فلسفہ ء حجِ بیت اﷲاور عید الضحیٰ 

حجِ بیت اﷲاور عیدالضحیٰ حضرت ابراہیمؑ ، ان کی زوجہ محترمہ حضرتِ ہاجرہؑ اور ان کے بیٹے حضرتِ اسماعیل ؑ کی عظیم سنت مبارکہ کی تائید و تجدید ہے ۔حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر اور خلیل اﷲلقب رکھنے والے ہیں ۔ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ نے اﷲکے حکم کی پاسداری کی عظیم مثال قائم کی ۔درحقیقت حضرت ابراہیم دینِ اسلام کے داعی ہی جس کی تکمیل حضرت محمد مصطفیٰﷺ فرماتے ہیں ۔حضرت ابراہیم ؑ کی تمام زندگی اﷲکی واحدیت کا پرچار کرتے ہوئے گزری اور اسی ثابت قدمی کی بنا پر حضرت ابراہیمؑ کو خلیل اﷲ کا لقب عطاء ہوا ۔ حضرت ابراہیم کا ہر عمل حقیق اسلام کا اعلیٰ نمونہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ اﷲ نے ان کی زندگی کے تمام اعمال ابد لآباد تک صفحہ گیتی میں محفوظ کر دئیے اور ان کی داستان کوبقائے دوام حاصل ہوئی ۔
حضرت ابراہیم نے پیدائش کے بعد سے ہی اپنے خاندان کو بت تراشتے ہوئے دیکھا ۔بت تراشی میں مشہور اس خاندان کے یہ سپوت جب ہوش سنبھالتے ہیں تو تلاشِ حق میں سرگرداں ہو جاتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم ؑ وہ پہلے بت شکن ہیں جو اپنے ہی خاندان کے بنائے ہوئے بتوں کو توڑتے ہیں اور اپنے خاندان سے فرماتے ہیں کہ جن بت کی تم پوجا کرتے ہو مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں گویا اوالِ عمر سے ہی حضرت ابراہیمؑ حق پرست تھے ۔ جب اﷲانھیں حضرت اسماعیل ؑ سے نوازتا ہے اور حکم خداوندی کے تحت یہ خلیل اس شیرخوار اور اس کی والدہ کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ جاتے ہیں ۔ جب شیر خوار پیاس سے بے تاب ہوتے ہیں تو ماں کی انسان یا پانی کی تلاش میں پہلے صفاء کی پہاڑی پر پہنچتی ہیں جب شیر خوار کا خیال آتا ہے تو دوڑتی ہوئی واپس آتی ہیں جب پانی کا خیال آتا ہے تو مروہ کی پہاڑی پر چڑتی ہیں ۔ اس طرح یہ بہادر اور عظیم ماں سات چکر لگاتی ہیں ، یہان تک کہ اﷲایک فرشتے کو حکم فرماتا ہے کہ جس جگہ یہ شیر خوار ایڑیاں رگڑ رہا ہے اس جگہ پانی کا ایک چشمہ ظاہر کیا جائے ۔ بعض کتب کے مطابق فرشتہ اپنے پر سے زمین کھودتا ہے اور آب زم زم کا چشمہ ظاہر ہو جاتا ہے جو حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ اور آج تک ہر اس شخص کو سیراب کرتا آ رہا ہے جو اس شہرمیں آئے ۔ اﷲ کواس سرزمین میں ایک ایسا شہر آباد کرنا مقصود تھا جو حق پرستوں ، اسلام کے پیروکاروں کا مرکز اور امتِ مسلمہ کو جوڑنے والا ہو ۔ پانی کی موجودگی قافلوں کواس جانب متوجہ کرتی ہے ، ایک قبیلہ یہاں آکر آباد ہوتا ہے ۔ اسکے بعد سے آج تک یہ شہر امن کا شہر کہلا رہا ہے ۔ اس ؑ ظیم ماں کی سنت کی پیروی میں آج جو مسلمان حج کا قصد کرتا ہے وہ ان دو پہاڑوں کے بیچ اسی طرح سات چکر لگاتا ہے ۔ جسے ارکانِ حج میں سعی کا نام دیا گیا ہے ۔ ایک ہی سمت میں دوڑنے والوں کی زبانوں سے الھم لبیک کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ، کہ اے اﷲ ہم تیرے حضور حاضر ہیں ۔ تیرے حکم کے پابند ، لباسِ دنیا ترک کیے ہوئے، یکسو، اتحاد کے پیکر چاہے ان کا تعلق کسی بھی قومیت کسی بھی ملک سے ہو ، تیری ہر مرضی کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت آمادہ اور مستعد ۔ یہ وہ سبق ہے جو یہ سنت تمام امت کو دیتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اہمیت اﷲکے حکم کی پاسدادی اور بنا کسی حیل و حجت کے اس کے احکام کی بجا آوری ہی دین اور دنیا میں انسان کی کامیابی کی ضامن ہے ۔ جو محبتِ خداوندی کی جانب پہلا قدم ہے ۔



جب حضرت اسماعیل ؑ نوجوانی کی حد کو پہنچتے ہیں تو اﷲتعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ اپنے عزیزاز جان بیٹے کی قربانی فرمائیے ۔ یہ وہ اولاد ہے جسے باپ نے حکم خداوندی کی بجا آوری میں اس بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑا تھا۔جب جوانی کو پہنچی تو قربانی کا حکم آگیا ۔حضرت ابراہیم ؑ اﷲ کا یہ حکم بھی بجا لاتے ہیں اور اس حکم کی بجا آوری میں آپ ؑ کے اہلِ خانہ آپ ؑ کا مکمل ساتھ دیتے ہیں ۔حضرت خلیل ؑ اپنی زوجہ سے ذکر فرماتے ہیں وہ بنا کسی حیل وحجت کے نہ صرف اجازت دیتی ہیں بلکہ فرماتی ہیں کہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجئیے گا مبادہ بیٹے کی محبت اﷲکے حکم پر غالب آجائے ۔جب بیٹے کے علم میںیہ آتا ہے کہ ان کے باپ انھیں قربانی کی غرض سے لیئے جاتے ہیں تو یہ عظیم بیٹے فرماتے ہیں کہ اے والد محترم اﷲکا حکم ماننے میں کوئی تردد نہ فرمائے ۔بعض جگہ منقول ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ حضرت اسماعیل ؑ کوذبح عظیم کے لیے لے جاتے ہیں اور شیطان اپنے ہر حربے سے ناکام ہو کر ان کے پیچھے چلنے لگتا ہے تو حضرت ابراہیم ؑ اس کو روکنے کے لیے کنکریاں مارتے ہیں ۔ تاکہ وہ انھیں اﷲ کے حکم کی بجا آوری سے نہ روک پائے ۔ (آج حج کے مناسک میں شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں ۔ وہ اسی سنت کی تجدید ہیں کہ شیطان مسلمانوں کو اﷲکے حکم کی بجا آوری سے نہ روک پائے ) ۔ حضرت ابراہیم ؑ وفاکے پیکر ، اپنے بیٹے کو لیٹا کر قربانی کا قصد کرتے ہیں ۔ اﷲکی قدرت ، چھری چلتی ہے مگر گردن نہیں کٹتی ۔خلیل اﷲ کوشش کرتے ہیں ، ان کے صاحب زادے حکم خدا کی تکمیل کے منتظر ہیں ۔قربانی کرنے والے بھی پیغمبر خدا اور قربان ہونے والے بھی پیغمبرِ خدا، سبحان اﷲ۔اﷲنے حضرت ابراہیم ؑ کی یہ قربانی قبول فرماتا ہے اور حضرت اسماعیل ؑ کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیجا جاتا ہے ۔ جس کو بالآخر حضرت ابراہیم ؑ ذبح فرماتے ہیں ۔یہ تھی وہ عظیم قربانی جس کی تائید آج پوری امتِ مسلمہ کرتی ہے ۔ یہ عظیم مثال ہے صبر وضبط ایثار واستقلال ، اور اﷲ کے حکم کی پاسداری کی ۔مسلمانوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ حضرت اسماعیل ؑ کی اس قربانی کی سنت کو ہر سال پورا کرنے کا موقع پاتے ہیں ۔قربانی کو ہر صاحبِ نصاب پر واجب قرار دیا گیا ۔ اس طرح اﷲنے حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کو تادم قیامت زندہ جاوید کردیا ۔اور تمام امتِ مسلمہ کے لیے اس قربانی کو شکر گزاری ، اور خوشی کا موقع قرار دے دیا گیا ۔
حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی زندگی جیسے جیسے آگے بڑھتی جاتی ہے اﷲ نے ان دونوں باپ بیٹے اور پیغمبروں سے اہم ترین کام کرواتا ہے ۔ جب حضرت ابراہیم ؑ بڑھاپے کی عمر اور حضرت اسماعیل ؑ نوجوانی کی عمر پوری کر چکتے ہیں ۔حضرت ابراہیم ؑ جو اب تک اپنے بیٹے سے دور تھے ان کے گھر تشریف لاتے ہیں ۔ حضرت اسماعیل ؑ تلاشِ معاش کے سلسلے میں اس وقت گھر موجود نہیں ، ان کی زوجہ دروازہ کھولتی ہیں ۔ حضرت ابراہیم ؑ ان سے احوال پوچھتے ہیں ۔ وہ اپنے احوال کا شکوہ کرتی ہیں ، اپنی مشکلات پر نوحہ کناں نظر آتی ہیں ۔ حضرت ابراہیم ؑ اس ناشکری کو ناپسند فرماتے ہیں اوریہ عظیم باپ اپنے بیٹے کے لیے پیغام چھوڑتے ہیں کہ اپنے گھر کی چوکھٹ کو تبدل کر لیں ۔ حضرت اسماعیل ؑ گھر تشریف لاتے ہیں ۔ ان کی زوجہ انھیں تمام واقعہ سناتی ہیں اور پیغام ان تک پہنچاتی ہیں ۔ حضرت اسماعیل ؑ ، اپنے والد محترم کا پیغام سمجھ کر اپنی زوجہ کو طلاق دیتے ہیں اور ایک اور خاتون سے نکاح فرماتے ہیں ۔ ایک مخصوص عرصے کے بعد ان کے والد محترم پھر تشریف لاتے ہیں ۔حضرت اسماعیل ؑ کی زوجہ سے ان کے گھر کے احوال معلوم فرماتے ہیں ۔ وہ اﷲکی حمد و ثناء فرماتی ہیں اور شکرکا کلمہ پڑھتی ہیں ۔ بلا شبہ ایک نیک عورت ، خصوصا نبی کی زوجہ شکر گزار ہی ہوتی ہیں ۔ حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے کے لیے پیغام دیتے ہیں کہ اس چوکھٹ کوکبھی نہ بدلیں ۔ حضرت اسماعیل ؑ واپس گھر تشریف لاتے ہیں تو ان کی زوجہ ان کو تمام واقعہ سناتی ہیں ۔ حضرت اسماعیل ؑ اپنے والد کی نصیحت پر عمل فرماتے ہیں ۔ اس طرح اﷲاس گھرانے کے ہر فرد کو شکرگزار بناتا ہے ۔ اب حضرت ابراہیم ؑ کو حکم ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کے ساتھ مل کر اﷲکے ایک ایسے گھر کی تعمیر فرمائیں جو تمام عالم کے لیے مرکز کی حیثیت رکھے ۔ تمام عالم میں اﷲکے ماننے والے اس کا طواف کریں اوراس عظیم گھرانے کی زندگیوں سے حاصل ہونے والے تمام اسباق کو عملا اپنائیں ۔اس طرح حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ اﷲکے گھر کی تعمیر فرماتے ہیں ۔ حضرت اسماعیل ؑ پتھر اٹھا کر لاتے ہیں جبکہ ان کے والد حضرت ابراہیم ؑ ان پتھروں کو نصب کرتے جاتے ہیں ۔حضرت ابراہیم ؑ اس کام کے دوران اﷲسے دعا کرتے ہیں کہ اے اﷲمیری اولاد میں ایک نبی مبعوث فرما جو لوگوں کو برائی سے روکے اور اچھائی جانب راغب کرے ۔
حج کے اعمال و مناسک تمام کے تمام عشق و محبتِ خداوندی کے اعمال ہیں ۔ یہ تمام اعمال سنت ابراہیمی کا ورثہ اور مسلمانوں کے لیے اﷲ کی خصوصی رحمت ہے ۔ یہ وہ ورثہ ہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے راہ خدا میں اپنی
محبت و وفا ، بندگی واخلاص ، تسلیم و رضا اور قربانی سے قائم کیا۔یہ سنت ابراہیمی مسلمانوں کے لیے اتحاد کا مظہر ہے ۔ تمام دنیا میں بسنے والے مسلمان اس سنت کی ادائیگی کے لیے ہر سال مکہ مکرمہ آتے ہیں ۔ نسل اور قومیت سے بالا تر ہو کر ایک سا لبا س ، ایک عربی زبان اختیار کرتے ہیں ، چاہے مشرق سے آئے ہوئے مسلمان ہوں یا مغرب کے ، اﷲ کے ماننے والوں کو یہ سنت ایک لڑی میں پرو دیتی ہے ۔ اور دنیا دیکھتی ہے کہ اﷲ کوماننے والے جس بھی نسل سے ہوں جو بھی زبان بولتے ہوں ، صبر و استقامت اور ایثار کا منبع ہیں وہ اپنے رب کی رضا کے لیے صعوبتیں ، مشقت اٹھانے کو تیار ہیں ۔

[starlist][/starlist][facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest