مہاجر یا پاکستانی ؟ پہلے فیصلہ کیجیئے ۔

کراچی صوبہ سندھ کا دارلحکومت اور پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے ۔ یہ شہر پاکستان کے سمندری راستے کی جانب سے دروازہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔اس شہر کا کل رقبہ 3527مربع میل تین کروڑ کی آبادی پر مشتمل دنیا کا آبادی کے حساب سے ساتوں بڑا شہر ہے ۔کراچی میں طویل عرصے سے امن وا مان کی صورت حال طویل عرصے سے خراب ہے ۔ روشنیوں کے اس شہر کی روشنیاں نہ صرف مدہم پڑ چلی ہیں بلکہ اس شہر کو گویا کسی کی نظر لگ گئی ہے ۔یہ وہ شہر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ شہر کسی کو بھوکا نہیں سونے دیتا ۔ یہ شہر پورے ملک کے شہروں میں سب سے زیادہ کاروبار اور روزگا رکے مواقع اپنے اندر سموئے ہوئے تھا ۔اگر تجارتی حوالے سے دیکھا جائے تو یہ شہر ملکی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس شہر میں ٹارگٹ گلنگ ، بھتہ خوری ، بوری بند لاشیں ، اغواء ،گینگ وار جیسی وارداتیں عام ہوتی چلی گئی پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ امن و امان کی صورت حال اس حد تک مخدوش ہو گئی کہ روزانہ سڑکوں پر کئی کئی لاشیں گرائی جانے لگیں ۔ پورے شہر میں قتل وغارت گری ایک معمول کی حیثیت اختیار کر گئی یہاں تک کہ یہ شہر جس کی روشنیاں مشہور تھیں ظلم کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب گیا ۔ اس صورت حال کو قابو میں کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کی رضامندی سے رینجرز کی خدمات حاصل کی گئی ۔ رینجرز نے کراچی میں اپنا کنڑول سنبھالا اور شرپسند عناصر کے خلاف کاروائی شروع کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے عسکری حصے بھی شامل ہیں ۔اس آپریشن نے شہر میں امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر کیا اور آہستہ آہستہ شہر کی رونقیں بحال ہونے لگیں ۔ جب ایم کیو ایم کے عسکری حلقوں کے خلاف کاروائی کی گئی تو قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے بھارت سے مدد مانگنی اور پاکستان کے خلاف تقاریر کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ۔ الطاف حسین عرصہ دراز سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور ایم کیوایم سے بذریعہ وڈیو کا نفرنسنگ رابطہ میں ہیں اور اسی وڈیو کانفرس کے ذریعے پارٹی کارکنان اور سپوٹرز سے خطاب کرتے ہیں ۔الطاف حسین کی جانب سے پاکستان کے خلاف کی جانے والی تقاریر سے کون واقف نہیں ؟ یہاں تک کہ وہ اکثر و بیشتر ملکی سلامتی کے خلاف بیان دیتے ہیں اور بعد میں معافی مانگتے نظر آتے ہیں ۔ بات صرف یہاں تک محدود نہیں بعض اوقات ان کی تقاریر میں بھارتی اداروں سے مدد کی اپیل بھی کی جاتی ہے ۔ کسی بھی شخص کا دشمن ملک کو مدد کے لیے پکارنا ملکی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اس خطرہ کے پیشِ نظر الطاف حسین کے بیانات اور تقاریر پر پابندی لگا دی گئی۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم مہاجرین کے حقوق کا نعرۂ لگا کر ملک دشمن عناصر کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں ۔


الطا ف حسین نے 22 اگست 2016ء میں ملک دشمن تقریر کرتے ہوئے کہ ہمارے حقوق کا معاملہ طے کر لیا جائے تو بہتر ہے ۔ انھوں نے نہ صرف پاک فوج کے خلاف نہ صرف نا زیبا الفاظ کا استعمال کیا بلکہ فوج کو گالیوں سے بھی نوازا ۔انھوں نے پارٹی کارکنان کو حکم دینے کے انداز میں پاکستان کے نجی چینلجز پر حملہ کرنے کا کہا ۔ صرف یہی نہیں انھوں نے پاکستان کے ایمج کو پوری دنیا کی نظروں میں بری طرح خراب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پوری دنیاکے لیے ایک ناسور ہے ، پاکستان دنیا میں دہشت گردی کے لیے ایک ایدھی سنٹر ہے ۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی انھوں نے پاکستان مردہ باد کا نعرۂ نہ صرف خود لگایا بلکہ جلسے میں شامل کارکناں اور عوام سے بھی پاکستان مردہ باد کا نعرۂ لگوایا ۔ پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے یہ ہرگز ہرگز نہ بھولیں کہ یہ ملک ہی ہماری پہچان ہے اس سر زمین ہی کی وجہ سے آج ہم سکون سے سوتے ہیں۔ اسی ملک کی وجہ سے ہماری ماؤں بہنوں کی عزتیں محفوظ ہیں ۔ اور یہی ملک ہے جس کی بدولت ہماری نسلیں مذہب پر باآسانی عمل پیرا ہو سکتی ہیں ۔یاد رہے یہ تقریر اس وقت کی گئی جب پاکستان ازخود دہشت گردی کی جنگکا شکار ہے اور اس جنگ میں ہمارے ملک کو ان گنت چیلجنز کا سامنا ہے ۔ بیرونی دراندازیوں کی وجہ سے ملک کے اندر مختلف سازشیں زور پکڑ رہی ہیں ، دشمن ملک کی جانب سے ہر فورم پر تنقید کی زد میں ہے ۔ پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی ہیں اور پاکستان کا ایمج اقوامِ عالم میں گرتا جارہا ہے ، ایسے موقع پر اس قسم کی تقریر ملکی ساکھ کے لیے نقصان دہ اور ملک کے لیے زہرِ قاتل کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تقریر کو تقریبا ساٹھ سے زائد ممالک میں سنا گیا ۔
پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو ان گنت مسلمان اپنا گھر با ر چھوڑ کر اپنی جائیدادوں کی پروا ہ کیے بغیر اپنی جانوں اور عزتو ں کو ہتھیلی پر رکھ کر ہجرت کرکے پاکستان آئے ۔ہجرت کے دوران ان مسلمانوں میں سے ان گنت کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور بہت کم تعداد میں مسلمان ان سرزمین پر آباد ہو سکے ۔ پاکستان نے اپنے ان مسلمان بھائیوں کو دل سے قبول کیا جنھوں نے اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ گنوا دیا ۔ یہ مہاجرین ہمارے بھائی ہیں اور ان کی نسلوں کو پاکستان سے اتنا ہی لگاؤ ہے جتنا کہ اس سرزمین میں صدیوں سے بسنے والے لوگوں کا ہے۔ان مہاجرین کی نسلیں اس ملک کی سربلندی کی خاطر ہر شعبہ ء زندگی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔ان مہاجرین نے اپنی جان ، مال اور عزتوں کی قربانی اس لیے نہیں دی تھی کہ انھی کی نسلوں میں سے کوئی اٹھے چند افراد کو دھونس ، زبردستی یا کسی بھی طریقے سے اکٹھا کرے اور اسی وطن ، اسی زمین کے خلاف جو انھیں نہ صرف زندہ رہنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا ایک ذریعہ ہے ، جو ساری دنیا میں ان کی پہچان ہے کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگانے لگے ۔ آج ستر سال گزر جانے کے بعد مہاجر کا نعرۂ لگا نا ان مہاجرین کی تمام قربانیوں پر خاک ڈالنے کے مترادف ہیجنھو ں نے اپنی عزتوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے پامال ہو تے دیکھا، جنھوں نے اپنے پیاروں کواپنے سامنے قتل ہوتے دیکھا اور بے بسی کے عالم میں کچھ بھی نہ کر پائے ، جنھوں نے اپنی جائیدادیں کھو دیں صرف اس ارضِ وطن کی خاطر جس کا نام پاکستان ہے ۔


واضع رہے کہ مہاجر ایک وقت تک کسی بھی ملک میں رہ سکتا ہے ۔ مہاجر کا مطلب یہ ہے کہ ایک مخصوص علاقہ میں بدامنی ہو اور کسی کی جان کو خطرہ ہویا ملک خانہ جنگی کا شکا ر ہو تو وہ اس علاقہ کو چھوڑ کر محفوظ علاقہ میں جابس ۔ اپنے علاقہ میں امن بحال ہو جانے یا جنگ کے خاتمے کے بعد واپس لوٹ جائیں ۔لیکن جب مہاجر کو بھائی تسلیم کر کے ملکی ترقی میں ، اداروں کی بھرتیوں میں ، تعلیمی اداروں میں ، فوج میں ، کسی جگہ پر مہاجرین کے ساتھ کسی قسم کی کوئی تفریق نہ رکھی جائے ۔انھیں اول درجے کے شہری کی حیثیت دی جائے تو وہ مہاجر نہیں بلکہ اس ملک کے ایسے قابل شہری ہیں جن پر اس ملک کو فخر ہے ۔
اگر مہاجرین کے حقوق کا نعرہ ء لگا کر کراچی کو ملک سے جدا کرنے کی کوشش مقصود ہے تو بہتر ہے کہ ان مہاجرین کو ملک بدر کر کے ملکی سیاست سے ان کے کردار کو بالکل ختم کر دیا جائے کیونکہ حقوق حاصل کرنا ہر ایک شہری کا حق ہے لیکن ملک کے ٹکڑے کرنے کی کوشش کر نے کا حق کسی کا نہیں۔ اگر گھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے ، اس کی دیواریں کھوکھلی ہو جائیں تو اس کی مرمت کی جاتی ہے نہ کہ ایک دیوار کو الگ کرنے کی کوشش ۔ یہاں اس بات کی وضاحت بے حد لازمی ہے کہ ہم سب ، عوام ، تمام شہر ، تمام گاؤں ، تمام صوبے ، سیاست دان ، فوج ، انصاف فراہم کرنے والے ادارے اس ملک کی اکائیاں ہیں بالکل اسی طرح جیسے اس ایک مکان کی دیواروں میں انیٹیں ۔یہ اکائیاں مل کر اس ملک کی بنیاد کو قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ اگر ہم خود ہی اس ملک کو برا بھلا کہنے لگیں گے تو ہم خود ہی دشمن کو اس ملک کے خلاف زہراگلنے کا موقع دے رہے ہیں ۔ اگر کسی کے خلاف بے انصافی ہو ئی تو اس بے انصافی کا ازالہ ہونا چاہیے نہ کہ اپنے ہی وطن کے خلاف زہر اگلا جائے ۔

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest