تعلیمی ادارے :غریب کا مستقبل بدلنے کا نہیں

بوسیدہ دیواریں ،گھاس پھوس سے بنی ٹپکتی چھتیں ، کچے صحن ،بنا چاردیواری کے عمارت ، ایک تختہ سیاہ اورایک میز کرسی ،طلباء و طالبات کے بیٹھنے کے لیے دری تک موجود نہیں ۔ ننھے ننھے طالب علم اپنے بستوں کے ساتھ ساتھ پیڑیاں اٹھائے علم کے حصول کی خاطر یہاں آتے ہیں ۔یہ سکول ایک کمرہ جماعت ، ایک صحن ہے پر مشتمل ہے جس کے درمیان ایک تختہ سیاہ رکھا گیا ہے ۔موسم سرما میں ٹھنڈ سے بچنے اور سورج کی تمازت حاصل کرنے کی خاطر ، گرمیوں میں ہوا کی خاطر بچوں کو سکول کے صحن میں اگے برگت کے درخت کے سائے میں پڑھایا جاتا ہے کیونکہ اس سکول میں پنکھا نام کی کوئی چیز موجود نہیں ۔ مون سون کے موسم میں یہ صحن پانی سے بھر جاتا ہے اور طلبہ و طالبات کو دیوار کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنا پڑتا ہے ۔ یہ کھنڈر نما عمارت اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہے کہ کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہے ۔ یہ منظر سولویں صدی کے سکول کا نہیں ، بلکہ یہ منظر گورنمنٹ سکول بلوچستان کا ہے ۔جس میں علم حاصل کرنے کی خاطر بلوچستان میں بسنے والے یہ طالب علم ان نامسائد حالات میں سکول آتے ہیں ۔چونکہ یہ طلبہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے یہ اس قابل نہیں کہ ملک کے دوسرے حصوں میں حصولِ علم کی خاطر سفر کریں ۔
بلوچستان ، ہمارے ملک کا وہ خطہ ہے جس کی زمین اپنے اندر بیش بہا خزانے چھپائے ہوئے ہے ۔بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس صوبے کی کل آبادی کم و بیش ایک کروڑ بتیس لاکھ کے لگ بھگ ہے ۔اگرچہ یہاں کی موجودہ آبادی باقی صوبوں کی نسبت کم ہے لیکن اس کم آبادی کے باوجود اس صوبے کے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔پورے ملک کی طرح اس صوبے میں بھی تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ بلوچستان میں چند ایک سرکاری سکول کام کر رہے ہیں جن کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔ نجی ادارے اس صوبہ میں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔بلوچستان میں گورنمنٹ سکولوں کی تعداد 12347 ہے جن میں صرف 6% ہائی سکول ہیں ۔یہاں کے 80% سکول صرف ایک کمرے پر مشتمل ہیں جن میں سے زیادہ تر کی چھتیں گھاس پھوس کی ہیں ۔بلوچستان میں کل بچوں کی تعداد27 لاکھ ہے جس میں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد صرف 18لاکھ ہے ۔66 فی صد بچے جن کی عمریں نوسے سولہ سال ہیں سکول نہیں جاتے۔بلوچستان میں 76% بچے سرکاری سکولوں میں ،19%بچے پرائیوٹ سکولوں میں، 5%بچے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔جبکہ 57% بچے پرائمری کی تعلیممکمل کیے بنا ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں ۔ جن بچوں کو پرائمری میں سکولوں میں داخل کروایا جاتا ہے ان کی تعداد865337ہے جبکہ 191300بچے مڈل کی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔



افسوس ناک امر یہ ہے کہ 14%اساتذہ سکولوں میں نہیں آتے جبکہ حکومت سے تنخواہیں وصول کرتے رہتے ہیں ۔صوبہ میں تعلیم کے شعبے کی حالت ناگفتہ بہ ہونے کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلی ایک دہائی میں بلوچستان سے کسء بچے نے کوئی پوزیشن حاصل نہیں کی ۔
جمہوریت ، آمریت چاہے کوئی بھی حکومت ہو یہ صوبہ تعلیمی اعتبار سے پس ماندہ ہی رہا ہے ۔ اگرچہ صوبائی بجٹ میں اس صوبہ کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے رقوم بھی مختص کی جاتی ہیں لیکن ان رقوم کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے ۔ گورنمنٹ سکولوں کی دن بدن حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے ۔ یہاں کام کرنے والے اساتذہ کی مشکلات ایک جانب ، بچوں کے بیٹھنے کے لیے جگہ کی عدم دستیابی ایک جانب ، سکولوں کی عمارتیں ہی اتنی خستہ ہو چکی ہیں کہ کسی بھی لمحے زمین بوس ہو سکتی ہیں ۔ جو کہ از خود ایک بہت بڑا رسک ہے ۔جس میں کئی بچوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے ۔اس کے علاوہ اساتذہ کا جب جی چاہتا ہے جماعت کو سکول کے باہر بیٹھا کر پڑھا لیتے ہیں ۔عمارت کی خستہ حالی کے ساتھ ساتھ برسات کے مہینے میں سکولوں کی ان عمارتوں میں کھڑا پانی ، اپنے ساتھ کئی بیماریاں لے کر آتا ہے ۔بلوچستان میں شعبہ تعلیم کے بارے میں اعداد و شمار کسی بھیباشعور شخص کو چونکا دینے کے لیے کافی ہیں ۔
بلوچستان میں شعبہ ء تعلیم کی حالت زار کا اندازہ تعلیم کے چیف منسٹر سردار رضا محمد بریج کے بیان سے بخوبی ہو سکتا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ “بلوچستان کے خطے میں کم و بیش 7000 ایسے سکول موجود ہیں جن پر کسی قسم کی کوئی چھت نہیں ۔ چھت کے طور پر گھاس پھوس کا استعمال کیا گیا ہے ۔ بعض سکولو ں کی کوئی چاردیواری نہیں ۔یہ سکول ایک کمرے اور ایک استاد پر مشتمل ہیں”۔ سکول کی نہ صرف عمارت نہیں بلکہ ان سکولوں کو دیکھ کر کوئی نہیں جان سکتا کہ یہ سکول ہی ہیں بلکہ ان سکولوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو تا ہے کہ چند بچوں کو جمع کرکے ایک ہی استاد تعلیم دے رہا چاہے جو بھی جماعت ہو جو بھی مضمون ہو ۔یہاں پڑھنے والے بچے پالش ہوئے جوتوں اور استری شدہ یونیفارم سے قطعی لا علم ہیں ۔ یہ بچے بنا کسی یونیفارم کے پھٹے پرانے جوتے پہنے دور دور سے علم حاصل کرنے آتے ہیں ۔
اس صوبے میں غربت کا یہ عالم ہے کہ اساتذہ ازخود یونیفارم متعاف کروانے سے قاصر ہیں ۔”ہم یہاں پر یونیفارم متعارف نہیں کروا سکتے کیونکہ یہاں پڑھنے والے طالب علم نہایت غریب ہیں “۔یہ کہنا تھا ایک استا د کا جس کا تعلق بلوچستان کے ایک سکول سے ہے ۔



بعض علاقوں میں سکولوں کی عمارتیں کرایہ پر حاصل کی گئی ہیں اس کے باوجود ان عمارتوں کی حالت بہت اچھی نہیں ۔ مٹی سے بنائی گئی دیواروں والے ان سکولوں کا کرایہ بھی حکومنت ادا کرتی ہے جن میں پینے کا پانی اور باتھ روم تک موجود نہیں ۔ ان سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبا ء کو صاف پانی گھروں سے لانا پڑتا ہے ۔بات یہاں تک محدود نہیں 216 سکول ایسے ہیں جو سرے سے موجود ہی نہیں اور کئی سکول ایسے بھی ہیں اگر ان کی عمارتیں موجود ہیں تو ان میں نہ اساتذہ ہیں اور نہ ہی طالب علم ۔
اگرچہ حکومت بلوچستان نے حال ہی میں آرٹیکل 25-A کے تحت تعلیم کے شعبے میں کام کرنے کا ایادہ کیاہے اور 63بلین روپے سکولوں کی بہتری اور مفت تعلیم کے لیے مختص کی گئی ہے ۔تعلیم کو پورے صوبے کے بچوں کے لیے لازمی بنانے کے لیے عملی اقدامات کا دعوی ٰ کیا گیا ہے ۔لیکن یہ بیانات صرف بیانات کی حد تک ہی محدود ہیں ۔گذشتہ کئی برسوں سے بلوچستان کے راہنما اس قسم کے دعوے کرتے آئے ہیں لیکن ان دعووں کی کوئی زمینی حیثیت نہیں اور نہ ہی ان دعووں پر پور ااترا گیا ۔ یہاں تک کہ بلوچ دارلحکومت کوئٹہ تک کے قرب و جوار میں بھی مفت تعلیم کا سوچنا بھی بے کار ہے ۔ گورنمنٹ سکولوں میں ایجوکشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران تو درکنا راساتذہ تک آنے کی زحمت نہیں کرتے ۔
تعلیم بلوچستا ن کے غریب طالبہ کے لیے ایک خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ان طالب علموں کا قصور صرف اور صرف ایک ایسے علاقے میں پیدا ہونا ہے جس کو سیاسی طور پر کبھی ایسے راہنمانہیں ملے جو اس کے بچوں کے بارے میں سوچیں اور تعلیم کے شعبہ کے لیے عملی کام کر یں ۔فلاحی تنظیموں ، غیر سیاسی تنظیموں نے بھی بلوچستان کو نظر اندا کر رکھا ہے ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest