محرم اور عاشورہ کی تاریخی حیثیت 

عاشورہ کا لفظی مطلب کا دسواں دن ۔ اسلام کی تاریخ کے حوالے سے یہ دن محرم الحرام کی دسویں سے منسوب ہے ۔ محرم کی دس تاریخ تمام الہامی مذاہب کے لیے مقدس ہے ۔یہ دن اﷲ تعالیٰ کی جانب سے خصوصی اہمیت اور رحمت کا حامل ہے ۔ یہ کہنا کہ اس کی اہمیت باقی دنوں سے کیوں زیادہ ہے ؟ اس پر بحث عبث ہے ۔یہ تو اﷲ کی حکمت ہے کہ اس نے بعض دنوں کو بعض پر فوقیت دی تاہم دسویں محرم کے بارے میں چند تاریخی حقائق مندرجہ ذیل ہیں ۔
مختلف کتب کے مطابق کہا جاتا ہے کہ محرم کی دس تاریخ کو اﷲ نے زمین و آسمان ، لوح و قلم ، درخت اور پہاڑ پیدا فرمائے ۔اسی دن حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کو پیدا کیا گیا ۔یہی وہ دن ہے جس دن حضرت آدم ؑ کو جنت سے نکالا کرزمین پر اتارا گیا اور انھوں نے اسی دن سے زمین پر رہنا شروع کیا اور زمین انسانی قدموں سے آباد ہوئی ۔ اسی دن حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول ہوئی اور آسمان سے پہلی بار بارانِ رحمت (رحمت کی بارش)برسائی گئی ۔
اسی دن حضرت نوحؑ کی کشتی کوہ جودی پر آن رکی اور اﷲنے حضرت نوح ؑ کے ساتھیوں کو بحفاظت اس عذاب سے نکالاجوحضرت نوح ؑ کی قوم پر طوفانِ نوح کی صور ت میں نافذ کیا گیا تھا ۔اسی دن سے طوفان رکا اور پانی کی سطح کم ہونے گی۔ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو اپنے رب کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ۔
دس محرم ہی کو حضرت ابراہیم ؑ کو نمرود نے حق پرستی کی پاداش میں آگ میں ڈال دیا ۔ جس کو ربِ تعالی ٰ نے اپنی قدرت سے سلامتی والی اور گل وگلزار میں تبدیل کر دیا ۔اسی دن حضرت ابراہیم ؑ کو خلیل اﷲ کا لقب عطاء ہوا ۔اسی دن حضرت اسماعیل ؑ کی پیدائش ہوئی ۔
اسی د ن حضرت یوسف ؑ کو قید سے رہائی ملی اور ان کی آزمائش کا خاتمہ ہو ا۔یہی وہ مبارک دن ہے جس میں حضرت یونس ؑ کی توبہ قبول ہوئی ۔ حضرت یونس ؑ جنھیں ایک مچھلی نے نگل لیا تھا اس نے واپس سلامت اگل دیا ۔
اسی مبارک دن میں حضرت ایوب ؑ کو اﷲنے صبر کا ان کو صلہ دیا اور ان کی آزمائش ، غم و الم کا خاتمہ فرمایا اور انھیں اس آزمائش سے نجات دلائی ۔
اسی مبارک دن کو حضرت سلیمان ؑ کو تمام مخلوقات جن میں ہوا ، جنات ، چرند پرند ، سبھی شامل تھے پر حکمرانی عطاء کی گئی ۔ انھیں تمام مخلوقات کا بادشاہ بنایا گیا ۔ (بکھرے موتی ۔۲۔۸۱)
بعض روایات کے مطابق دس محرم کو حضرت موسیٰ ؑ کا فرعون سے مقابلہ ہوا ۔ حضرت موسی ٰ ؑ اپنے پیروکاروں کے ہمراہ دریا کے کنارے پہنچ چکے تھے ، فرعون کا لشکر ان کا پیچھا کر رہا تھا ۔اﷲ تعالیٰ کی خصوصی رحمت سے حکم ہو ا کہ اپنی لاٹھی دریا میں ماریں جس کے نتیجے میں دریا میں گیارہ اور بعض کتب کے مطابق بارہ راستے بن گئیاور ان راستوں کے ذریعے حضرت موسیٰ ؑ کی قوم دریا کو پار کر گئی ۔جب فرعون نے یہ دیکھا تو ان کے پیچھے دریا میں اپنا لشکر داخل کر دیا جب تمام لشکر دریا میں چلا گیا تو مشیت ایزدی نے دریا میں بنائے گئے راستوں کو پاٹ کرپانی کو برابر کر دیا اس طرح فرعون کا لشکر پانی میں غرق ہوگیا۔اوراﷲنے حضرت موسیٰؑ اوران کے ساتھیوں کو بچا لیا ۔اس دن اﷲ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ فیض القدیر جامع صغیر میں آیا ہے کہ اسی دن حضرت موسیٰؑ پر وحی نازل ہوئی اور حکم ہوا “اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ دسویں محرم کو میری (اﷲ) کی بارگاہ میں توبہ کریں اور جب دسویں محرم کا دن ہو تو میری طرف نکلیں یعنی توبہ کریں میں ان کی مغفرت فرماؤں گا ۔ (فیض القدیر جامع صغیر ۳ ۔ ۳۴)
حضرت موسی ٰ ؑ خود بھی دسویں محرم کو روزہ رکھتے اوراپنی قوم کوبھی شکرانے اور عذاب سے نجات کے طور پر روزہ رکھنے کی ہدایت کی ۔ اسی شکرانے کی یاد میں بنی اسرائیل نے روزہ رکھا ۔۔اہلِ یہود آج بھی اس دن کو نجات کے دن کے طور پر نہ صرف یاد کرتے ہیں بلکہ آج بھی روزہ رکھتے ہیں ۔ نبی اکرم حضرت موسی ٰکی تقلید میں عاشورہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے جبکہ یہود سے فرق کرنے کے لیئے نو محرم کو بھی روزہ رکھنے کی ہدایت کی ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ نویں محرم کا روزہ اس وقت تک نہ رکھیں جب تک کہ اس کے ساتھ دسویں محرم کا روزہ بھی نہ رکھیں تاکہ اہلِ یہود سے مشابہت نہ ہو۔
یہ دن عیسائیوں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس دن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی ٰ ؑ کو اسی دن زمین سے زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا گیا اور ایک دن انھیں پھر سے زمین پر بھیجا جائے گا کہ وہ تمام عالم انسانیت کی فلاح کا کام سر انجام دیں ۔
یہ دن اسلام کے ظہور سے پہلے بھی خصوصی اہمیت اوررحمت کا حامل رہا ہے ۔ قریشِ مکہ اسی روز خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا کرتے تھے ۔اس دن عبادات کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محرم کی دس تاریخ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام الہامی مذاہب کے لیے اہمیت رکھتی ہے ۔اسلام سے قبل بھی چار مہینوں کو محرم قرار دیا گیا جن میں قتال اور جنگ و جدل کو منع فرمایا گیا ان میں سے ایک محرم الحرام بھی ہے ۔اسلام سے پہلے بھی محرم کے مہینے میں جنگ و جدل سے گزیر کیا جاتا تھا ۔
اسلام کے حوالے سے تو اس دن کی اہمیت ، رحمت سے انکار ممکن ہی نہیں۔اسی دن محسنِ عالم حضرت محمدﷺ نے ام المومینن حضرت خدیجہؓ سے نکاح فرمایا ۔اسی ماہ میں حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا ۔ جب ان پر حملہ کیا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ۔
ان تمام واقعات کے ساتھ محرم کا مہینہ جس واقعہ کی وجہ سے اسلام ادیان ِ عالم میں زندہ جاوید ہو۔یہ کربلا میں رونما ہونے والی حق و باطل کی وہ جنگ ہے جس نے دینِ اسلام کو بقا ء اور زندگی بخشی ۔ اسلام کی تاریخ کا سب سے یہ عظیم سانحہ محرم کی دس تاریخ کوپیش آیا جب بنی پاک ﷺکے نواسہ اور حضرت علیؓ کے صاحبزادہ ،امامِ عالی مقام حضرت حسینؓ کو کربلا کے مقام پر خود کو مسلمان کہنے والوں نے جنگ کے بعد شہیدکر دیا ۔ یہ وہ المناک سانحہ ہے ، وہ جنگ جس میں ایک جانب بھی ایک خدا اور ایک رسول ﷺ کے ماننے والے اور دوسری جانب بظاہر اﷲاکبر کی صدا بلند کرنے والے آمنے سامنے تھے ۔جہاں یہ واقعہ ہمیں حضرت امام حسینؓ کی داستانِ جرات کی یاد دلاتا ہے وہاں مسلمانوں کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ انسان کی زندگی عارضی ہے اور اس عارضی زندگی کو ابدی زندگی میں تبدیل کرنے کے لیے جواں مردی سے حق کی سربلندی کی خاطر جان قربان کر دینا ہی جرات مندوں کا شیوہ ہے۔ جہاں دین کی بقاء اور دنیا کی حکومت آمنے سامنے ہو جائیں وہاں دین کی بقاء کی خاطرسر فروشی سے جان قربان کر دینا ہی انسانیت کی معراج ہے اور یہی وہ عمل ہے جو فانی انسان کو لافانی حیات عطاء کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ وجاوید کر دیتا ہے ۔
اس دن کے بارے میں ایک روایات یہ بھی ہے کہ قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



1 thought on “محرم اور عاشورہ کی تاریخی حیثیت 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest