اساتذہ : رویہ تعلیم میں مددگار 

اساتذہ کا اچھا یا برا رویہ جماعت اورجماعت سے باہر بچوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ۔اساتذہ کا رویہ یا تو طالب علموں کو تعلیم کی جانب راغب کرتا ہے تا ان کے دل سے تعلیم کی رغبت کو بالکل ختم کر دیتا ہے حد سے بڑھی ہوئی سخت گیری طالب علموں کو تعلیم سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ اور بعض اوقات طالب علم کے دماغ میں اس سخت گیری کی وجہ سے ایک گرہ پڑ جاتی ہے جوتمام عمر اس کے ساتھ رہتی ہے ۔ جس سبق پرحد سے زیادہ سرزنش کی جائے وہ سبق طالب علم کبھی نہیں سیکھ پاتا ۔
اس کی مثال خود میری اپنی ذات ہے ۔میری اپنی زندگی میں ایک ایسا واقع گزرا جس کے اثرات زندگی کے کئی برس گزر جانے کے بعد بھی آج تک میرے ساتھ ہیں ۔بچپن میں مجھے اردو کا حرف” ی “لکھنے میں دقت ہوتی تھی میں اس حرف کو درست طریقے سے لکھ نہیں پاتی تھی ۔ مجھے حرف سیکھانے والے استاد کے پاس ایک مسواک ہو کرتی تھی جس کو وہ پڑھانے کے دوران بھی استعمال کیا کرتے تھے اور کسی کی غلطی پر یہی مسواک ہاتھوں پر مارا کرتے یا اس مسواک کو ہاتھوں کی انگلیوں میں پھنسا کر دبایا کرتے جس سے ہاتھوں میں شدید درد ہوتا ۔ بظاہر یہ کوئی بہت بڑی بات نہ تھی تاہم اس سزا کا اپنا ایک خوف تھا ۔ان کی اس مار کی وجہ سے ہر ایک کے دل میں ایک خوف سا رہتا اور سب کی کوشش ہوتی کہ وہ بہتر سے بہترین لکھ پائیں ۔ میں بھی انھی طالب علموں میں سے تھی جو حد سے زیادہ احتیاط سے لکھنے کی کوشش کرتی تھی ۔ لیکن اس کے باوجود میں” ی “درست نہ لکھ پائی ۔میرے استاد مجھے اکثر لکھنے کے دوران” ی “درست نہ لکھنے پر دائیں ہاتھ کی پشت پر مارا کرتے ۔ وہ مجھے جب بھی سیکھانے بیٹھتے میرے ذہن میں یہی بات ہوتی کہ اب میرے ہاتھ پر مسواک سے مارا جائے گا ۔ یہ سوچمیرے دماغ کو لکھنے سے زیادہ توجہ استاد کے ہاتھ میں پکڑے مسواک پر مذکور رکھتی ۔میں ہمیشہ” ی “درست نہ لکھ سکنے پر مار کھانے کے باوجود کبھی ی درست نہیں لکھ سکی ۔ اور میری یہ خامی آج تک میرے ساتھ ہے ۔ میں آج بھی” ی “درست نہیں لکھ پاتی ۔ہمارے یہاں یہ سوچ عام ہے کہ مار یا ڈانٹ کے ڈر سے بچوں کو بہتر سیکھایا جاسکتا ہے ۔درحقیقت ایسا نہیں ہے اگر کوئی بچہ ایک ہی غلطی بار بار دہراتا رہے اور اسی غلطی پر مار کھاتا رہے تو اس وہ غلطی کبھی نہیں سدھر پاتی ۔مار پیٹ یا ڈانٹ ڈپٹ ایک حد میں رہتے ہوئے بچوں کو سدھانے کے کام ضرور آئی ہے لیکن غلطی پر مار پیٹ کے بعد بھی غلطی کا نہ سدھرنا دراصل یہ ایک نفسیاتی عمل ہے جس کے بارے میں ہمارے سکولوں بالخصوص گورنمنٹ سکولوں میں کوئی شعور ہے ہی نہیں ۔ہمارے معاشرے میں ابھی تک یہی سوچ رائج ہے کہ کسی کی بہتر تربیت تب کی جا سکتی ہے جب اس پر حد سے زیادہ سختی کی جائے ۔ یہ سوچ خصوصا سکولوں کے اساتذہ میں زیادہ دکھائی دیتی ہے ۔



پاکستان میں پرائیویٹ سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ تو شائستہ لب و لہجہ رکھتے ہیں اور مار پیٹ سے بھی گریز کرتے ہیں ۔اگر پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ مار پیٹ کا سہارا بھی لیں تو صرف اشد ضرورت کے تحت ۔کیونکہ اگر وہ غیر شائستگی کا مظاہرہ کریں گے تو انھیں اس کے لیے پرنسپل کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا ۔پرائیویٹ سکولوں کے برعکس گورنمنٹ سکولوں کے اساتذہ نسبتا سخت گیر ہوتے ہیں اور بچوں کو اپنی رعایا سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔گورنمنٹ سکولوں میں مار اور ڈانٹ ڈپٹ ایک عام سی بات ہے جس کا شکار صرف طالب علم ہی نہیں بلکہ اس کے والدین بھی ہوتے ہیں ۔ گورنمنٹ سکولوں میں والدین کی بھی عزت نہیں کی جاتی اور ان سے نہایت ہی غیر شائستہ انداز میں بات کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ سکولوں میں اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کے باوجود طلبہ پر کسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ زیادہ سے زیادہ ذمہ داری والدین پر ڈالی جا تی ہے کہ والدین بچوں کو سیکھائیں اور استاد کو کم سے کم محنت کرنا پڑے ۔ اساتذہ کے اس رویے کے متعلق ایک واقع میری نظر سے گزرا ۔جس کو پڑھ کر میرا دل خون کے آنسو رویا کہ آج اکیسویں صدی میں ہوتے ہوئے بھی ہمارے سکولوں میں اساتذہ کا رویہ کس قدر ناقابلِ تنقید ہے ۔ واقع کچھ یوں ہے
ایک بچے نے قبرستان میں جاکر اپنی ماں کی قبر پر جا کر روتے ہوئے اپنا بستہ اس کی قبر پر پھینکا اور کہا ۔ چل اٹھ !اور چل میرے ساتھ اور جا کے جوب دے میری ٹیچر کو جو روازنہ مجھے کہتی ہے کہ تیری ماں انتہائی لا پرواہ ہے جو نہ تو تجھے اچھی طرح تیار کر کے بھیجتی ہے اور نہ ہی اچھی طرح سبق یاد کرواتی ہے ۔یہ واقع ہمارے اساتذہ کے رویے کی منہ بولتی تصویر ہے کہ ہمارے سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبِ علموں کی مائیں اگر اس دنیا سے اٹھ چکی ہیں تو ان پر توجہ دینے کے لیے کوئی استاد موجود نہیں بلکہ انھیں ہر روز اس بات پر ڈانٹ اور طنز کا سامنا ہے کہ ان کی مائیں لاپرواہ ہیں ۔
آئیے اب ذرا اس تمام رویے کی وجوہات کا جائزہ لیں ۔ اس غیر شائستگی کی وجوہات میں سے ایک تو یہ ہے کہ گورنمنٹ سکولوں میں کوئی استاد طالبِ علموں یا ان کے والدین سے چاہیجیسابھی رویہ ا ختیار کر لیں انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ وہ اپنے ہر عمل میں چاہے وہ اچھا ہو یا برااس میں آزاد ہیں ۔ اس رویہ کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ سکولوں میں نسل در نسل ایک ہی استاد پڑھاتا ہے ۔جوانی سے لے کر ایک مخصوص عمر تک استادنوکری پر رہتا ہے ، اس دوران انھیں کسی قسم کے نہ تو کوئی ریفریشر کوسرز کروائے جاتے ہیں ۔کتب میں تبدیلیو ں کے بارے میں بھی اساتذہ کو زیادہ علم نہیں ہوتا ۔اس کی ایک بڑی مثال فیڈرل گورنمنٹ کے ایک سکول کی ہے جہاں سے میری پھپھو نے 1985 سے میڑک کیا ۔ انھوں نیجس استاد سے ساتویں جماعت میں حساب پڑھا ۔ اسی استاد سے میری بہن نے 2004 اور آج میری ایک کزن ساتویں میں اسی استاد سے حساب پڑھ رہی ہے ۔ان تمام سالوں میں ان اساتذہ کو کوئی ریفرشر کورسز نہیں کروائے گئے ۔ نصاب میں تبدیلی تو ہوئی اس تبدیلی کو پڑھانے کے لیے بازار میں موجود ( حل شدہ مشقوں ) خلاصے کا سہارا لیا جاتا ہے اور بچوں کو بھی یہ حل شدہ مشقیں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ بچے حساب تک حل شدہ مشقوں کے سہارے پڑھ رہے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام سالوں میں اس ٹیچر کا علم زمانے کی مناسبت سے پرانا نہیں ہوا ؟ اس کے علاوہ اس کی صحت میں بھی فرق آیا ہو گا ۔ جو استاد 1985 میں کہیں اچھی تعلیم دے سکتا تھا آج اس کی صحت کیا اسی سطح کی تعلیم دینے کی اجازت دیتی ہے ؟ ان حالات کی ایک اور مثال وہ بچی ہے جو حال ہی میں میرے پاس ٹیوشن پڑھنے کی غرض سے آئی ۔ وہ میڑک کی طالب علم ہے اور حسابمیں خاصی کمزور ہے ۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہحساب کی ٹیچر کلاس میں آکر کتاب کھول کرموضوع کا نام پڑھتی ہے اور کہتی ہے ۔ یہ تو بڑا آسان ہے ۔ میں ابھی کرواتی ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی اسے ساتھ والی کلاس کی ٹیچر سے کوئی ضروری کام پڑھ جاتا ہے جیسے فلاں دکان پر سیل لگی ہے ۔ فلاں کی شادی فلاں سے ہوئی ، فلاں کی چغلی ، فلاں کی بدخوئی ۔ اسی دوران اگر کلاس میں بچیاں باتیں کرنے لیگیں اور شور مچ جائے تو وہ خفا ہو کر کلاس سے چلی جاتی ہے اور اسی طرح اس کا پیریڈ ختم ہوجاتا ہے ۔ کم و بیش روازنہ ہی یہی ہوتا ہے ۔ ذرا اندازہ کیجیے حساب جیسے ثقیل مضمون کی استاد کا یہ حال ہے توباقی مضامین کی اساتذہ کا کیا حال ہو گا ۔



اسی ٹاپک پر میری بات وقارنساء میں پڑھانے والی ایک ٹیچر سے ہوئی تو ان کا کہنا تھا ۔ میں نے اپنا مستقبل تو نہیں بنانا جو محنت کروں یا خود پر بوجھ لوں ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ وہ اپنا تو نہیں لیکن ملک کا مستقبل تو بنا رہی ہیں ۔ اور اگر تباہ ہو گا تو ان ایک کا نہیں بلکہ ان کی جماعت میں موجود پچاس سے ساٹھ لڑکیوں کا مستقبل داؤ پر ضرور لگ جائے گا ۔ یہ وہ استاد ہیں جو کہ اپنے فرائض سے غافل ہیں اور کوئی پکڑ نہ ہونے کی وجہ سے انھیں کسی قسم کا کوئی خیال نہیں ۔ان اساٹزہ سے اگر کسی طالبِ علم کے والدین کچھ بولیں بھی تووالدین کی اس شکایت کا انتقام ان کے بچے سے لیا جاتا ہے ۔ جو کہ غیر معمولی سختی یا غیر معمولی طنز کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
توجہ طلب امر یہ ہے کہ گورنمنٹ سکولوں میں بھی ایک ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت ان سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو بھی کسی کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے ۔ سکولوں میں وقتا فوقتا ڈی ای او کا بنا بتائے دورہ اساتذہ کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے ۔ایسا نظام واضع ہونا ضروری ہے جس کے تحت اساتذہ بھی کسی اتھاررٹی کے سامنے جوابدہ ہوں ۔ وہ اساتذہ جو کئی سالوں سے پڑھا رہے ہیں انھیں ریفرشر کورسز کروائے جائیں تاکہ وہ نئے نصاب اوروقت کے بدلتے تقاضوں کے ہم آہنگ ہو سکیں ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest