حرف حرف خوشبو۔ ۔۔۔۔ڈاکٹر محمد اعظم رضاتبسم

میمونہ صدف کی کتاب ’’پلک بسیرا‘‘ 

  زمانے کی تلخیوں ،آزمائشوں کے خار زاروں سے سفر کر کے ، اپنے خوابوں کو تعبیر سے ہمکنار کرنے والی ، خوش مزاج،مصنفہ میمونہ صدف کی کتاب پلک بسیرا پر تفصیلی رائے افسانہ کہنے کو تو وحدت تاثر سے بھرپورایک ایسی کہانی ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھ لی جائے مگر میں یوں کہوں گا۔۔۔۔۔۔

۔بہترین افسانہ نگار وہ ہے جس کا افسانہ ایک نشست میں پڑھ کر کئی نشستوں میں سوچا جائے اور ہر بار ایک نیا زاویہ فکر سامنے آئے ۔۔۔۔۔۔۔سوچ اور فکر کو نکھار دینے والی آج کی افسانہ نگار میمونہ صدف کی کتاب پلک بسیرا کی تقریب رونمائی میں مجھ طالب علم کو گفتگو کا جو موقع ملا اس کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں آپ کا ، آپ سب کا ، آپ سب کے آنے سے سننے اورسمجھنے اور سمجھنے والے اندر کے انسان کا جو آپ سب کو یہاں لے

آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




 کتاب کے نام پر ایک افسانہ ۔۔۔۔۔۔کتاب ہذا میں شامل ہے ’’پلک بسیرا ‘‘ یہ اصل میں ایک گھر کی کہانی ہے جہاں حال کی تمام سہولیات بھی ہیں اور ماضی کی شاندار یادیں بھی اور فیوچر کے حسین خواب بھی مگر ایک چیز کی کمی ہے اور وہ ہے’’ تکمیل ‘‘ یعنی گھر مکمل نہیں کہیں کسی چیز کی کمی ہے اور وہ مکینوں کی نظر سے اوجھل ہے ایک ماں ہے جو اس کمی کو جانتی تھی مگر وہ اسی پریشانی میں دنیا سے گزر گئی کہ دور جدید کا پڑھا لکھا گھر کا کوئی فرد اس پرانے زمانے کی بڑھیا کے ساتھ اس کمی کو دور کرنے کے لیے تعاون کو تیار نہ تھا ایک میاں بیوی اور بچوں سے بھرپور یہ گھرانہ کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 یہ موجودہ دور میں کئی گھروں کا افسانہ ہے میں اگر مختصر کہوں تو یہ کہانی میں نے ایک معلم کی حیثیت سے کئی بچوں کے چہروں پر پڑھی ایک ادیب ہونے کی حیثیت سے کئی بار اسے سوچا ہاں ۔۔۔یہ بات قابل داد ہے کہ اس کہانی کو میمونہ نے لکھ ڈالا اور اس المیے کو الفاظ کے سانچے میں ڈھال کر کرداروں کے موتیوں سے سجا کر نظر آنے والے ایک خوبصورت گھر اور حقیقتا خوشیوں سے خالی گھرکو لا کر فکر کے کینوس پر رکھ دیا کہ اپنے معاشرے کے اس پہلو کو بھی سوچو یقیناًیہ ان کی گہری بصیر ت اور مشاہدہ ہے ۔جس کا کسی طور بھی انکار ممکن نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

یہ حقیقتا اس المیہ کی طرف اشارہ کیا گیا کہ آج کل کی جدید سہولیات سے بھرپور




 گھر بھی مکمل گھر نہیں کہلاتا دراصل ہم زندگی جی نہیں گزار رہے ہوتے ہیں زندگی جینا اور گزارنا دوالگ الگ چیزیں ہیں ہم جس فیوچر کا خواب اپنی آنکھوں میں سجاتے ہیں وہ ہمیشہ ہی فیوچر رہتا ہے کبھی حال نہیں بنتا اگر ہم اس فیوچر میں داخل ہو بھی جائیں تو ہمیں حال کا احساس نہیں ہوتا عمومی طور پر دیکھا جائے تو ہم کہتے ہیں جب گاڑی ہو گی ، گھر اپنا ہو گا ،تب میں ایسے ایسے زندگی گزاروں گا ایک ایسے فیوچر کا خواب جس کے ہونے نا ہونے کی گارنٹی ہمارے پاس نہیں جب کہ حال جس میں ہم ہیں بالکل ہی بے حال ہوتے ہیں اور نعم کا شکر ادا کرنے کی بجائے مادی دوڑ میں پیست کے گھوڑوں کی ریس جیتنے میں محو ہوتے ہیں ۔

 وہ پلک بسیرا جس کو سب کے ارمانوں کا گھر بننا تھا ۔ اینٹ پتھر سے بنا ایک مکان بن چکا تھا جہاں گھر کے مکینوں کو ایک دوسرے سے کوئی غرض نہ تھی ۔ ماں صدمے میں گزر گئی اور بیوی ارمان لے کر دنیا سے چل بسی اب کیا تھا اب تینوں بچے تھے پلک بسیرا کی تنہائی تھی اور ایک لاپرواہ باپ۔ ماں کے جانے کے بعد بچے کٹی پتنگ کی مانند ہو گئے ۔ باپ کی مصروفیت اور لاپرواہی نے بیٹوں کی تربیت میں تو خلل ڈالا ہی لیکن بیٹی بھی اس بے توجہی سے بچ نہ پائی۔ اگر پودوں کو تراشا خراشا نہ جائے تو وہ اپنی ہیت کھو دیتے ہیں۔ بدصورتی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے عصر حاضر کی نبض شناس مصنفہ نے اس ایک ہی زاویہ فکر پر قلم نہیں اٹھایا بلکہ اپنے معاشرے کے بہت سے دیگر دقیق مسائل کو بھی اپنا موضوع بنایا چلتے پھرتے چہروں کو کرداربنا نا۔۔۔۔۔۔ مختصر نیز موقع بر محل مکالمے انسانی خواہشات اور توقعات کو اپنا موضوع بنانا اپنے ایک نئے اسلوب کا آپ تعارف ہے آپ نے اپنے افسانوں میں نیکی کی تمام تر مشکلات کے باوجود نیکی کو بدی پر غالب رکھا کسی ایسی رسمی فکر اورجذبات کے بہاؤ کی نذر نہیں ہوئیں کہ اپنا ذاتی نکتہ نظر شامل نہ کیا ہو ۔ پہلا افسانہ اس بات کی عمدہ دلیل ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

عالم اسلام اور مسلمانوں کے موجودہ حالات پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ ان کی خدا داد صلاحیتوں میں تفکر و تدبر بھی شامل ہے ۔۔۔۔۔مکالمہ میں سوال جواب معنویت سے بھرپور ہیں جو ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں اٹھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جیسا کہ پہلے افسانہ میں سوال کیا گیا ہے ۔ تم نے اسلام کے ابتدائی ادوار کا مطالعہ کیا ؟؟۔تمھارے مذہب کا آغاز ہی جنگ سے ہوا ہے۔ (یہ جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے ) ۔۔۔۔۔جس مذہب کا آغاز ہی جنگ سے ہوا ہو وہ امن کا مذہب ، امن کا داعی کیسے ہو سکتا ہے ؟۔”



 ۔۔۔۔۔ بدی کے دلائل مضبوط نظر آتے ہیں مگر کہیں بھی غیر جانبداری نظر نہیں آتی ۔۔۔۔مسلمان ہو کر کہیں محض جذباتی اور شدت پسندانہ رویہ نہیں اختیا ر کیا گیا بلکہ مستند اور مضبوط دلائل سے نیکی کو فتح دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو عقل اور مد مقابل کے تمام ذہنی سوالات کا جواب ہیں ۔ جیسے کہ بدی جب نیکی کے سانچے میں ڈھلتی ہے تو اعتراف جرم یوں کیا جاتا ہے ۔

 سا ل 2008ولیم نے اسلا م قبول کر لیا تھا ۔اس کا اسلامی نام عبداللہ رکھا گیا تھا کیو نکہ یہ اس کی اپنی خواہش تھی ۔ ایک اسلامی چینل کو انڑویو دیتے ہوئے کل کا ولیم اور آج کاعبداللہ کہہ رہا تھا

 ۔ ” میں ایک بنجر زمین کی مانند تھا ۔اسلام نے اس پر ہرے بھر ے پودے کھلا دیئے ۔اب میں داڑھی بھی رکھو ں گا ۔اور اﷲکا ہر حکم مانوں گا ۔ اسلام امن ہے۔ اس نے مجھے امن دیا ۔اسلام نے مجھے مطمئن کر دیا”۔میں سکون کی تلاش میں تھا آج میری تلاش پائیہ تکمیل کو پہنچ گئی ۔ وہ رو رہا تھا ،دھا ڑیں مارما ر کر رو رہا تھا لیکن ردحقیقت یہ ایک ابدی خو شی تھی جو کرن کرن روشنی کی صورت پھیل گئی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درحقیقت۔۔۔۔۔۔۔اب مجاہد ہیرو نہیں رہے میں نے بچپن میں ٹی وی پر دیکھا تھا۔ ٹیپو سلطان کا ڈرامہ ہوا کرتا تھا جس میں مسلمان اور اسلام کی عظمت دکھائی جاتی تھی۔ کشمیر پر مبنی ڈرامہ لاگ بھی مجھے یاد ہے جو کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور بھارتی جارحیت کی عکاسی کرتا تھا ۔ میں نے تیسری جماعت میں اسلامیات کی کتاب میں اسلام کے بارے میں بھی بہت کچھ پڑھا جو مجھے ابھی تک یاد ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ آج ٹی وی دیکھتا ہوں تو مجھے مغربی فحاشی ہی نظر آتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کو اچھا بنانا ہی نظر آتا ہے۔ یو ایس ایڈ کے اشتہارات نے تو ہمارا ملکی میڈیا جیسے خرید ہی لیا ہو۔ اب میں نے پہلی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک کی کتابیں چھان ماریں مجھے کہیں اسلامی نصاب کا کوئی خاص مواد نہیں ملا۔۔۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔۔ جب کسی قوم کو غلامی کی دلدل میں دھکیلنا ہو تو اسکی آنے والی نسلوں کو آزادی اسلام اور انکے اسلاف سے دور کیا جاتا ہے۔میرے ملک میں یہ سب کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر میری نسلوں میں سے ہو سکتا ہے کوئی ٹیپوسلطان پیدا ہو جائے,, کوئی صلاح الدین ایوبی پیدا ہو جائے۔ اور پھر طاغوت کو سر چھپانے کی جگہ نہ ملے۔ مگر جب فرعون اپنی موت کے ڈر سے اتنا اندھا ہو چکا تھا کہ ہر بچے کو قتل کرتا کہ شاید یہ میری حکومت ختم کردے یا وہ ختم کر دے تو دوسری جانب اسی بچے کو جس کو میرے رب نے فرعون کے خاتمے کے لیے بھیجا تھا اس کو اپنے محل میں پال رہا تھا۔ انہیں بھی کوئی سمجھا دے کہ اسلام کو دبایا نہیں جاسکتا۔ اسلام تو ایک درخت کی مثال ہے درخت کو کبھی دیکھا ہے کہ بڑھتے ہوئے شور کر رہا ہو۔ نہیں درخت اندر سے بڑھتا رہتا ہے اور جڑیں پھیلتی رہتی ہیں مگر کوئی آواز اور شور نہیں کرتا۔ وہ سایہ دار درخت بن کر لوگوں کو سایہ بھی دیتا ہے کوئی اسے پتھر مارے تو وہ جواب میں اپنا پھل گرا کر اسے پیش کرتا ہے۔ مجھے اپنے دین اسلام پر فخر ہے۔ کوئی اسے دبا نہیں سکتا۔ اور وہ مر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



 قبریں ہی جانتی ہیں کہ اس شہر جبر میں

 مر کر ہوئے ہیں دفن یا زندہ گڑے ہیں لوگ

 تشبیہات کا نہایت عمدہ استعمال کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے افسانہ ’’اور وہ مرگئی ‘‘ کو دیکھ لیں اس کی ذات ایک خالی قلعے کی مانندتھی ۔ جس کی دیواریں اونچی اور مضبوط تھیں اور اس میں غم اور دکھ کی نہ جانے کتنی ہی چمگادڑیں چیختی رہتی تھی ۔ جن کی آوازیں قلعے کی مضبوط دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر اندر ہی گھٹ جاتی تھی ۔ 

باہر کا کوئی فرد انھیں سننے سے قاصر تھا اور نہ ہی وہ کسی اور کو یہ آوازیں سننے کی اجازت دے سکتی تھی ۔ ۔۔۔ 

 یہاں علم ہوتا ہے کہ علم بیان اور علم بدیع پر بھی خاصا عبور حاصل ہے ۔ یقیناًان کے یہ الفاط اپنا وجود برقرار رکھیں گے ۔ کیونکہ الفاظ زندہ ہوتے ہیں الفاظ بھی آدمیوں ہی کی طرح پیدا ہوتے اور مرتے ہیں۔ بیمار پڑتے اور تندرست ہوتے ہیں۔ بڑھتے اور گھٹتے ہیں۔ گوشہ نشین رہتے اور سفر کرتے ہیں۔
 ایک اچھا تخلیق کار جو تخلیق کرتا ہے وہ کبھی مرتا نہیں مختصر کہوں اور اجازت چاہوں جذبات کو شعور کی لگام دینا ہی تخلیق کار کی تخلیق کا حسن ہوتا ہے جس قدر اسے عبور حاصل ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اسی قدر کامیاب رائٹر ہوتا ہے ۔ الحمد للہ میمونہ کی تحاریر میں یہ سب فنی خوبیا ں پائی جاتی ہیں اگر اپنے اساتذہ فن سے رہنمائی لے کر چلتی رہیں تو آپ صاحب اسلوب مصنفہ ثابت ہو نگیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ان شا ء اللہ تبصرہ نگار؛۔ ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

To buy this book (Palak Basaira) visit the nearest book stall or buy it online @ Daraz.pk or  Contact:0342-0509501



[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest