گوادر: ایک نئی تاریخ 

گوادر دو لفظوں کا مجموعہ ہے ۔ گو ا اور در جن کے معنی ہیں ، ہوا اور دروازہ گویا گوادر کا لفظی مطلب ہے ساحلی ہوا کا دروازہ ۔ گوادر کو 1970ء میں ضلع کی حیثیت دی گئی اور پہلی بار سن 2002ء میں اس بندرگاہ کی تعمیر کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ۔ گوادر کی بندرگاہ بلوچستان کے ساحل پرواقع ہے ۔ قدرتی طور پر گرم پانی پر موجود بندرگاہوں میں سے ایک گوادر بھی ہے ۔گہرے پانی کی بندرگاہ جسے پاکستان کا مستقنبل بھی کہا جاتا ہے یہی ہے ۔ قدرتی طور پر یہ بندرگاہ تجارتی قافلوں کے لیے ایک آسان اور بہترین راستہ ہے ۔ یہ بندرگاہ کئی ممالک کے لیے تجارت کو بہتر بنانے کے لیے ایک آبی گزر گاہ کیحیثیت رکھتی ہے اور پاکستان کے لیے اس بندرگاہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بندرگاہ پاکستان کے جی ڈی پی میں اضافہ کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔ یہ بندرگاہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے ۔ اس بندرگاہ کی تعمیر میں پاکستان کے $248 ملین ڈالرصرف کیے ۔ تاہم اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس سے کہیں زیادہ ہوگی ۔ عنقریب گوادر پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ شہر ، اور پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند اہم ہو جائے گا ۔
گوادر کی بندرگاہ ، پاکستان کے لیے ایک ایسا سرمایہ ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونا نہایت آسان ہو جائے گا ان گنت لوگوں کو روزگار کی فراہمی ، بین الاقوامی ٹیکس پاکستان کی آمدنی میں اضافہ کا باعث بنیں گے ۔یہ بندرگاہ پاکستان اور چین کی مشترکہ کوششوں سے تکمیل کے مرحل طے کر پائی ۔ گوادر بندرگاہ پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کی ایک اور بڑی مثال ہے ۔ اس بندرگاہ کی تعمیر کے لیے چین نے پاکستان کو مکمل تکنیکی معاونت فراہم کی ۔ مالی امداد کے ساتھ، گوادر کی تعمیر کے لیئے چین کی جانب سے پاکستان میں خصوصی تکنیکی افراد اور انجیئربھیجے گئے جنھوں نے اس بندگاہ کی تعمیرکے لییبے حد کوششیں کی ۔ اس بندرگاہ کی تعمیر کے دوران کئی نا خوشگوار واقعات بھی پیش آئے ، چینی انجینروں کو اغواء کیا گیا ۔ فوج ، ایف سی اور بلوچستان پولیس کے علاوہ دیگر افراد نے اس بندرگاہ کی کامیاب تکمیل کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں بھی پیش کی۔ کئی بار اس بندرگاہ پر کام کو روکنے کے لیے بم دھماکے کروانے کی مضموم سازشیں بھی کی گئی جن کو پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے اپنی کوششوں سے ناکام بنا دیا ۔ ایف سی ، پاک فوج اور ملکی سلامتی کے اداروں نے اس بندرگاہ کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ۔ ملک دشمن عناصر نے اپنی حتی الامقدور کوشش کی یہ بندگاہ تجارت کے لیے کبھی نہ کھولی جا سکے تاہم اﷲ کے فضل و کرم اور پاک فوج کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے آج یہ بندرگا ہ مکمل طور پر کام میں لائی جا چکی ہے ۔اس بندرگاہ پر تجارتی قافلوں کی آمد ورفت کے آغاز میں پاک بحریہ کا کردار کسی طور کم نہیں۔ پاک بحریہ نے اس بندرگاہ کی سیکیورٹی کی خاطر ایک الگ بٹالین تشکیل دی ہے جس کا مقصد اس بندرگاہ کی حفاظت، یہاں لنگر انداز ہونے والے جہازوں اور عملہ کی حفاظت کرنا ہے ۔ پاک بحریہ اس بندرگاہ کا انتظام سنبھال کر تجارت کو احسن طریقے سے کامیا ب بنانے میں کوشاں ہے ۔ پاک بحریہ کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ چین کے جو انجینئر زاور وفود گوادر کی بندرگاہ کا دورہ کر رہے ہیں ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گااور گوادر سی پیک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ہر ممکن حفاظت کی جائے گی ۔


چین کے نمائندہ لی کینگینگ نے پاکستان کے دورہ کے دوران گوادر کے بارے میں کہا کہ یہ بندگاہ سمندری راستوں میں شاہراہ ریشم کی مانند ہو گی جس کی وجہ سے ایشیاء ، افریقہ اور یورپ کے تین بلین لوگوں کا آپس میں رابطہ قائم ہو سکے گا ۔
گوادر بندرگاہ کی کامیاب تکمیل کا خواب اس سال پورا ہوا اورپاکستان کے عوام نے اس بندرگاہ پرعالمی تجارتی قافلہ کو دیکھا ۔پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی دن ہے اور ملکی تعمیر و ترقی کی جانب پہلا قدم بھی ۔ گوادر اور سی پیک منصوبہ کی کامیابی ہے کہ گوادر میں سی پیک کے رستے پہلا تجارتی قافلہ 13 نومبر کو روانہ ہو ا۔ تجارتی قافلہ کو روانہ کرنے کی باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی ۔ جس میں وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ اعلیٰ افسران اور بری افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی شامل تھے ۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے تجارتی قافلے کو روانہ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے یہ خوشی کی بات یے کہ میں اس تقریب سے خطاب کر رہا ہوں ۔انھوں نے کہاکہ آج ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے ۔ سی پیک کا منصوبہ حقیقت کا روپ دھار رہا ہے اور سی پیک سے پاکستا ن تجارتی مرکز بن جائے گا ۔ اس خطے میں سی پیک بننے سے خوشحالی آئے گی ۔ سی پیک خطے میں ترقی کا ذریعہ بنے گا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ سی پیک ایک سڑک ایک خطے کے وذن پر بنی اور ایف ڈبلیو میں کام کرنے والے شہیدوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ کاشغر سے گوادر تضارتی قافلے کی آمد تاریخی لمحہ ہے ۔ انھوں نے پاک بحریہ کو سراہتے ہوئے اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی جس کی بدولت اس بندرگاہ پر تجارتی قافلوں کی آمد و رفت کا آغاز ہو گا ۔ وزیرِ اعظم نے بیرونی سرمایہ کاروں اور بیرونی سفر کرنے والوں کو مکمل سیکیورٹی کا بھی یقین دلایا ۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گوادر سی پیک کے تاج میں اصل ہیرا ہے ۔ حکومت نے سڑک کے منصوبوں پر 145ارب روپے خرچ کئے ۔سی پیک کے تحت بھی صنعتی زون بنیں گے ۔ پاکستان کو چین کے ساتھ دوستی پر فخر ہے ۔ سی پیک راہداری کے حق میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ راہداری منصوبہ علاقے میں امن اور سلامتی لائے گا ۔سی پیک کے تمام منصوبوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے ۔ وفاق ، فوج اور بلوچستان حکومت کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں ۔ اپنی تقریر کے اختتام پر وزیر اعظم نے پاک ثین دوستی زندہ باد کا نعرہ بھی لگا یا ۔
گوادر اور سی پیک دونوں منصوبے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستا ن کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو ترقی کی راہوں پر گامزن کر دیں گے ۔ خصوصا پاکستانی معیشت پر ان دونوں منصوبوں کے اثرات دور رس ہوں گے ۔
بلاشبہ پاکستان کو اﷲ نے ہر نعمت سے نوازا ہے ۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لاتے ہوئے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر نے اور ہر بیرونی طاقت سے لڑنے کے لئے متحد ہو جائیں ۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest