خزاں رسیدہ

!اے میرے دیس کے لوگو
کبھی دیکھا تم نے خزاں رسیدہ پتے کو
جب جب شجر سے جدا ہوا
پہلے تو ہوا سنگ بہت اڑا
پھر جب گرا
قدموں تلے روندا گیا
شجر تو قائم رہتا ہے
نئے پتوں کا گھر بنتا ہے
جو اسے سے جڑے
اپنا اور اس کا تن سجائے
رہتے ہیں
یہ دیس بھی تو شجر ٹھہرا
اس کو رہنا ہے قائم
غداری کچھ لمحے تو
ہوا میں اڑائے گی بہت
لیکن انجام کیا ہو گا
بالآخر زمیں بوس ہو گا
قدموں میں روندا جائے گا
دیس تو قائم رہے گا
نئے پتوں کا مسکن بن کر
کئی زندگیوں کو مہکائےگا
میمونہ صدف ہاشمی

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]


2 thoughts on “خزاں رسیدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest