دوھرے چہرے 

نیکی کیا ہے ؟

نیکی سے مراد ہر ایک کے ساتھ احسن سلوک کے ساتھ پیش آنے اور جان بوجھ کر کسی کا نقصان کا ارادہ تک سے بچنے کا نام ہے ۔حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا انسان محفوظ ہو۔گویا اسلام ہر شخص پر دوسرے انسان کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے۔احترام انسانیت کا درس دینے والا اسلام ایک فلاحی معاشرے کا قیام چاہتا ہے ۔
دلوں میں قدورتیں چھپائے ، چہروں پر مصنوعی مسکراہٹیں سجائے ، بظاہر خوشدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دلوں میں حسد کے جذبات رکھے ہر شخص نیک کہلاتا ہے ۔آج کل ہردوسرا شخص چہرے پر نقاب در نقاب لیے نیکی کا پرچار کرتا نظر آتا ہے۔لوگ امن ، بھلائی اور نیکی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن خود اپنے ہی درس پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہتے۔بلاشبہ نیکی ا وربھلائی کو پھیلانا ایک احسن عمل ہے لیکن آپ اس وقت تک اپنی بات میں اثر پیدا نہیں کر سکتے جب تک آپ خود نیک نہ بن جائیں۔ اگر نیکی کا درس دینے والا خود اس درس پر عمل پیرا ہو جائے اواس کے اخلاق قابل تقلید ہو جائیں تودوسرے خود بخوداس کی تقلید کرنے لگیں گے ۔اگر ایک عالم باعمل بھی ہو تو اس کے الفاظ میں تاثیر پیدا ہوتی چلی جائے گی ۔ قرون اولی ٰ میں اسلا م تلوار یا تقاریر سے نہیں پھیلا بلکہ علما و مشائخ کے اعمال سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی ۔علمائے کرام نے عملًا اسلام کی تعلیمات کو نافذکیا۔تاریخ اقوام عالم کا مطالعہ کیا جائے تو اسلام کا آغاز اور اس کا پھیلاؤ برابری اور حسن اخلاق پر مبنی ہے۔جبکہ اگر آج کو دیکھا جائے تو علماء ازخود ان باتوں پر عمل پیرا نہیں ہوتے جن کا درس دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تقاریر پر اثر نہیں رہیں ۔ بڑے بڑے اجتماع ہونے کے باوجود معاشرے میں جڑ پکڑتی برائی میں خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہوئی ۔
حسد ان چند برائیوں میں سے ایک ہے جس کو عمومابڑی برائی یا گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔حسد دل کی بیماری ہے جو دل سے نیکی اور پاکیزگی کو ختم کر دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں حسد اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ہرگھر ، دفتر ، محلے ، خاندان ہر جگہ لوگ اس برائی کا شکار نظر آتے ہیں۔اکثر ایک ہی خاندان کے افراد ایک دوسرے کی ترقی سے حسد کرنے لگتے ہیں اور اس حسد میں دوسروں کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو نہ صرف حسد کرنے والے کے لیے سرا سرانقصان دہ ہے بلکہ اس کے لیے بھی بے حد نقصان دہ ہے جس سے حسد کیا جارہا ہو ۔ یہ جذبہ بیک وقت دونوں انسانوں کو تباہ کر دیتا ہے ۔ اس جذبے کے تحت انسان دوسروں کی ترقی یا کامیابی سے جلنے لگتا ہے اور بجائے اس کے کہ خود محنت کرے اور عالٰی مقام حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرے وہ یہ خواہش کرنے لگتا ہے کہ جوانسان ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اس کو بھی اس سے محروم کر دیا جائے ۔اس جذبے کا شکارانسان کبھی پر سکون نہیں ہو پاتا ۔حسد کرنے والا شخص بظاہر تو بہت خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے لیکن اند ہی اندر وہ دیمک کی طرح دوسروں کو نقصان پہنچانے میں مصروف عمل رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جائے ۔ اس غصے،حسد اور دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں لوگ ہرقسم کے ہتھ کنڈے استعمال کرنے لگتے ہیں ۔ کبھی دوسرے کے خلاف منفی باتوں کی تشہیر کرتا ہے ، کبھی بظاہر اس کا دوست بن کے اس کی کمزوریاں جاننے کی کوشش کرنے لگتا ہے ۔ اور بعض اوقات نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ وہ جادو ٹونے تک سے بھی گریز نہیں کرتے ۔کیونکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر صورت دوسرے کو نقصان پہنچایا جائے ۔ ایسے لوگ اس وقت تک پر سکون نہیں ہوتے جب تک کہ وہ جس سے حسد کرتے ہیں اس کو نقصان نہ پہنچا لیں ۔ اور جب وہ اس حسد کے تحت دوسروں کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انھیں صرف وقتی خوشی حاصل ہوتی ہے ۔ یہ وقتی خوشی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احساس جرم میں تبدل ہونے لگتی ہے اور بالآخر وہ ایک مسلسل کرب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ یہ احساس جرم پوری زندگی حسد کرنے والے شخص کے ساتھ رہتا ہے ۔
کسی سے حسد رکھنے کی اسلام سخت مذمت کرتا ہے اورقرآن ایسا کرنے والوں کو سخت عذاب کی وعید سنا تا ہے ۔
قرآن میں اﷲتعالیٰ نے فرماتا ہے ۔ اپنی جان کو زمین مین اونچا کھنچنا، برا داؤ اور برا داؤ اپنے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے ۔
حدیث نبوی ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا چاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک نے فرمای�آ
آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھواورایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرواور اﷲکے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔
گویا یہ ایک ایسی برائی ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتی ہے ۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جو کہ بظاہر تو بہت چھوٹی ہے لیکن درحقیقت اگر اثرات کے حوالے سے دیکھا جائے تو نہ صرف اس کے اثرات بہت زیادہ ہیں بلکہ دور رس بھی ہیں ۔ حسد خاندانوں کے خاندان تباہ کر دیتا ہے۔حسدنہ صرف ایک معاشرتی برائی ہے بلکہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جس میں انسان اﷲسے مسلسل شکوہ میں رہتا ہے ۔ حسد کرنے والا شخص کبھی رب تعالیٰ کا شکرادا نہیں کر پاتا۔ حسد سے گر یز صرف اور صرف اس وقت ممکن ہے جب لوگوں میں یہ شعور پیدا ہوکہ دوسروں کی کامیابی سے حسد کرنے کی بجائے وہ خود محنت کو اپنا شعار بنائیں اور بجائے اس کے کہ دوسروں کی کامیابی کو چھیننے کی کوشش کریں ضروری یہ ہے کہ وہ اتنی ہی محنت خود کامیابی حاصل کرنے پر صرف کرے۔ معاشرے میں بہتری لانے کے لیے عمومی رویوں کو بدلا اور کم علمی کو ختم جانا ضروری ہے ۔
معاشرے کواسلام کی راہ میں گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسی برائیاں جوکم علمی کے باعث معاشرے میں ناسور کی مانند پھیل چکی ہیں انھیں جڑ سے اکھاڑ پھنکا جائے ۔۔فرد معاشرے کی ایک اکائی ہے ۔ہر شخص اگر اپنے عیبوں اور کوتاہیوں پر قابو پانے کی کوشش کرے تو معاشرہ خود بخود سدھر سکتا ہے ۔ معاشرے کو الزام دینے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ معاشرہ بنتا انسانوں سے ہے ۔اوراگر اکائی بہترین ہو جائے ، برائیوں سے بچنے لگے اور اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائے،حسد ، بغض سے بچنے لگے تو معاشرے میں اسلام کا رنگ خود بخود نظر آنے لگے گا ۔ہم میں سے اگر ہر کوئی اچھا شہری بننے کی کوشش کرئے، تو کچھ بعید نہیں کہ ہمارا معاشرہ بہترین معاشرہ کہلائے ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest