دیوار عشرت سے پرے

یہ دارلحکومت سے متصل F-10 کا علاقہ ہے ۔ یہ کوئی گاؤںیا اندرون شہر نہیں بلکہ ہمارے ہی دارلحکومت کا حصہ ہے ۔ایک ہی سڑک کے کنارے ایک طرف توخوبصورت فلک بوس عمارات نہ صرف ا س شہرکی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔بلکہ ملک میں ہونے والی ترقی کی ترجمانی بھی کرتی ہیں ۔بڑے بڑے پتھروں اوربھاری دروازوں پر مشتمل یہ پرشکوہ عمارات جاہ و جلال کا ایک نمونہ ہیں ۔ وسیع و عریض رقبع پر پھیلی ہوئی یہ عمارات اپنے مکینوں کی امارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔یہاں ایک ہی گھر میں کئی طرح کیبے انتہا مہنگی گاڑیاں کھڑی ہیں ۔ان گھروں کے رہنے والوں کا رہن سہن شاہانہ ہے ۔ جن کے روزانہ کا خرچہ شاید کئی ہزار روپے تک ہے ۔جو کہ شاید

کسی بھی متوسط طبقے کے شخص کی پورے مہینے کی تنخواہ کے برابر ہوتا ہے ۔
اسی سڑک کے دوسری طرف وہ گھر بھی ہیں جو ایک جھونپڑی پر مشتمل اور چند گز پر محیط ہیں ۔ایک قطار میں بنی یہ جھونپڑیاں اور کچے کمرے کسی کچی بستی کا منظر پیش کرتے ہین ۔ ان جھونپڑیوں کے مکینوں کا کل اثاثہ چند ایک ٹوٹے برتن، بستر کے نام پر گڈریاں اور دروازے کی جگہ پرانے کپڑوں کا پردہ لٹکا ہوتا ہے۔

آزادی کے 70سا ل بعد بھی ان جھونپڑیوں کے مکین ابھی تک گیس ، بجلی اور یہاں تک کہ پانی کی سہولیات سے بھی محروم ہیں ۔یہ لوگ نسل در نسل انھی جھونپڑیوں میں بس رہے ہیں بہت زیادہ محنت اور کوشش بھی انھیں ایک جھونپڑی سے نکال کر ایک کمرے میں لے جاتی ہے ۔ ان کی خواتین آج بھی گھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اکثر انھی گھروں میں ملازمہ کا کام کرتی ہیں اورمرد محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کی زندگی کی گاڑیاں کھنچتے ہیں۔

کام کاج سے پہلے یہ عورتیں سڑک کے دوسری جانب امراء کے گھروں کے باہر کی دیوار پر لگے نلکوں سے پانی بھرنے آتی ہیں ا۔ جس وقت سڑک کے دوسری جانب رہنے والے بچے سکولوں کو روانہ ہوتے ہیں ان جھونپڑیوں میں رہنے والے بچے اپنی ماؤں کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس حالات کی تلخی سے نا آشنا سڑک پر چلتی ٹریفک کے بیچ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے اور کھیلتے رہتے ہیں بعض اوقات حادثات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں ۔ ان کی مائیں ایک قطار میں کھڑی اپنی باری کے انتظار میں ہر موسم کی شدت کو سہتے ہوئے انھی لوگوں کی اترن پہنے ہوئے ، اپنے بچوں کو نہلاتی ، پانی کے برتنوں کو بھرتی اور اپنی


جھونپڑیوں کو لوٹ جاتی ہیں ۔ ان بچوں نے سکول کا منہ دیکھنا تو درکنار نام تک بھی نہ سنا ہو گا ۔ ان کی زندگیاں اسی سڑک کے کنارے کھیلنے سے شروع ہو کر اسی سڑک کے کنارے کدال اٹھائے روزی روٹی کی تلاش میں بیٹھے مزدور کی صورت میں ختم ہو جاتی ہیجبکہ اسی ایک دیوار کی دوسری طرف وہ بچے بھی رہتے ہیں جن کوپجارو گاڑیاں اس شہر کے مہنگے ترین سکولوں میں چھوڑنے جاتی ہیں ، جن کے بستے تک ان کے ملازم اٹھاتے ہیں ۔ اور ان کے دسترخوان انواع و اقسام کی ڈشز سے مزین ہوتے ہیں الغرض انھیں ہر قسم کی آسائیشیں میسر ہیں ۔ ۔ اس ملک کا مستقبل امیر اور غریب دونوں بچوں سے وابسطہ ہے ، دونوں نے ہی اس ملک کی باگ ڈورسنبھالنا ہے۔
دیوار کے ایک طرف رہنے والے اپنے اقتدار کی ہوس اور اپنی پرتعیش زندگیوں میں اس قدر مصروف ہیں کہ انھیں اپنی ہی دیوار کے باہر زندگیاں گزارتے انسانوں کا احساس تک نہیں ہوتا۔ نہ ہی ان گھروں میں پلنے والے بچے اپنے ہم عمر بچوں کی آنکھوں میں بھری حسرتوں سے شناسا ہیں ۔اگر دیوار کے اس پرے کوئی بھوکا بھی سو جائے تو دوسری طرف والوں کو علم تک نہیں ہوتا ۔
سڑک کے دونوں اطراف میں بسنے والے ایک ہی ملک کے باشندے ، ایک ہی دارلحکومت کے رہنے والے ہیں۔ ایک ہی سڑک کے ایک جانب صاحب اقتداراورصاحب ثروت لوگ جبکہ دوسری جانب وہ لوگ بستے ہیں جو اپنی ساری زندگی دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کی تگ و دو میں گزاردیتے ہیں۔یہ حالات صرف دارلحکومت کے نہیں ہیں بلکہ ملک کاہر شہر، ضلع اور قصبہ کی یہی صورت حال ہے ۔

خاص طور پر ملک کے پس ماندہ حصوں میں وڈیرے ، اور چوہدری کسی بادشاہ کی مانند زندگی گزارتے ہیں جبکہ انھی کے لیے کام کرنے والے ان کا بچا کچا کھا کر گزارا کرتے ہیں اور ساری زندگی دو وقت کی روٹی کے لیئے ان کے محتاج رہتے ہیں ۔ جب غربت حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احساس بغاوتمیں تبدیل ہوجاتاہے۔اوروہ سوچ لیتے ہیں کہ اگر انھیں معاشرہ روٹی اور معاشی سہولیات نہیں دے پا رہا تو انھیں یہ سہولیات چھین لینی چاہیے۔ ایسے افراد جرائم پیشہ عناصر کے لیے سب سے آسان حدف ہوتے ہیں ۔ یہی لوگ اپنیبچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کے لیے روپیہ پیسیہ لے کر بھیانک جرائم کا ارتکاب کرتے ہیںیا منشیات کا شکار ہو کر اپنی زندگیاں تباہ کر لیتے ہیں ۔بے روزگاری کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی پرمجبور ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات نوبت خود


کشی تک جا پہنچتی ہے ۔ جہاں کھانے کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو وہاں پر معاشرتی قدریں ختم ہونیلگتی ہیں اور بے راہ روی عام ہو جاتی ہے ۔برائی وہاں نشوونما پاتی ہے جہاں احساس محرومی اپنی آخری حدوں کو چھو کر احساس بغاوت میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔
ہرالیکشن میں اسی طرح کے علاقوں سے منتخب ہونے والے نمائندے اپنی لمبی گا ڑیوں میں اسی شہر میں موجود ایوانوں میں اعلی عہدوں پر فائز ہو کر مراعات حاصل کرتے ہیں ۔ اگر ان منتخب سیاسی نمائندوں کے پارٹی منشوراور انتخابی مہموں میں لگائے جانے والے نعروں کو دیکھا جائے تو اس میں ان سب بنیادی سہولیات کی فراہمی شاید پہلی سطر میں ملے گی ۔لیکن ان سیاسی جماعتوں کے یہ نعرے صرف الفاظ کی حد تک محدود رہتے ہیں اور عملی طور پرکچھ نہیں کیا جاتا ۔روٹی ، کپڑا اور مکان کا وعدہ کرنے والی پارٹی بھی اپنی پانچ سالہ مدت میں شہر حکومت ہی میں بسنے والے ان لوگوں کو واٹر سپلائی کا ایک نلکا تک مہیا نہیں کر سکی ۔بلکہ الٹا بڑھتی ہوئی افراط زر نے لوگوں کی قوت خرید میں مزید کمی کر دی ہے ۔ عالمی اداروں سے لیے گئے پے در پے قرضوں نے ملک کے معاشی حالات کو ابتری کی راہ دکھائی ہے ۔ تبدیلی کے نعروں اور غربت ختم کرنے کے وعدوں کے باوجود موجودہ حکومت ایک سال کی مدت گزر جانے کے بعد بھی اس طرف متوجہ نہیں ہو پائی لایعنی مباحثات اور تنقید برائے تنقید کے سوا پورے ملککے کسی بھی علاقے میں کوئی قبل ذکر کام نہیں کیا گیا۔ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی حالت زار بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔غریب ، غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور امیر امیر تر ۔ حالیہ اعدادو شمار کے مطابق غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں ماضی کی نسبت بے انتہا اضافہ ہوا ہے ۔اور یہ تعداد اپنی بلند تریں سطح یعنی 54% تک پہنچ چکی ہے اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو گیا ہے ۔حکومتی وعدوں کے برعکس غربت میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔
عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ جن لوگوں کے ووٹوں کے بل بوتے پر وہ اقتدار کے ایوانوں میں آ کر بیٹھتے ہیں انھیں کم از کم پانی ، بجلی اورگیس جیسی سہولیات فراہم کریں ۔ ان بنیادی سہولیات کی فراہمی منتخب سیاسی نمائندوں کااخلاقی فرض ہے ۔جب یہ سہولیات زیادہ تر لوگوں کو میسر ہوں گی تو ملک میں پنپتے جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہو سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ صاحب ثروت لو گوں کو بھی معاشرتی اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]


1 thought on “دیوار عشرت سے پرے

  1. بہت عمدہ تقابلی جائزہ ہے۔ ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ ہی طبقاتی فرق ہے جب یہ فرق اور اس کی وجوہات عوام کو سمجھ آنے لگیں گی تو وہ خود اس کے حل کے لیے کوششیں شروع کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest