نصابِ تعلیم : نئی نسل کی بنیاد 

نصاب سے مراد وہ تمام مواد ہے جو کتابوں ، ورک بک کی صوررت میں کسی بھی سکول میں پڑھایا جاتا ہے ۔یعنی وہ تمام علم جو کسی نہ کسی صورت ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیا جائے ۔ پوری دنیا میں نصابِ تعلیم مخصوص ملک کی روایات ، مذہب ، معاشرت اور طرزِ بودوباش کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے اور اس کا خاص طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ نصاب کا کوئی بھی حصہ مذہب یا روایات کے منافی یا متصادم نہ ہو ۔ایک معیاری نصابِ تعلیم نہ صرف کسی قوم کے ورثہ کو نسل در نسل منتقلی کا ذریعہ ہے بلکہ دوسرے لفظوں میں نصاب تعلیم قوم کی بنیاد ہے ۔معیاری نصابِ تعلیم قوم کی بقاء کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہایک معیاری نصاب کے ذریعے ہی ملکی روایات ، تاریخ اور مذہبی تعلیمات اگلی نسل تک پوری ذمہ داری کے ساتھ منتقل کی جاسکتی ہیں ۔ اس کے برعکس اگر نصابِ تعلیم معاشرتی روایات ، اور مذہب سے متصادم ہو تو طلبِ علموں کے ذہن ابہام کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ جب وہ اپنے علم کے مطابق عملی زندگی میں عمل پیرا ہوتے ہیں اور وہ موجودہ معاشرت سے متصادم ہونے کی وجہ سے انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔


بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نصاب جیسی بنیادی اکائی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ اسے اہمیت دینا تو درکنار اس موضوع پر اس حد تک بات بھی نہیں کی گئی جس حد تک اس معاملہ کی اہمیت ہے ۔ہمارے ملک میں نہ تو نصاب وضع کرنے کے لیے کوئی ادارہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا قانون موجود ہے جو نصاب میں ہونے والی بے قائدگیوں کو روکنے ، یا نصاب میں مذہب سے متصادم مواد کو شامل کرنے پر کوئی سزا متعین کر سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ نصاب میں کوئی بھی کسی بھی قسم کا ردوندل بلا روک ٹوک کر سکتا ہے ۔چاہے وہ وزیر تعلیم ہو یا پرائیویٹ سکول کا مالک اس کے لیے نصاب میں تبدیلی یا کوئی بھی مواد شامل کرنے کے لیے نہ تو کسی ادارے کی اجازت کی ضرورت پڑھتی ہے اور نہ ہی وہ کسی کے سامنے جوابدہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ملک کے بعض پرائیویٹ سکولوں کے نصاب میں جنسی مواد شامل کیا گیا اور ملک میں ایک بڑے سکول میں ہم جنس پرستی جیسے قبیح فعل پر کانفرنس منعقد کروائی گئی ۔ اگر ملک میں ایسا کوئی قانون موجود ہوتا جس کے تحت اس طرح کے مذہب سے متصادم مواد یا کانفرنسوں کے انعقاد پر کوئی سزا متعین ہوتی تو سکول مالکان کو اس طرح کیمذہب دشمن حرکتوں سے باز رکھا جا سکتا تھا ۔
ہمارے ملک میں بیک وقت کئی طرح کے نصابِ تعلیم رائج ہیں جن میں سے زیادہ تر سکولوں میں چار طرح کے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں ۔ اس تمام اقسام کے نصابِ تعلیم میں زیادہ اہم نصاب مندرجہ ذیل ہیں ۔پہلا اور سب سے زیادہ سکولوں میں رائج نصاب مغربی طرز کا ہے ۔ اس نصاب میں زیادہ تر حصہ انگریزی کتب پر مبنی ہے جس میں انگریزی ادب نمایاں ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرز کے نصاب میں ایک مضمون اسلامیات ،مطالعہ پاکستان اور ایک مضمون اردو کا رکھا گیا ہے ۔ان مضامیں میں بھی اسلامیات اور مطالعہ ء پاکستان انگریزی زبان میں پڑھایا جا رہا ہے ۔ یہنصاب زیادہ تر پرائیویٹ سکولوں میں رائج ہے ۔اور اس نصاب میں ہر سکول میں مختلف ناشران کی شائع کردہ کتب پڑھائی جا رہی ہیں ۔ ان کتب کے پڑھائے جانے کا معیار ان کتب میں معیاری علمی مواد ہونے کی بجائے سکول مالکان کی پسند نا پسند کا عمل زیادہ ہے ۔ تقریبا ہر سکول کا نصاب دوسرے سکول کے نصاب سے یکسر مختلف ہے ۔


دوسرا نصابِ تعلیم وہ ہے جو کہ سرکاری اور نیم سرکاری سکولوں میں رائج ہے اس کی بھی دو شاخیں ہیں ایک انگریزی جبکہ دوسرا اردو ۔اردو میڈیم سکولوں میں تقریبا تمام کتب اردو جبکہ انگریزی میڈیم سکولوں میں بعض کتب اردو جبکہ بعض کتب انگریری میں پڑھائی جا رہی ہیں ۔ تاہم سن 2008ء میں سرکاری سکولوں سے انگریزی اور اردو میڈیم کے نصاب کے فرق کو ختم کیا گیااور صوبائی سکولوں میں یکساں نصاب کی تعلیم دی جانے لگی ۔ گونمنٹ( صوبوں کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے ) سکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈ شائع کرتا ہے ۔ملک کے ہر صوبے کا اپنا ایک الگ تعلیمی بورڈ ہے جس کا اپنا الگ نصاب ہے ۔ جبکہ وفاق کے زیرِ نگرانی چلائے جانے والے سکولوں میں وفاقی ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب پڑھائی جا رہی ہیں ۔ یہ نصاب عرصہ ء دراز سے بنا کسی ردوبدل یا وقت کے ساتھ ساتھکسی اضافہ یا کمی کے پڑھایا جا رہا ہے ۔ وفاق کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے سکولوں میں یکساں نصابِ تعلیم رائج ہے ۔بالکل اسی طرح فوج کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے سکول پورے ملک میں کام کر رہے ہیں اور پورے ملک میں اے پی ایس سکولوں کا نصاب ایکہے ۔
تیسرا بڑا نصاب تعلیم کمبرج سسٹم ہے ۔ اس سسٹم کے تحت اے او لیول کے امتحانات کی تیاری کروائی جاتی ہے ۔ اس طرزِ تعلیم میں تمام کتب غیر سرکاری اور غیر ملکی نصاب پر مبنی ہیں ۔ اس سسٹم میں اسلامیات، اسلامی تاریخ ، مطالعہء پاکستان کا مضمون بعض اداروں میں نہ ہونے کے برابراور بعض اداروں میں سرے سے ہے ہی نہیں ۔
چوتھا نصابِ تعلیم وہ ہے جو کہ مکمل طور پر صرف اور صرف مذہبی تعلیم پر مبنی ہے ۔ اس نصابِ تعلیم میں فقہ ، حدیث م نحو و تجوید پڑھائی جاتی ہے ۔ اس طرز کے نصاب میں دنیاؤی تعلیم کا عمل دخلنہایت غیر مناسب حد تک کم ہے۔ یہ نصابِ تعلیم زیادہ تر مدرسہ جات میں رائج ہے ۔2008ء میں پہلی بار وفاق المدارس کا قیام عمل میں لایا گیا اور تمام مدرسوں کو اس ادارے کے تحت اپنا نصاب وضع کرنے کی ہدایات کی گئی ۔ اس سے پہلے نہ تو ان مدرسوں میں دنیاؤی کو ئی مضمون پڑھایا جاتا تھا اور نہ ہی ان مدرسوں کی ڈگریوں کی کوئی حیثیت تھی ۔وفاق المدارس کے قیام کے بعد ملک میں وفاق اور صوبوں کی سطح پر مدرسوں کے نصاب میں بعض مضامین شاملکئے گئے ۔ تاہم ابھی بھی بعض ایسے مدرسہ جات ملک میں موجود ہیں جو کہ وفاق المدارس سے الگ اپنا کام کررہے ہیں ۔
مذکورہ بالا تمام نصابِ تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے بچے چونکہ مختلف ماحول میں پلتے بڑتے ہیں ۔ اس ماحول اور تعلیمی نصاب کا یہ تفاوت انھیں الگ الگ نوعیت ذہنیت اور شخصیت عطاء کرتا ہے ۔ گویا ہم خود اپنی آنے والی نسلوں کو اپنے ہاتھوں سے کئی کئی فرقوں میں بانٹ رہے ہیں اور ان میں سے ہر فرقے کی سوچ دوسرے فرقے کی سوچ سے مختلف ، ہر فرقے کا اندازِ بودوباش مختلف اور بعض اوقات متصادم ہو جاتا ہے ۔۔ان تمام فرقوں کے پنپنے کی بنیادی وجہ یہی نصابِ تعلیم ہے اور جب تک پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم رائج نہیں ہوجاتا قومی اتحادو اتفاق کی کوششیں کامیاب ہو ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ بچوں کا ذہن اس قدر نازک ہوتا ہے کہ اس کو بچپن میں جو پڑھا دیا جاتا ہے وہ پوری زندگی کے لیے اس کی عادات ، سوچ کا حصہ بن جاتا ہے ۔ مغربی تعلیم حاصل کرنے والا طالبِ علم ، مدرسے سے علم حاصل کرنے والے کو جاہل سمجھنے لگتا ہے جبکہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم مغربی تعلیم حاصل کرنے والے کو کافر گرداننے لگتا ہے ۔اس طرح ایک ہی ملک میں بسنے والے بچوں کے درمیان آپس میں چپقلش اور نفرت جنم لینے لگتی ہے جو کہ بعد ازاں معاشرے میں نفاق کا سبب بنتی ہے
ہمارا معاشرہ جن حالات سے گزر رہا ہے انھیں سدھارنے کے لیے وقت کا تقاضاء ہے کہ ملک میں اتفاق واتحاد کے فروغ اور ایک مضبوط قوم کی تعمیر کی خاطر وفاق پورے ملک کے سکولوں ( چاہے وہ گورنمنٹ ہو ، پرائیویٹ یا کوئی مدرسہ ) میں رائج نصابِ تعلیم کی ذمہ داری لے ۔ نصاب تعلیم بنانے کے


لیے پہلے سے موجود اداروں سے کام لیا جائے اوریہ ذمہ داری HEC کے سپرد کر دی جائے۔ اسی ادارے کے تحت ملک کے چند بڑے بڑے علماء ، سائنسدانوں اور اساتذہ پر مشتمل ایک الگ کمیٹی بنائی جائے جوپورے ملک کے سکولوں ، مدرسوں کے لیے یکساں نصاب وضع کرے ۔ نصاب بنانے والے افراد کا چناؤ سیاسی وابسطگیوں کی بجائے علم ، تجربے ، مذہب اور حب الوطنی کی بنیاد پر کیا جائے ۔تاکہ جو نصاب وضع ہو وہ ملکی روایات ، تاریخ ، مذہب ، معاشرت کا امیں ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر طبقہ کے لیے قابلِ قبول ہو ۔یہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں ہے ۔ ہمارے ملک میں قابل افراد کی کمی نہیں ہے، اس ارضِ وطن میں علماء ، بہترین سائنس دان جن میں ڈاکڑ عطاء الرحمٰن ،ڈاکڑ ثمرمند مبارک ، ڈاکڑ عبدالقدیر خان ، مولانا تقی عثمانی ، ڈاکڑ طارق جمیل ، علی معین نوازش ، جیسے افراد موجود ہیں جومعیاری نصابِ تعلیم وضع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں ۔
نصابِ تعلیم وضع کرنے کے ساتھ ساتھ یہی HEC سب سکولوں کے نصاب میں ردوبدل ، یا کسی بھی مواد کے اضافے کے لیے ذمہ دار ہو کے ساتھ ساتھ اس نصاب کے نفاذ کا ذمہ دار بھی ہو ۔اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کے لیے HEC کو مضبوط کرنے اور اس ادارے کے اختیارات میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ نصاب اور تعلیم کے معاملے میں قانون سازی بھی نہایت ضروری ہے ۔ تاکہ کوئی ایسا قانون ملک میں موجود ہوجس کے تحت نصابِ تعلیم میں موجود بے قائدگیوں اور بد عنوانیوں پر سزا کا تعین کیا جا سکے ۔تاکہ ایسا کوئی بھی مواد نصاب تعلیم میں شامل کرنے سے روکا جاسکے جو کہ ملکی روایات اور دینِ اسلام کے منافی یا متصادم ہو ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest