گل فروش بن جاؤں

میرا دل چاہتا ہے
گل فروش بن جاؤں
ہر نم آنکھ کے آنسو
اپنے ہاتھوں پونچھوں
ہر دل کی اجاڑ بستی میں
پھول ہفت رنگ اگاؤں
ہر روتے ہوئے کو ہنساؤں
ہر دکھ مٹاؤں
ہر اک کے غم کو اپنے
دامن میں چھپاؤں
ہر زخم کو پونچھوں
ہر درد کا مرہم بن جاؤں
میرا جی چاہتا ہے
گل فروش بن جاؤ
جانتے ہو کیوں؟
میں نے تنہائی کی قید
کاٹی ہے
میں نے موسم بہار میں
خزاں پاٹی ہے
ان گنت کانٹے چنتے چنتے
ہر زخم اپنی پوروں پہ چنا
ہر رات جاگتے گزاری
میں نے ہروہ نوحہ سنا
جب کسی ماں نے بچہ کھویا
بدبختی نے ہاتھ ملے
جب گھر جلے
اور مدد کو کوئی نہ آیا
جب پیار کی بوند کو ترسنے والے
جان کی بازی ہار گئے
میں نے وقت وہ بھی دیکھا ہے
جب اپنے اپنوں کو مار گئے
میں نے ہر ظلم کو محسوس کیا
جب نہ جانے کتنے دل ٹوٹے
میرا جی چاہتا ہے
گل فروش بن جاؤں

میمونہ صدف ہاشمی

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest][starlist][/starlist]




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest