تجدید عہد وفا کا دن : ۲۳ مارچ یو مِ پاکستان 

۲۳ مارچ : یوم پاکستان کو منانے کے لیے افواجِ پاکستان کی جانب سے پریڈ کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں پہلی بار چین اور ترکی کی افواج کے دستے بھی شامل کئے گئے ہیں ۔ اس شاندار پریڈ کی تیاری کئی دنوں سے جاری تھی ، سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں ۔ اس دن کی تقریبات کا اہتمام اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری اگلی نسلوں کو ملکی تاریخ سے آگاہی حاصل ہو سکے اور وہ یہ جان سکیں کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے مسلمانانِ ہند نے کتنی زیادہ قربانیاں دیں ۔
تاریخ کے جھرکوں میں جھاکیں توسوچ کے کئی در وا ہوتے ہیں ۔ آج ہی کے دن لاہور کے منٹو پارک میں مسلم لیگ کے راہنما اکٹھے ہوتے ہیں ۔ اجلاس کا آغاز ۲۱ مارچ ۱۹۴۰ ء سے ہوتا ہے ۔ پہلی بار مسلمانوں کو الگ قوم کا تشخص دیا جاتا ہے ۔صدارتی خطاب میں مسلمانوں کے راہنما کہتے ہیں کہ اس امر کی وضاحت کر نا کہ ہمارے ہندو دوست ، اسلام اور ہندو ازم کی حقیقی صورتحال اور حقیقت کو سمجھنے سے قاصر کیوں ہیں ۔ ایک بڑا مشکل امر ہے ۔
پہلی بار یہ واضع کر دیا جاتا ہے کہ مسلمان ہندوؤں سے ایک الگ قوم ہیں ۔ دو قو می نظریے کا وجود عمل میں لایا جاتا ہے ۔ یہ بات وضع کی جاتی ہے کہ برصغیر میں دو الگ الگ قومیں آباد ہیں ۔ ان کا رہن سہن الگ ، ایک مذہب کے ہیرو دوسرے مذہب کے دشمن جبکہ دوسرے کے ہیرو پہلے کے دشمن ۔ ایک مذہب میں گائے کی قربانی افضل فعل جبکہ دوسرے مذہب میں اسی گائے کی قربانی حرام ۔ایک مذہب میں گانا بجانا حرام تو دوسرے مذہب میں گانا بجانا مذہب کا اہم ترین رکن ۔ ساتھ رہنے والے الگ الگ تشخص ، الگ الگ تہذیب کے حامل ۔ ایک مذہب کی کسی علاقے میں اکثریت جبکہ دوسرے کی کسی اور علاقے میں ۔مسلمانوں میں یہ جذبہ جگایا جاتا ہے کہ اگر انھیں انگلستان سے آزادی حاصل کرنا ہے تو ہندوؤں کی غلامی نہیں کرنا ۔اس اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ مسلمانوں کی منزل ایک الگ سرزمین ہے ۔ ایک ایسا خواب جس کی تعبیر کو حاصل کرنے کے مسلمانوں میں ایک عظیم جذبہ بیدار ہو ا۔ ایک جذبہ، ایک خواب کی تعبیر پانے کا عزم، انھیں سات سال کی ان تھک محنت لیکن قلیل مدت میں الگ مملکت بنانا ممکن کر دیتا ہے ۔اس جدوجہد میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ ان کا علاقہ پا کستان کا حصہ نہیں ہو گا ۔ آگ اور خون کا دریا بار کرنے والے صرف اس لیے سب قربان کر دیتے ہیں کہ کوئی ایک خطہ ایک ہو گا جس میں اسلام کا نفاذ ممکن ہو گا جہاں مسلمان امن و آشتی سے زندگیاں بسر کر سکیں گے ۔ لیکن ان کروڑوں انسانوں کے خوابوں کو ابھی تعبیر ملنا باقی ہے ۔
اگرچہ اس قرارداد میں لفظ پاکستان موجود نہیں لیکن چونکہ اس قرارداد میں الگ مملکت کے قیام اور الگ آئین کی تیاری کا عندیہ دیا گیا جس کی وجہ سے ہندؤں نے اس قرارداد کو طنزا قراردادِ پاکستان کہنا شروع کیا اور وہ قرارداد لاہور جو مسلمانوں کے لیے قراردادِ لاہور تھی ، قرار دادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی ۔



بلا شبہ قراردادِ پاکستان کو پاکستان کے آئین کی پہلی اور سب سے اہم دستاویز قرار دیا جا سکتا ہے ۔مینارِ پاکستان کے صدر دروازہ کے سامنے کندا کی گئی یہ قرارداد ، بس اسی احاطہ کا حصہ بن کر رہ چکی ہے ۔۔ المیہ یہ ہے کہ اس قرارداد کو آئین کے پہلے حصہ کے طور پر نہ تو صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا اور نہ ہی اس قراداد کو مکمل طور پر کبھی بھی شائع نہیں کیا گیا یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے اکثر کو اس قرارداد کی اہمیت کے بارے میں خاص علم نہیں ہے ۔ ہماری نئی نسل تک اس قرارداد کا متن پہنچایا ہی نہیں گیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قرارداد کو جاننا کیوں ضروری ہے ؟ اس لیے کہ یہ قرار داد پاکستان کے لیے بنیاد کی سی حیثیت رکھتی ہے اور کسی عمارت کی تزین و آرائش اس وقت تک درست پیمانوں پر نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کی بنیاد کا علم نہ ہو اور جب تک بنیاد کو مضبوط سے مضبوط نہ کر دیا جائے ۔
ہر سال یہ دن بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے لیکن کیا صرف تقریبات کا اہتمام کر لینا کافی ہے ؟ یقیناًنہیں ۔ اس ملک کی سلامتی اور وقار کو بحال کرنا ، اقوامِ عالم میں اس ملک کا نام بلند کرنا اس سے کہیں اہم ہے جتنا کہ اس دن کو منانا ۔ ہم میں سے ہر ایک اس ملک کا سفیر ہے اور ہر ایک کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا ہو گا۔
اگرچہ آج تیرگی کے بادل ہر سو چھائے ہوئے ہیں ۔ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے ۔ ہماری بیٹی آفیہ دشمن کی قید میں ہے ۔ کشمیریوں کے نالہ دشمن کی بازگشت ، سانحہ سیہون شریف اورسانحہ پشاور بھی ہمارے کندھوں پر ہے ۔ نیا پاکستان اور بھٹو زندہ ہے کی آوازیں بھی چہار جانب گونج رہی ہیں ۔ ہمارے بچے سسک رہے ہیں اور ہم میلے اور فسٹیول میں مصروف ہیں ۔ہماری مائیں بہنیں بنا بستروں کے ہسپتالوں میں جان کی بازیا ں ہار رہی ہیں اور ہم بلند و بالا سٹیشن اور سٹرکیں بنانے میں مصروف ہیں ۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ ہمارا تو دامن محفوظ ہے نہ ہی دستار، ہماری تہذیب ہے تو وہ خود کشی کرنے جا رہی ہے ۔ ہماری بنیادیں تک کھوکھلی کی جاچکی ہیں ۔ ہم جھوٹے لبوں کی ریاکاری میں کھو چکے ہیں ۔ ہم صمن بکمن ہو نے اپنی عصمتوں کو سرِ بازار نیلام ہوتے دیکھ رہے ہیں ۔ ہم نے جھوٹ کے ہاتھ پر عہد کر چکے ہیں کہ تمام بنتا رہا قوم کا وقار اور ہم اپنی ذات بناتے رہے خوشی سے ۔



نام نہاد روشن خیالی اور نام نہاد لبرل ازم کے ماننے والے اس دو قومی نظریہ کو قد غن لگانے میں کو ئی کسر باقی نہیں رکھتے ۔ ان کی کوشش ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں دو قومی نظریے کا تاثر اس قدر دھندلا کر دیا جائے کہ انھیں یہ سرحد جو کہ خون سے بنائی گئی ہے ایک لکیر سے زیادہ نہ دیکھے ۔دو قومی نظرے کو قدغن لگانے والے یا تو نہایت ہی چلاک دشمن ہیں یا پھر بے وقوف دوست کیونکہ یہ دو قومی نظریہ ہی ہے جو اس ملک کی بنیاد ہے ۔ اگر بنیا د کو کھوکھلا کر دیا جائے اور ذہنوں میں سرحدوں کو مٹا دیا جائے تو نقشوں پر کھینچی گئی لکروں کو مٹانا مکمن ہو جایا کرتا ہے ۔ آج کی جنگ زمین پر نہیں لڑی جاتی جبکہ آج کی جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس میں لوگوں کے ذہنوں کو فتح کر کے ان کے نظریات کو بگاڑ کے انھیں غلامی کا طوق پہنا دیا جاتا ہے ۔
نئی صبح کا سورج طلوع ہونا ابھی باقی ہے ۔ہمیں پھر سے اسی جذبے سے اس ارضِ وطن کے لیے کام کرنا ہو گا جس جذبے کا مظاہرہ اس وطن کے قیام کے موقع پر کیا گیا تھا ۔ہمیں اپنی سوچ کو ذاتیات سے بالا تر ہو کر وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کرنا ہو گا ۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ پاکستان سونپنا ہو گا ۔ ہم گذشتہ ستر برس سے اس ملک کی حفاظت کے لیے لٹر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنی نسلوں کے ذہنوں کو بھی ان حملوں سے محفوظ رکھنا ہے ۔اس کے لیے کوئی موجزہ نہیں ہو گا بلکہ ہمیں ارادتا یہ کرنا پڑے گا ۔ آئیے ! اس برس ۲۳ مارچ کو یہ عہد کرنے کہ ہم اس ارض وطن کی بنیادوں کو کھوکھلا ہونے سے بچائیں گے اور اپنے بچوں کے ذہنوں میں اسلام کو اجاگر کریں گے ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest