معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی 

ارضِ وطن میں انتہا پسند ی اور غم و غصے کی ایک نئی لہر جاری ہے ۔ خصوصا سوشل میڈیا پر الفاظ کی جنگ جاری ہے ۔ سوشل میڈیا جہاں بہت سی خوبیا ں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے وہا ں اس کا ایک بھیانک چہرہ بھی ہمارے سامنے آ رہا ہے ۔ ہمارے ملک میں خوش کش بم دھماکے ، علماء کا قتل لوگوں میں وہ غم و غصہ پیدا نہیں کر سکے جو سوشل میڈیا پر ہونے والے واقعات نے کر ڈالا ۔دراصل انٹرنیٹ پر آئے روز نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کے واقعات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں ۔ اس تواتر سے یہ واقعات اس لیے بھی ہو رہے ہیں کہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا جائے اور کسی بھی طرح عام مسلمان ان واقعات کے عادی ہو جائیں اور مسلمانوں کے دلوں سے رسول ﷺ کی محبت بتدریج کم ہو تی چلی جائے ۔اس کے علاوہ یہ باقاعدہ ایک سازش بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان کو کسی بھی طرح اندرونی خانہ جنگی کا شکار کیا جائے۔اعلیٰ حکام اور وزارت اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور حرمت رسول ﷺ کے معاملے میں لبرل ازم کو مدِنظر نہ رکھا جائے اور ایسے افراد کو کڑی سے کڑی اور جلد سے جلد سزا دی جائے ۔ اس کے لیے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ضروری ہے، انصاف فراہم کرنے والے اداروں کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے سرانجام دینا چاہیے تاکہ عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں ۔
حال ہی میں قتل کا ایک ایسا واقعہ پیش آ یا جس کو جاننے کے بعد اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ عوام میں غم وغصہ اپنے عروج پر ہے ، دوسری جانب عوام کو انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں اور وہ اپنے مجرم کو خود اور فوری سزا دینا چاہتے ہیں ۔یہ واقعہ دراصل مردان یونیورسٹی میں اس وقت پیش آیا جب مشعل ہجوم نے یونیورسٹی ہاسٹل میں داخل ہوکر مشال خان ( ایک طالب علم جس پر توہین رسالت ﷺ کا الزام لگایا گیا تھا ) کو تشدد کے بعد ہلاک کر دیا گیا ۔ طلبہ کھڑکیا ں اور دروازے توڑتے ہوئے ہاسٹل میں داخل ہو ئے اور مشال خان جو کہ ہاسٹل میں چھپا ہوا تھا اسے وہاں سے گھسیٹ کر نکالا گیا اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے جوانوں نے اس کو ہلاک کرکے اس کی لاش کو پاؤں تلے روند ڈالا ۔ مشال خان پر گستاخی رسول کا الزام لگایا گیا تھا جس کو یونیورسٹی انظامیہ نے بجائے اس کے کہ پولیس کو اطلاع دی جاتی یو نیورسٹی انتظامیہ نیخود سے اس الزام پر تحقیقات شروع کر رکھی تھی ۔معاشرے کی بے حسی کا عالم دیکھیے مشال خان کو نہ صرف جان سے مار دیا گیا یہاں تک کہ لاش کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی جس کو پولیس کی مداخلت کی وجہ سے روک دیا گیا ۔مسجد کے مولوی صاحب نے اس کی نمازِ جنازہ کو پڑھانے سے انکار کر دیا ۔ واضع رہے جان سے مارنے والوں نے یہ تحقیق کرنا بھی منا سب نہیں جانا کہ آیا کیا


واقعی مشال خان گستاخی رسول ﷺ کا مرتکب ہوا بھی ہے یا نہیں ؟ واقعہ کے بعد ہونے والی تحقیقات میں ابھی تک یہ ثابت نہیں ہو پایا کہ مشال خان نے گستاخی کی ۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ۔ ایسے کئی واقعات آئے دن دیکھنے میں آتے ہیں ۔
واضع رہے اس قسم کے واقعات کسی دینی مدرسہ میں پیش نہیں آ رہے۔ افسوس صد افسوس یہ واقعات ہماری ان یونیورسٹیوں میں پیش آ رہے ہیں جہاں سے مغربی علم کو فروغ ملتا ہے ۔ یہاں پڑھنے والے نوجوان لبرل ہیں اور ان کا مذہبی انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدارس کے خلاف بولنے والے اوردینی مدارس کے لیے نت نئے قوانین بنانے والوں کو اس جانب بھی نگاہ کرنا ہو گی ۔ہمارے ملک کے معزز وکلاء مدارس کے خلاف زہر اگلتے اور مدارس کو دہشت گردی کی فیکڑیاں کہتے چلے آ رہے ہیں ۔یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبا ء کی جانب کوئی نظر نہیں کی گئی ۔ نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ کو اس جانب سے کوئی نوٹس دیا گیا ۔ اگر یہی واقعہ کسی مدرسے میں پیش آتا تو شاید اس مدرسے کو بند کر دیا جاتا اور اس کے منتظم کو جیل کی ہوا کھانا پڑھتی لیکن اس یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف کسی قسم کی کوئی تادیبی کاروائی نہیں کی گئی ۔ اور نہ ہی کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج کروایا گیا۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ذہین ترین طبقے میں اس طرح کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں ۔ یونورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبا ء اگر کسی کو شک یا الزام کی بنا پر مار دیتے ہیں یا پھر کوئی طالب علم داعش سے جا ملتا ہے تو اس کا ذمہ دار کوئی مذہبی مدرسہ نہیں اور نہ ہی کسی مولوی سے متاثر ہو کر یہ اقدام ہوتے ہیں ۔ بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اربابِ اختیار کی اس جانب کوئی توجہ ہے ہی نہیں کی گئی ۔
گستاخی رسول ﷺ ایک نہایت ہی نازک معاملہ ہے ۔ اس معاملے میں تقدس کا پرچم بلند کرنے والو ں کو بے انتہا احتیاط سے کام لینا ہوگا کیونکہ اگر کوئی بے گناہ ایک الزام کی بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے تو آپ اس کے لیے بھی جوابدہ ہیں ۔ الزام کی بنیاد پر از خود سزا کا تعین کر دینا بالکل بھی درست نہیں ۔ توہین رسالت کے جرم کی آئین پاکستان میں باقاعدہ قانون موجود ہے جس کے مطابق پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کروا دینا چاہیے اور معاملہ عدالت میں پیش کر دینا چاہیے ۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب تمام ادارے بشمول پولیس ، عدلیہ انصاف کی جلد از جلد فراہمی کو یقینی بنائیں ۔مشال خان کے قتل پر اب تحقیقات جاری ہیں ۔ آئے دن نت نئے انکشافا ت ہو رہے لیکن اس قتل نے ہمارے معاشرے کا بھیانک ترین چہرہ عیاں کر دیا ہے ۔ حرمتِ رسول ﷺ کا نعرہ بلند کرنے والوں نے یہ تک نہیں سوچا کہ اگر یہ مشال خان اس گناہ کا مرتکب نہ ہو ا ہوا تو آپ اس قتل کے لیے جوابدہ ہوں گے ۔
اس ملک میں کم و بیش بیس کروڑ کے قریب مسلمان بستے ہیں ۔ مسلمان چاہے کسی بھی فقہ سے تعلق رکھتا ہو ، نبی پاکﷺ کی محبت ، ان کے نام کی حرمت سبھی کے لیے اہمیت کی حامل ہے ۔اس معاملہ میں حکومت اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کو سختی سے کام لے کر عوام کی تواقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں ۔
حکومت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ مادر علمی میں پرھنے والے ذہین اور محنتی طالب علم جو کہ مخلوط تعلیمی نظام کا حصہ ہیں ان میں اس طرح کے جذبات کا پیدا ہونے کسی بھی خطرے سے کم نہیں ۔ اگر ملکی سطح پر اس قسم کے واقعات کا سدِباب نہ کیا گیا تو عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے رہیں گے ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest