“اے روح قائد ہم شرمندہ ہیں “

“25 دسمبرکو قائد اعظم کا یوم ولادت پورے جوش و خروش سے منایا جائے گا ۔”یہ خبر میری نظر سے جب گزری تو بے اختیار میرے دل میں خیال آیاکہ اس وطن عزیز کی سربلندی کے لیے کیا صرف اپنے محبوب قائد کی ولادت کے دن کو منا لینا کافی ہے ؟
تو میرے ہم وطنو !یہ کافی نہیں ہے۔قائد اعظم کا نظریہ ، اور علامہ اقبال کا خواب آج کا پاکستان نہیں تھا ۔ جو اپنے بہترین جغرافیائی حدود اربعہ،اور اپنی مٹی میں سموئے ان گنت وسائل کے باوجود اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے ۔ جہاں کساد بازاری اور دہشت گردی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے ۔”پرانی نسل نے ہمیں سوائے افلاس جہالت اوربے روزگاری کے کچھ نہیں دیا تو ہم اپنی اگلی نسل کو کیا دے کر جائیں گے ؟؟ “۔۔۔۔یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ہم میں سے شاید کسی کے پاس نہیں ۔۔ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک کٹا پھٹا پاکستان دینے جا رہے ہیں ۔جہاں انھیں دہشت گردی ، کساد بازاری، کرپشن اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامناکرنا ہو گا ۔اگر پچھلی نسل نے اہمیں ایک کمزور معیشت دی ہے تو ہم بھی تو اس معیشت کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کر پائے،ہماری نسل نے بھی اس وطن عزیز کو بظاہر کچھ نہیں دیا ۔خواص تو خواص عوام نے بھی کبھی دیانت داری ، امانت داری کا مظاہرہ نہیں کیا ۔آنے والے وقت کا مؤرخ ہمیں ایک تساہل پسند، بے حس اور بد دیانت قوم کے طور پر رقم کرے گا ۔بحثیت قوم اقوام عالم میں پاکستان اپنی کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے تقریبا تنہا ہو چکا ہے ۔ہم نے عالمی سطح ہر اپنے بہت سے دوست اپنی کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے کھودئیے ہیں ۔ آج ساٹھ برس گزر جانے کے باوجود ہم نے نہ اس معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے کوئی عملی اقدام کیا نہ اس ملک کے لیے ترقی کی راہیں کھولی ۔بلکہ حالات آج بھی اسی نہج پرکٹھرے ہیں جہاں ساٹھ برس پہلے تھے ۔اے روح قائد!ہم شرمندہ ہیں ۔ہم اس وطن کی حفاظت اس طرح نہیں کر پائے جو ہمارا فرض تھا۔




ایسا نہیں کہ اس سرزمین میں پیدا ہونے والے ذہانت و فطانت میں کسی سے کم ہیں۔ اگر مواقع فرہم کیئے جائیں تو یہ قوم کسی بھی ترقی یافتہ قوم سے کم نہیں ہے ۔ارفع کریم جیسے بچے بھی اسی قوم کا حصہ ہیں،جنہوں نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام بلند کیا ۔ کمی صرف وسائل اور موجودہ وسائل کے بہترین استعمال نہ کرنے میں ہے ۔کمی صرف اس سوچ ، اس بصارت ،اس قائدانہ صلاحیت کی ہے جو اس مٹی میں موجود تمام وسائل ، اس قوم میں موجود تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے ۔یہ کہنا بجا نہ ہو گا
“ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی”
اب بھی اگر ہم نے اپنی خامیوں کو دور نہ کیا تو آنے والی نسلوں کو اس کا خراج دینا پڑے گا اوروہ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں ایک مثبت سوچ کے ساتھ اپنے افکار کو بدلنا ہو گا، اپنی تمام خوابیدہ صلاحیتوں کو جگانا ہو گا اوراپنی سوچ کو انفرادیت سے نکال کر اجتماعیت میں تبدیل کرنا ہو گا ۔اور ثابت کرنا ہوگا کہ یہ قوم اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ہمیں مادر وطن کے لیے دن رات کام کرنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط ، محفوظ معاشرہ ملے۔
ازطرف:میمونہ صدف
maemuna.sadaf85@gmail.com

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest