یاد ہے تم کو 

یاد ہے تم کو
مجھے تم تتلی کہتے تھے
رانی .شہزادی کہتے
نہ حائل تھا کچھ درمیاں ہمارے
میری پکار تجھے کھینچ نہ لائی تھی
یاد ہے تم کو
اپنی تتلی اپنی رانی خود ہی گھائل کر بیٹھے
مصروفیت آڑے آئی اک دوجے کو بھلا بیٹھے
ہاں یاد ہے مجھ کو ,
میرے ہاتھوں کو جب چوما تھا
اب حالات کچھ بدل گئے ہیں
ہاں مصروف ہوں میں بھی
کچھ انا بھی ہے
کچھ ناامیدی بھی
لیکن راتیں جب کالی ہوجاتی ہیں
سڑکیں تھک کر سو جاتی ہیں
تب جلتے سپنے , دہکنے لگتے ہیں
ہاں مصروف ہوں میں
ان سپنوں کو بھجانے میں
نہ جانے کب کہیں
ان کو بھجاتے بھجاتے میں بھی بجھ جاؤں
ہاں بہت مصروف ہوں میں
اس رسوائی کو سہنے میں
دکھ کا سمندر پار کرنے میں
نہ جانے کب کیا ہو جائے
سب کچھ سہنا پڑتا ہے
کس کو فرصت ہے
دکھ سکھ سننے کہنے کی

 کچھ اور سپنے بننے کی

 کچھ اور اذیت چنننے کی
چلو اچھا ہے محفوظ ہیں ہم
ہاں !بہت مصروف ہیں ہم
میمونہ صدف ہاشمی

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest