پرصرف کرنے سے ہی زندگی میں آسانیاں اورخوشیاں لائی جا سکتی ہیں ۔ ہماری نیجی زندگیوں میں بڑھتی ہوئی پریشانیاں اور رشتوں میں دوریاں اسی رویے کی بدولت ہیں ۔عموما ہم اہم اورغیر اہم کے درمیان خط امتیاز نہیں کھینچ پاتے جس کی وجہ سے ہم اپنے وقت کو مناسب طور پر استعمال نہیں کرتے
یہی حال ہمارا اجتماعی سطح پر بھی ہے ۔ملکی سطح پر ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکا کہ اہم کیا ہے اور غیر اہم کیاَ ؟؟؟ کس مسلئے کو پہلے اور کس کو بعد میں حل کیا جانا چاہئے ۔؟؟؟ کون سا مسئلہ کس حد تک توجہ کا طالب ہے ؟؟؟
ڈیم بنانا ، زرعی زمیں میں موجود صلاحیت کو بڑھانا ، وسائل کی دریافت ، سائنس اور ٹیکنالوجی پرکام کرنا ، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ،کرپشن اور دہشت گردی کا مناسب سدباب اور ان کی نسبت غیر اہم کام وہ جلسے جلوس جو کاروبار زندگی کومعطل کر دیں ، ایسی لونگ مارچ جس میں موسم کی سختی کا خیال کیئے بغیر کئی دن تک لوگ اپنا کاروبار زندگی چھوڑ کر بیٹھے ہوں اورجس کا کو ئی نتیجہ نہ نکلے ، گھنٹوں کے ٹاک شوز ، بحث برائے بحث ، کلچرل فسٹیول اور سیاست دانوں کے بلند و بام دعوے وغیرہ شامل ہیں ۔



ہمارے ملک میں آج کل سب سے زیادہ بحث ڈالر کیقدر پر ہو رہی ہے ۔ڈالر کی قدریقیناًمعیشت میں ہونے والی ترقی کو ماپنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر ڈالر کی قدر ہی ملک کی معاشی صورتحال کا مظہر ہے
حالیہ دنوں میں ڈالر کی قدر پاکستانی روپے کی نسبت 107 سے کم ہو کر 98 روپے ہوئی ہے ۔پچھلے سال کی نسبت روپے کی قدر میں اضافے کے ساتھ انٹر ریٹ بھی مستحکم ہوا ہے ۔ڈالر کی قدر میں کمی کے اسباب پر ہر چینل پر بے تحاشہ بحث و مباحثہ ہو چکا ہے ۔۔ لیکن یہ صرف ایک کاغذی ترقی ہے جس کا زمینی ترقی یا غریب عوام کی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کی مالی صورت حال میں بہتری کا عندیہ دیا ہے۔ڈالر میں کمی کی بڑی وجہ سعودی عرب سے ملنے والی امداد ہے ۔ڈالرکی قدر میں کمی کا سبب کچھ بھی ہو۔لیکن معیشت کی صورت حال پراس کمی کا کسی قسم کا کوئی اثر نظر نہیں آتا ۔ ڈالر کی قدر میں کمی کا نقصان ان تمام کو ہوا جو ڈالر کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں۔انھوں نے یا تو خرید و فروخت ترک کر دی ہے یا فروخت میں اضافہ ہوا ہے جس سے روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ ۔ بجائے اس کے کہ عام آدمی کو ریلیف دیا جاتا اور مہنگائی میں کچھ کمی ہوتی ا س کے برعکس اشیائے صرف کی قیمتوں ، پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے ۔ گیس اور بجلی کے ریٹس میں اضافہ ہوا ہے ۔ نہ ہی برآمدات میں کوئی خاطرخواہ اضافہ نظر آتا ہے ۔بلکہ برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تمام خرید و فروخت ڈالر کے ذریعے ہوتی ہے ، اس وجہ سے پاکستان کی برآمدات کی قیمتوں میں 7% اضافہ ہوا ۔ ڈالر کی قدر میں کمی کے ساتھ اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوا یہی رقم جو ڈالر کی قدر میں کمی کرنے پر صرف کی گئی ہے اگر کسی ترقیاتی منصوبے پر خرچ کی جاتی تو یقیناًاس ملک کی معیشت پر نہ صرف بہتر اثرات مرتب ہوتے بلکہ زمینی ترقی سے اقوام عالم کی صف میں ملکی کا امیج بھی بہترہوتا۔ ملک کی معاشی ترقی کے لئے جو بھی اقدامات کئے جائیں وہ زمینی ہونے چاہیں تاکہ ان کے ثمرات عوام تک بھی پہنچ سکیں ۔ اور ملکی معیشت میں بھی بہتری آئے ۔
حکومتی اقدامات بالکل ایسے ہی ہیں جیسے حکومت گلاس کوریت سے بھر دینا چاہتی ہو ۔ اور پتھروں اور کنکروں کی حیثیت اور اہمیت سے قطعی ناواقف ہو۔۔ مستقبل کی پیش بندی کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا ۔بلکہ غیرضروری مسائل کوبے انتہااہمیت دے کر دہشت گردی ، کساد بازاری ، لوڈشیڈنگ اور دوسر ے اہم مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔میٹرو بس ہو ، ڈالر کی قیمتوں کا تعین ہو یا کسی فسٹیول کا انعقادیقیناًیہ اہمیت کے حامل ہیں لیکن یہ ان بنیادی مسائل جیسے بے روزگاری ، لوڈ شیڈنگ ، ڈیموں کی تعمیر جیسے مسائل کے برابر اہمیت نہیں رکھتے ۔ روز بروز آنے والے سیلابوں سے پھیلنے والی تباہی تک کو روکنے کے لیے کوئی سدباب کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ مٹھی اور تھر میں مرنے والے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ان بنیادی مسائل سے پہلو تہی کیے ہمارے منتخب نمائندے ایوان میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے نظر آتے ہیں ۔تنقید برائے تنقید کا کلچر عام ہو چکا ہے اور سیاست دان صرف ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں ۔
موجودہ وقت کا تقاضا ہے کہ اہم اور غیر اہم میں خط امتیاز کھنچا جائے اور یہ طے کرلیا جائے کہ ایسے کون سے فیصلے ہیں جو اس ملک کو زمینی ترقی کی راہ پر لے جائیں گے، جو ملک کی بقا کے لیے لازم ہیں اور جن کے اثرات براہ راست عوام تک پہنچیں گے اور جن کی ہماری کہ آنے والی نسلوں کو ضرورت ہے اورایسے کون سے فیصلے ہیں جوکہ اگر چھوڑ بھی دیے جائیں تو ملکی ترقی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ حکومت کو اس بات پر مضبوطی سے کاربند ہونا پڑے گا کہ ایسے اقدامات اور فیصلے کیے جائیں جو کہ ہماری آئندہ نسلوں کو ایک بہتر اور ترقی یافتہ پاکستان دینے کے لیے ضروری ہیں ۔ اگر ابھی بھی سیاست دان سیاست برائے سیاست سے باہر نہ نکلے اور ملکی مفاد سے بڑھ کر ذاتی مفاد کو اہمیت دیتے رہے تو پاکستا ن عالمی برادر ی



میں اپنا کھویا ہوا وقار کبھی بحال ں نہیں کر سکے گا ۔ اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest