فوجی عدالتیں :بحالی امن کی جانب پہلا قدم

فوجی عدالتوں کا قیام سن 2015 ء آئین کے مطابق باقاعدہ ایک بل کے ذریعے عمل میں آیا ۔ یہ بل بنیادی طور پر آرمی ایکٹ 1952ء میں ایک اضافہ ہے ۔ اس بل کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملک میں کسی بھی غیر یقینی صورتحال میں ملوث ، دہشت گردی کے الزام میں گرفتار، پاکستان کی سلامتی پر کدغن لگانے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جا سکے ۔ ان عدالتوں کا دوسرا بڑا مقصد فرقہ پر ستی یا قوم پرستی کے نام پر ہتھیار اٹھانے اور ملک کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کو سزائیں دی جا سکیں ۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کی مالی امداد کرنے والوں کو بھی مجرم قرار دیا گیا اور اس جرم کو بھی قابلِ گرفت جرم کے طور پر جرمانہ کی سزا عائد کی گئی ۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت افواجِ پاکستان ملکی سلامتی کے لیے ہر نوعیت کے اقدامات کرنے کے لیے آزاد ہیں ۔ ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام اسی قانون میں ترمیم کے ذریعے عمل میں لایا گیا ۔ اس بل کا نام Pakistan Army (Amendement Act) 2015 رکھا گیا اسی سال فوجی عدالتوں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ۔فوجی عدالتوں کے لیے بنایا اور پاس کیا گیا بل زیرِ دستخطی وزیرِ مملکت برائے انصاف و قانوں ، اور انسانی حقوق جناب پرویز رشیدآئین کا حصہ بنایا گیا ۔ فوجی عدالتوں جن کی کام کرنے کی مدت دو سال تھی ، 5 جنوری 2017ء کو ختم ہو گئی ۔


ان عدالتوں میں کم و بیش 300 مقد مات پیش کئے گئے جن میں سے 180 کو ان دو سالوں میں حل کر دیا گیا مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ سن 2015 ء میں قائم ہونے والی ان عدالتوں کا مقصد دہشت گردی کی لہر میں کمی کرنا تھا اور یہ عدالتیں اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے سرانجام دینے میں بہت حد تک کامیاب رہیں ۔
10جنوری 2017ء کو فوجی عدالتوں کو کام میں لانے یا کام کرنے سے روک دینے کے بارے میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہو ا ۔قانون اور آئین کے مطابق یہ عدالتیں اس وقت تک کا م نہیں کرسکتی جب تک کہ سیاسی قیادت اور قومی اسمبلی کی جانب سے باقاعدہ اجازت نہ مل جائے ۔ اسی عمل کو جاری رکھنے کے لیییہ اجلاسمنعقد کیا گیا ۔اس اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب ارکان اسمبلی جن میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ بعض جماعتوں کا موقف تھا کہ فوجی عدالتوں کو کام کرنے سے روک دیا جائے ۔ اس جماعت نے فوجی عدالتوں کے وجود ہی کو غلط قرار دیے دیااور ان عدالتوں کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی مخالفت کی ۔
آئیے !گذشتہ دو برس میں فوجی عدالتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیجیئے ۔ یہ عدالتیں احسن طریقے سے کام کرتی نظر آئیں گی خصوصا دہشت گردی کے مجرموں کو سزائیں دینے کے معاملہ میں ۔ فوجی عدالتوں نے کئی مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچایا ۔سول عدالتوں میں دہشت گردی کے متعلق مقدمات میں ججوں اور وکیلوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔سول عدالتوں میں جاری مقدمات میں ایک اہم مثال لشکرِ جھنگوی کا مقدمہ ہے جس نے بلوچستان میں مقیم ہزارہ کمیونٹی پر کئے گئے حملوں کی ذمہ داری لی ۔ ان حملوں میں خودکش حملے ، بم دھماکے شامل ہیں ۔ ان حملوں میں صرف بلوچستان میں کم و بیش 500 ہزارہ کمیونٹی ممبر بے دردی کے ساتھ مار دئے گئے ۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کئی دہشت گردوں کو پکڑا گیا ، ان پر مقدمات چلائے گئے لیکن ان میں سے بہت کم کو سزائیں دی جا سکی ۔سول ججوں کو بھی کوئی سیکیورٹی حاصل نہیں ہے ۔ ججوں کو مقدمات سے دست بردار ہو جانے پر مجبور کر دیا گیا ۔ کئی مقدمات میں ایسا بھی ہو اکہ سول جج کودہشت گرد تنظیموں کی جانب سے کھلے عام دھمکیاں دی گئی ۔ایسے کئی وکیلوں کو جان سے مار دیاجو دہشت گردی کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے ۔ کئی جج اپنی جان بچانے کی غرض سے مقدمات سے دست بردار ہو کر ملک چھوڑ گئے ۔ فوجی عدالتوں میں جج کو مناسب سیکیورٹی حاصل ہے ، ان عدالتوں میں جاری مقدماتہے خصوصا دہشت گردی سیمتعلق مقدمات کا فیصلہ جلد کر دیا جاتا ہے ۔
پاکستان میں قائم کمشن برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے فوجی عدالتوں کے بارے میں کہا کہ یہ عدالتیں پاکستان میں جاری آزاد اور انصاف پر منبی سسٹم بنانے میں معاون ثابت ہوں گی ۔
واضع رہے کہ فوجی عدالتیں امن و امان کی بحالی خصوصا دہشت گردی میں کمی کی جانب ایک اہم اور بر وقت اقدام تھا ۔ یہ عدالتیں دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے نیشل ایکشن پلان کا ایک حصہ تھیں جو کہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے دسمبر16، 2015ء کو آرمی پبلک سکول پشاور پر کئے گئے حملہ کے بعد بنایا گیا ۔اس نیشل ایکشن پلان میں افواجِ پاکستان کے سربراہان ، حکومتی اور اپوزیشن کے نمائنداگان شامل تھے ۔ ان عدالتوں نے دہشت گردی اور ملکی سلامتی سے متعلق مقدمات پر سول عدالتوں کے ساتھ معاون کے طور پر کام کرنا شروع کیا ۔ ایسے مقدمات جو دہشت گرد تنظیموں یا دہشت گردون سے متعلق تھے یا جس مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے جج یا وکیل کو دھمکیاں مل رہی تھیں انھیں ان عدالتوں کے سپر د کیا گیا تھا اور ان عدالتوں نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان مقدمات کے فیصلے کئے ۔ بعض دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا بھی دی گئی ۔


یہاں یہ بات اہم ہے کہ سیاسی جماعتوں کی پسندیدگی یا نا پسندیدگی ایک جانب اس ملک کی سلامتی اور دہشت گردی کا خاتمہ سب سے اہم اور ایک نازک معاملہ ہے ۔ دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے عدالتوں کو بھی جلد مقدمات کے فیصلہ کرنا ہوں گے ، فوجی عدالتوں کے قیام کو اس رخ سے دیکھا جائے جس طرح شریعت کے نفاذ اور شریعی معاملات سے متعلق مقدمات کے لیے شریعی عدالتیں سول عدالتوں کی معاون و مددگار کے طور پر کام کررہی ہیں بالکل اسی طرح دہشت گردی اور ملکی سلامتی سے متعلق مقدمات میں فوجی عدالتیں سول عدالتوں کی معاؤن کے طور پر کام کر سکتی ہیں ۔ ان عدالتوں کا مقصد سول عدالتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں ہے بلکہ یہ عدالتیں سول عدالتوں کیمعاون کے طور پر کام کر کے ملک میں انصاف کی فراہمی کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں ۔
یہ عدالتیں ملکی سلامتی کو درپیش خطرات سے نبٹنے میں ایک اہم ستون کا کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ان عدالتوں کے مخالفت کرنے والے یا تو ملک دشمن عناصر ہیں یا پھر نادان دوست کیونکہ اگر دہشت گردوں کو قرار واقع سزا نہ دی جائے تو معاشرے سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنا از حد مشکل بلکہ تقریبا ناممکن ہو جائے گا ۔ ہمارے بھائی ، باپ ، بہینیں ، بیٹیاں اور بچے اسی طرح دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیں گے ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest