لہوسے بھیگ رہی ہے ار ض وطن

آج کل پاک وطن کی فضا سوگوارہے۔بے یقینی نے اس پاک دھرتی کو گھیر رکھا ہے ۔ بکھراخون ، بے گور و کفن لاشوں کے ٹکڑے ، کسی بھی ذی شعور کو بے سکون کرنے کے لیے کافی ہیں۔کسی ان دیکھے خدشے کے تحت ہر کوئی خوفزدہ نظر آتا ہے ۔ حصول رزق کی تلاش میں گھروں سے نکلنے والے یہ نہیں جانتے کہ ان کی واپسی اپنے پیروں پر ہو گی یا کسی کے کندھوں پر۔ کسی کے علم میں نہیں کہ اس کی واپسی پر اس کے بچے مسکراہٹ سے استقبال کریں گے یا سسکیوں سے۔کفن ملے نہ ملے کچھ خبر نہیں۔ لاشوں کے ٹکڑے مل پائیں کوئی نہیں جانتا۔
ایک طویل عرصے سے پورا ملک دہشت گردی اور بد امنی کی لپیٹ میں ہے ۔خیبر سے کراچی تک روزانہ کہیں خود کش حملوں ، کہیں ٹارگٹ کلنگ اور کہیں فرقہ واریت کا دور دورہ ہے ۔نہ کوئی عبادت گا ہ محفوظ ہے ، نہ درسگاہ ، نہ کوئی شاہراہ محفوظ ہے نہ گھر۔کبھی دہشت گردی کا حدف شیعہ برادری ہوتی ہے، کبھی میلادنبی کا جلوس،کبھی زائرین کی بس کو بم دھماکے سے اڑا دیا جاتا ہے ،کہیں ٹارگٹ کلنگ میں بے گناہ شہریوں پر راکٹ برسائے جاتے ہیں کہیں سکولوں کی عمارتوں کو تباہ کر دیا جاتاہے ، تو کبھی چرچ پر خودکش حملہ کے ذریعے اقلیتوں کے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔الغرض کسی مذہب ، کسی فرقے سے تعلق رکھنے والے ، کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن ،عورتیں ،


بچے ، کوئی بھی محفوظ نہیں ۔روزانہ نہ جانے کتنے ہی بے گناہ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔گینگ وار میں کوئی بھی سیاسی پارٹی ملوث ہو، فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ کوئی بھی ہو ان میں جان عام انسان کی ہی جاتی ہے ، ان اندھی گولیوں کا نشانہ بننے والے وہ لوگ ہی ہوتے ہیں جن کا کسی گروپ ، کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جنھیں اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں ہوتی کہ حکومت کس پارٹی کی ہے ، اور اپوزش کیا کردار ادا کر رہی ہے ۔ ان دھماکوں کا شکار ہونے والے وہ راہ گیر بھی ہوتے ہیں جواپنے دفاتر ، یا اپنے کسی کام کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں، وہ پولیو ورکر بھی ہیں جو اپنے چین واور آرام کو بالائے طاق رکھ کر گھر گھر قوم کے مستقبل کو محفوظ کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور ، وہ محافظ بھی جو عوام کی حفاظت خاطر تمام موسموں میں سینہ سپر ہوتے ہیں ۔ ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو ماؤں کو نہ جانے کتنی منتوں کے بعد ملتے ہیں ۔وہ بیٹے ، وہ بھائی ، جو گھروں کے واحد کفیل ہوتے ہیں اور باعصمت بہنیں ، بیٹیاں بھی جو راہ چلتے موت کی وادی میں اتر جاتی ہیں ۔عجیب بات یہ ہے کہ ان دیکھی گولی اس بات سے بے خبر ہوتی ہے کہ مرنے والا کسی فرقے ، گروہ یا قومیت کا ہے۔
حالات دن بدن ابتر ہو تے جا رہے ہیں۔ امن ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے ۔موت ہر وار میں بہت سی کہانیاں چھوڑتی جا رہی ہے۔ ۔وہ خاندان جو اپنے سربراہ اور کفیل کو کھو دیتے ہیں باقی مائندہ زندگی کس حالت میں گزراتے ہیں بیان کرنا مشکل ہے ۔ ہر ایسے حادثے کی رپور ٹ درج کی جاتی ہے، بعض اوقات دہشت گرد گرفتار بھی ہو جاتے ہیں لیکن عدم ثبوت کی بنا پر انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔دھماکہ ہوا۔۔۔ امداد کا اعلان ہوا۔۔۔کیا مرنے والے کا نعم البدل پیسا ہو سکتا ہے؟ کیا اعتزاز نے جان پیسے کے لیے دی ؟
دہشت گردی کی کاروائی کے بعد گھسے پٹے چند فقرے ٹی وی سکرین پر جگمگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے جیسے ہمارا مذاق اڑا رہے ہوں ۔ لیکن ان ماؤں کی بے نور آنکھوں میں بھرے جانے والے آنسوؤں ، بہنوں کے ٹوٹے ہوئے سپنوں ، بچوں کی یتیمی کیذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا ۔موجودہ حکومت اپنے ان گنت دعوؤں کے باوجود دہشت گردی کی ان کاروائیوں میں کسی قسم کی کمی لانے میں ناکام رہی ہے بلکہ نیا سال دہشت گردی کی شدت میں اضافے کا مژدہ بھی ساتھ لایا ہے ۔ ایک طرف تو محافظ ادارے بے انتہا یقین دہانیوں اور کوشش کے باوجود ان کاروائیوں کو روکنے سے قاصرہیں اور دوسری طرف یہی ادارے خود کش حملہ آوروں کا حدف بھی ہیں ۔محافظ ادارے ملکوں کی ترقی اور بقا کے ضامن ہوتے ہیں ۔ تاریخ گواہہے کہ جب بھی کسی مملکت کو کمزور کرنا مقصود ہوا ، اس کے سیکیورٹی اداروں کو کمزور کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام ان اداروں کے خلاف ہو جائیں ۔ عوام اور اداروں کے بیچ خلا کا فائدہ ہمیشہ دشمن اٹھاتے ہیں ۔ معاشی اور معاشرتی طور پر ایک کمزور ملککو شکست دینے کے لیے دشمن کو جنگ کرنے کی ضرورت نہں رہتی ۔ہمارے ملکی حالات بھی اسی رخ پر چل نکلے
ہیں ۔سرمایہ کار اپنا سرمایہ پاکستان سے نکال رہے ہیں۔ اور ہمارے حکمران کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے تصور کر لیتے ہیں کہ سب اچھا ہے۔ اور ان کے مشیر ان کی تعریفوں کے پل باندھنے کو ہی ذمہ داری گردانتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ


کار اپنا سرمایہ غیر محفوظ خیال کرتے ہوئے سرمایہ کاری نہیں کرتے جبکہ ملکی سر مایہ کار بھی خطرے کے پیش نظر اپنا سرمایہ دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے لگے ہیں ۔اور ملک کی اقتصادی صورت حال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے ۔ا ن حالات کی وجہ سے کھیلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ، اور مختلف کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کیلیے ہمسایہ ممالک کو منتخب کیا جا رہا ہے ۔
وزیر اعظم کا امن کو آخری موقع دینے اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مؤقف خوش آئند ہے لیکن اس اعلان کو صرف باتوں کی حد تک نہیں رہنا چاہیے ۔ اور اگر دہشت گرد اور ملک دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد سے باز نہیں آتے تو ملک کو اس صورت حال سے نکالنے کے لیے حکومت ، افواج پاکستا ن اورسیکیورٹی اداروں کو ان کے خلاف مناسب اور کسی حد تک آہنی ہاتھوں سے نبٹنا ہو گا۔تاکہ کسی میں اس دھرتی کی طرف میلی نگاہ ڈالنے کی بھی جرات نہ رہے



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest