نئے اسلامی سال اور شہادتِ حسینؓ کا امتِ مسلمہ کو پیغام

اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام کے مہینے سے ہوتا ہے ۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی جہاں اسلامی سال کا آغاز حضرت امام حسینؓ کی یاد اور واقع کربلا کی یاد تازہ کرتا ہے وہاں یہ سال امتِ مسلمہ کے لیے ان گنت پیغام بھی لے کر آتا ہے
تاریخِ اسلام کی روشنی میں اسلامی سال کا آغاز کربلا کے عظیم سانحہ اور حضرت ا مام حسینؓ کی عظیم قربانی کی یاد سے ہوتا ہے جو اپنے اندراز خود ایک بہت بڑا پیغام لیے ہوئے ہے ۔اسلامی سال کے آغاز سے ہی ملک کے طول و عرض میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد مجالس اور جلسے جلسوں کا اہتمام کرتے ہیں جن میں حضرت امام حسینؓ اور آئمہ کرامؓ کے دئیے ہوئے سبق کو دھرایا جاتا ہے ۔اسلامی سال کا آغازاور واقع کربلا ہمیں پیغام دیتا ہے کہ دین کی سربلندی کے لیے کسی قسم کی جانی اور مالی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے ۔ دین کی اشاعت و احیاء کے لیے اپنے مفادات کو خاطر میں نہ لانا ہی ایک مسلمان کا شیوہ ہے۔ یہ واقع ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ گفتار کے غازی نہ بنیں بلکہ اپنے کردار و عمل سے ثابت کریں کہ ہم ایک غیرت مندامت ہیں جو کہ حق کی سربلندی کے لیے جان لٹانے سے گریز نہیں کرتے ۔دنیاوی اقتدار اور طاقت عارضی ہے ۔اس لیے اقتدار سے زیادہ دین کو اہمیت دے کر دنیا پر دین کو ترجیح دی جانی چاہیے ۔
حق کی سربلندی کے لیے طاقت اور تعداد کی کمی کوعذر نہ بنایا جائے بلکہ جہدِمسلسل اور سعی و عمل کی ضرورت ہے ۔ اور اگر حق کی سربلندی کے لیے مٹھی بھر لوگ بھی جدوجہد کریں تو اس جدوجہد کے دوررس اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔بظاہر شکست کا مطالب ہر گز ہرگز ناکامی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات عارضی شکست درحقیقت ایک مستقل فتح بن جاتی ہے ۔اور اگر بظاہر کبھی شکست سے دوچار ہونا بھی پڑے تو اس کو مستقل ناکامی سمجھ کر دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اہم شکست یافتح نہیں بلکہ اہم وہ جدوجہد ہے جو کسی مقصدکے حصول کے لیے کی گئی ۔تاریخ گواہ ہے کہ حضرت امام حسینؓ کو بظاہر شکست سے دوچار ہونا پڑااور ان کے اہل وایال کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن درحقیقت یہ شکست ایک مستقل فتح بن گئی ۔ اسی جدوجہد کی بدولت دین اسلام کو سربلندی حاصل ہوئی اوردینِ اسلام کی روح مسخ ہونے سے بچ گئی ۔ دنیائے اسلام کے ساتھ ساتھ غیر مسلم دنیا بھی حضرت امام حسینؓ کی کوشش اوردینِ اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئی قربانیوں کو خراجِ ِ تحسین پیش کرتی ہے جبکہ یزید کے مدفن تک کو کوئی نہیں جانتا ۔چارلس ڈکنز نے کہا
“اگر حسینؓ نے دنیاوی جاہ وجلال کے لیے جنگ لڑی تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان کیبہن، بیوی اور بیٹی نے ان کا ساتھ کیوں دیا۔اہل و ایال کا آپؓ کے ساتھ ہونا بتاتا ہے کہ ان کی قربانی خاص الخاص دینِ اسلام کی لیے تھی ۔”
اس واقع سے ثابت ہوتا ہے کہ خواتین کا کردار امن کے لیے ، اور کسی بھی مقصد میں کامیابی کے لیے بے حد ضروری ہے ۔دینکی سربلندی کے لیے مرد تو اپنی جگہ لیکن عورت کو بھی کسی قسم کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے ۔ حضرت زینبؓ کا کردار واقع کربلا ء اور اس کے بعدپیش آنے والے واقعات میں اس قدر جرات و ہمت لیے ہوئے ہے کہ اس کی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی ۔ گویاعورتوں کا بھی دین کی سربلندی کی خاطرجدوجہد کرنا اتنا ہی ضروری اور اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کہ مردوں کا ۔عورت کی جدوجہد کے بغیر کسی بھی مقصد میں کامیابی ممکن نہیں ہے ۔ عورت کو بھی جرات و ہمت ، استقلال کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حالات کس قدر برے ہی کیوں نہ ہوں عورت کو جرات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
اسلامی سال کا آغاز ہمیں جرات و ہمت کا پیغام بھی دیتا ہے ۔ یہ ہمیں پیغام دیتا ہے کہ حضرت امام حسینؓ کے خانوادے کی تقلید کرتے ہوئے حق کی سربلندی کے لیے جرات اور ہمت کا مظاہرہ کریں ۔ اور دین اسلام کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے سے گریز نہ کریں ۔حق کی سربلندی کے لیے آپ کے پاس حکومت یا طاقت کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے لیے جرات ، ہمت اور حوصلے کا ہونا ضروری ہے ۔جس طرح حضرت امام حسین کے مٹھی بھر ساتھیوں نے یزید کے ایک بڑے لشکر کا مقابلہ کیا وہ ناقابلِ فراموش ہے اور رہتی دنیا تک کی نسلوں کے لیے قابلِ تقلید بھی ۔حضرت امام حسینؓ نے فرمایا
“سردار بننا چاہتے ہو تو حرکت و عمل ، جدوجہد کو اپنا معمول بناؤ.”
ایک اہم پیغام جو آغاز سال اور واقعِ کربلا دیتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت امام حسینؓ کو شکست صرف اور صرف کوفیوں کی خاموشی اور بے حسی کی وجہ سے ہوئی ۔حضرت امام حسینؓ کی بظاہرشکست میں کوفیوں کا ایک اہم کردار رہا ۔ کوفہ والوں نے آپ کو کوفہ آنے کی دعوت اور مدد کا یقین دلایا لیکن جب حضرت امام حسینؓ اپنے عیال کے ساتھ کوفہ تشریف لے گئے تو کوفہ والوں نے نہ صرف آپ کا ساتھ نہ دیا بلکہ خاموشی اختیارکی اور یزیدی حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا ۔اس واقع سے ہمیں یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ جہاں ظلم و بربریت کا دور دورہ ہو وہاں مظلوم کا خاموش رہناظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے ۔ اگر مظلوم ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو انھیں کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ اور اگر کوئی ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو مظلوم کو اس کا ساتھ دینا بے حد ضروری ہے ۔
یہ مہینہ ، آغازِ سال اور یہ واقع ہمیں یہ بھی پیغام دیتا ہے کہ استبدالی قوتوں کے خلاف تمام امت کو یک جان ہو کر ان قوتوں کا مقابلہ کرنا ہو گا اور جب تک مسلمان امت متحد نہیں ہو گی تب تک مسلمان یونہی ذلیل وخوار ہوتے رہیں گے ۔ امتِ مسلمہ کی بقا اتحاد اور یگانگت میں پوشیدہ ہے ۔جب تک امتِ مسلمہ اپنے اندرونی فشار کو ختم نہیں کر لیتی تب تک یہ کفار سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی ۔فرقہ پرستی کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔ تمام تر اختلافات کو بھلا کر پوری دنیا میں جہاں جہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان کی مدد کی جائے ۔ اگر تمام مسلمان ممالک متحد ہوجائیں توایک عظیم عالمی قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں ۔ اتحاد کی صورت میں مسلمان ممالک کو کسی اور ملک کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کیونکہ یہ ممالک دنیا کے بیشر وسائل کے مالک ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کی سربلندی کے لیے حضرت امام حسینؓ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سعی و عمل کو اپنا شعار بنائیں
اسلام کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest