صوفیائے کرام کے مزارات پر بم دھماکے : ایک گہری سازش

از طرف :میمونہ صدف
صوفیائے کرام کے مزارات ، تجلیات اور فیوض و برکات کا اہم مرکز ہیں ۔ عقیدت مند چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فقہ سے ہوں ، صوفیائے کرام ، اولیائے کرام کے مزارات کا احترام کرتے ہیں۔عموما لوگ مزاروں میں منتیں مرادیں مانگنے آتے ہیں لیکن ایسے لوگ جو مزاروںپر منتیں مرادیں نہیں مانگتے ان کا احترام مذہب ، فقہ سے بالا تر ہو کر کرتے ہیں ۔ صوفیائے کرام ہی وہ ہستیاں ہیں جن کی بدولت برصغیر پاک و ہند میں اسلام پھیلا اورانھی کا حسن ِ سلوک تھا جس کی بدولت ان گنت غیر مسلم ، دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔اسلام کی جڑیں اس خطہ میں مضبوط ہوئیں اور پاکستان کواسلام کا قلعہ جیسا خطاب نصیب ہوا۔ صوفیائے کرام نے مختلف شہروں کو اپنا مسکن بنایا اور لوگوں کو دین ِ حقیقی کی طرف دعوت دی ۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام کے مزارات پورے بر صغیر پاک و ہند میں پھیلے ہوئے ہیں ۔
پاکستان کی امریکہ اور دیگر حواریوں کے ساتھ دہشت گردی کی جنگ میں شمولیت کے ساتھ ہی ملک میں دہشت گردی کی ایک لہر دوڑ گئی ۔ دہشت گردوں نے جہاں پارکوں ، سکولوں اور دیگر جگہوں پر موجود لوگوں کو بے دردی سے شہید کیا وہاں مزاروں ، مسجدوں اور عبادت گاہوں کے تقدس کو بھی نہ بخشا گیا ۔ دہشت گردوں نے مساجد ، امام بارگاہوں ،مزارات ، چرچ الغرض ہر عام و خاص جگہ پر دہشت گرد حملے سے گریز نہیں کیا۔
حالیہ تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کچھ ہوشربا حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے ۔ سن ۲۰۰۵ء میں مختلف مقامات پر ہونے والے بم دھماکوں میں دربار پیر راخیل شاہ ، فتح پور جھل مگسی اور بری امام ، اسلام آباد کے مزار پر دہشت گرد حملے کیے گئے جن میں ۵۰ سے زائد افراد شہید ہوئے ۔ مسجد بری امام میں حملہ اس وقت کیا گیا جب فقہ جعفریہ کی جانب سے وہاں مجلس کا اہتمام کیا گیا تھا ۔اس حملہ میں شہید ہونے والے زیادہ تر افراد فقہ جعفریہ سے تعلق رکھتے تھے اور محرم میں اس قسم کا حملہ فرقہ ورانہ فسادات برپا کروانے کی ایک سازش کے علاوہ کچھ نہیں ۔ ۲۰۰۹ ء میں صوفی شاعر رحمان بابا ، مزار واقع پشاور پر دستی بم سے حملہ کیا گیا ۔ اگرچہ اس حملہ میں زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تاہم علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ۲۰۱۰ء میںاسلام آباد سے متصل مزار گولڑہ شریف پر دہشت گردی کے حملہ میں ایک کانسٹپل اور ۳ افراد شہید ہو گئے ۔ ۲۰۱۰ء ہی میں کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دہشت گردی کے حملے میں آٹھ افراد شہید اور ۶۰ سے زائد زخمی ہوئے ۔ اس کے علاوہ لاہور میں مشہور مزارداتا دربار پر جوخود کش حملہ کیا گیا جس میں کم و بیش ۳۷ افراد شہید ہوئے۔داتا دربار پر ملک بھر سے زائرین آتے ہیں ۔ اس دربار پر اکثر و بیشتر درویشوں ، منتیں مرادیں مانگنے والوں ، عقیدت مندوں اور مختلف تبرکات اور لنگر تقسیم کرنے والوں کا ہجوم رہتا ہے ۔ اس مزار پر حملہ کی وجہ سے زخمی ہونے والوں کی تعداد ۵۰ سے زائد تھی ۔
خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ ۲۰۱۱ء میں بھی جاری رہا ۔۲۰۱۱ء میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات میںمزار آخوندپنجو بابا، اکبر پور جبہ ، نوشہرہ قابل ِذکر ہے ۔ اس واقع میں کم و بیش ۱۱ افراد جان کی بازی ہار گئے ۔



صوفی احمد سلطان المعروف سخی سرور کا مزار ڈیرہ غازی خان میں ہے ۔ ۲۰۱۱ء میںاس مزار پر ایک خود کش حملے نے ۵۱ افرادکی جان لے لی ۔ ۲۰۱۶ء میں خضدار میں واقع شاہ نورانی سرکار کے مزار پر بم دھماکے میں ۶۰ افراد نے اپنی جان ، جان آفرین کے سپرد کی ۔ صوبہ خیبر پختونخواہ ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ دہشت گردی کا شکار رہا ہے ۔ یہاں کے مزارات بھی دہشت گرد ی کی دست برد سے محفوظ نہ رہ سکے۔اس صوبہ میں کم و بیش ۵۰ صوفی بزرگوں کے مزارات پر دہشت گردی کے حملے ہوئے ۔ ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ۱۰۰ سے اوپر رہی ۔
۲۰۰۵ء سے اب تک ۱۶ سے زائد ملک گیر ، مزارِ صوفیاء پر دہشت گردانہ حملے ہوئے جس میں ۳۰۰ سے زائد ہلاکتیں اور ان گنت افرادزخمی ہوئے ۔مزارات کو شدید نقصان پہنچا۔
واضح رہے ! مسلمان چاہے کسی بھی فقہ سے ہو ، مزارات کا احترام اس کی سرشت میں شامل ہوا کرتا ہے ۔پاکستان میں رہنے والوں کے دلوں میں چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فقہ سے تعلق رکھتا ہو صوفیائے کرام کے لیے احترام ، محبت اور عقیدت بدرجہ اتم موجود ہے ۔ اسلا م درحقیقت ایک امن پسند مذہب ہے۔ اس کی تمام تر تعلیمات انسانیت اور احترام ِ انسانیت پر مبنی ہیں ۔ اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قرون ِ اولیٰ کی جنگوں ، غزوات اور خلفائے راشیدین کے ادوار میں ہونے والی جنگوں میں بھی عورتوں ، بچوں کو قتل کرنے ، عبادت گاہوں کو تباہ کرنے ، فصلوں کو تباہ کرنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ۔ صحابہ کرام ؓ خصوصافتح شدہ علاقوں میں بھی معبد کدوں تک کو مسمار کرنے سے منع فرمایا گیا ۔ مفتوح علاقوں کے لوگوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ۔ مسلمان حکمرانوں اور سپاہ کا حسن ِ سلوک ہی تھا جس نے اسلا م کی ترویج میں اہم ترین کردار ادا کیا ۔مسلمانوں نے جو بھی علاقے فتح کیے وہاں امن و امان قائم کیا ۔ مزارات پر دہشت گردی کے حملے جہالت اور صوفیائے کرام کے احترام کو تار تار کرنے کی کوشش کا شاخسانہ ہے ۔



یہاں اس بات کی وضاحت از حد ضروری ہے کہاقوام ِ عالم میں مسلح گروہ جن میں طالبان ، داعش، القاعدہ اور دیگر مسلح گروہ جو خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں،درحقیقت خوارج اور اسلام کو بدنام کررہے ہیں ۔یہ گروہ اسلام کے نام پر دھبہ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے چنگل میں پھانس کر دین ِ اسلام کو گھائو لگانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ان کی مضموم سازشوں کی وجہ سے اسلام کا نام ، دہشت گردی کا ددسرا نام بن چکا ہے ۔یہ شر پسند عناصر خود کو مسلمان کہلاکر معصوم مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں ۔
تحریک طالبان پاکستان ، لشکر جھنگوی اور دیگر مسلح گروہوں نے صوفیائے کرام پاکستان کے مزارات پر ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔یہ حملے ایک عمیق دو رخی سازش کا عندیہ ہیں ۔ایک جانب صوفی مزارات پر حملے ملک میں خوف وہراس پھیلانے کی ایک مضموم سازش ہے ۔ جس کا ہماری غیور عوام نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی ایک بہادر قوم ہیں ۔ دوسری جانب مختلف مسالک خصوصا فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ کے ماننے والوں کے مزارات پر حملے ملک کے طول وارض میں فرقہ ورانہ فسادات کو ہوا دینے کی کوشش بھی ہے ۔
ہمارے علمائے کرام اور سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کوششوں سے ان تمام سازشوں کے باوجود ملک فرقہ ورانہ فسادات سے محفوظ رہا ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں دہشت گردی کی کاروائیوں میں بھی واضع کمی آئی ہے جبکہ علماء کرام کی بروقت کوششو ں سے ملک میں فرقہ ورانہ فسادات کی فضاء قائم نہیں ہونے دی گئی ۔

https://www.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/islamabad/2018-11-12/page-9



[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest