جمہوریت یا وراثت

پاکستان جب معرضِ وجود میں آیا تو اس ملک کے آئین میں پاکستان کو ایک جمہوری مملکت قرار دیا گیا ۔آئین میں یہ قرار پایا کہ ملک میں پارلیمانی نظام رائج ہو گاحکومت کسی ایک شخص کی بجائے پوری پارلیمنٹ کے پاس ہو گی اﷲکو مطلق العین قرار دیا گیا ۔ اس مملکت کے نام اور آئین کے مطابق یہاں جمہوریت کا دور دورہ ہو گا ۔ لیکن آغازِ سفر سے ہی جمہوریت اس ملک میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔آزادی کے حصول اور قائداعظم کے انتقال کے بعد ملکی سیاست میں ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہو گیا اور حکومت حاصل کرنے کی خاطر سیاسی قتل کئے جانے لگے ۔ان قتلوں میں محترمہ فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان جیسے عظیم راہنما تک شامل تھے ۔ جمہوریت کی کمزوری کی وجہ سے 1958میں پہلی بار فوج نے مارشل لاء لگا کر ملک کے انتظامی امور سنبھال لیے ۔جمہوری حکومتوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کوئی حکومت تین یا چار سال سے زیادہ نہ چل سکی ۔سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک میں تین بار بالترتیب 1958,1977,1999 میں ایوب خان ، ضیاء الحق اور پرویز مشرف ہیں مارشل لاء لگایا اور پالیمانی حکومت کو ختم کرکے ملک کے انتظامی امور سنبھالے ۔2013 تک پاکستان میں کسی ایک سیاسی حکومت نے بھی اپنا مقررہ وقت مکمل نہیں کیا تھا ۔اور نہ ہی ملکی انتظام ایک سیاسی حکومت سے دوسری تک منتقل ہو پایا ۔ اس کی بنیادی وجہ سیاست دانوں کی نااہلی تھی ۔
جہاں ملک میں چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں سیاست میں مصروفِ عمل ہیں وہا ں چند بر س پہلے تک ملک میں بنیادی طور پر دو جماعتیں تھیں ۔ ایک مسلم لیگ ایک پیپلز پارٹی ۔یہی جماعتیں بالترتیب حکومت اور اپوزیشن میں رہی ۔صوبائی سطح پر ہر صوبے میں کسی ایک جماعت کو اکثریت حاصل ہے لیکن بنیادی طور پر ملک کے دو بڑے صوبوں میں مسلم لیگ ( نواز گروپ ) اور پپلز پارٹی ( پارلیمنٹیرنز) کی اکثریت ہے ۔جبکہ حالیہ انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہوئی ۔ اس کے علاوہ سندھ میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ۔ان تینوں جماعتوں میں سیاسی راہنمانسل در نسل ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ملک میں پہلی بڑی سیاسی جماعت پپلز پارٹی کی مثال لیں ۔1970 ء کی دہائی کے بعد معرض وجود میں آنے والی یہ پارٹی جس کو بنانے والے ذولفقار علی بھٹو تھے ۔ انھوں نے اس پارٹی کی بنیاد روٹی کپڑا اور مکان کے بنیادی حقوق کی فراہمی پر رکھی۔ ان کی کامیابی اور پیپلز پارٹی کی سندھ میں مقبولیت کے بعد سے آج تک پیپلز پارٹی کی سیاسی قیادت بھٹو خاندان ، زرداری خاندان یا اس خاندان کے رشہ داروں تک محدود رہی اورآج تک بھٹو خاندان تک ہی محدود ہے ۔ذولفقارعلی بھٹو کوپھانسی دئیے جانے کے بعد اس پارٹی کی قیادت ان کی بیٹی محترمہ بینظر بھٹو نے سنھالی ، ان کے قتل کے بعد یہ قیادت آج کل بینظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو کے پاس ہے جبکہ بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کرپٹ ترین سیاست دان ہونے


کے باوجود پانچ برس تک اس ملک کے صدر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں ۔ اس پارٹی کے کارکن چاہے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دیں پارٹی قیادت اور پارٹی کے اعلیٰ عہدے اسی خاندان تک محدود رہیں گے ۔ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں ملک کی دوسر ی بڑی جماعت مسلم لیگ کی بھی کچھ یہی صورت حال ہے مسلم لیگ کی قیادت میاں خاندان کے پاس ہے اور حال میں مسلم لیگ کے میاں نواز شریف ملک کے وزیر اعظم جبکہ انھی کے بھائی میاں شہباز شریف صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی ٰ ہیں ۔ جبکہ ان کے بھتیجے حمزہ شہباز شریف اور بیٹی مریم نواز بھی سیاست میں آچکے ہیں ۔گویا بلاول بھٹو زرداری جن کو پاکستان کی سیاست تو درکنار پاکستان کی معاشرتی اقدار تک کے بارے میں آگاہی نہیں ۔ حمزہ شہباز شریف یا مریم نواز ،آنے والے وقت میں ان پارٹیوں کی قیادت سنبھالیں گے ۔ ان کے علاوہ کسی میں صلاحیت ہو یا نہ ہو ، کوئی کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو ،وہ پارٹی کی قیادت نہیں سنبھال سکتا ۔ کیونکہ ہمارے یہاں سیاست اور قیادت بھی مو روثی جائیداد کے طرح اگلی نسلوں کو منتقل ہوتی ہے اور اس منتقلی میں خاندان کے علاوہ کسی کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
تیسری سیاسی پارٹی جو کہ سندھ اور خصوصا کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس سیاسی جماعت کی بنیاد الطاف حسین نے رکھی جو کہ ایک طویل عرصے سے خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں ۔ ان کی تقاریر ، کارکنوں سے خطابات تمام ہی وڈیوو کانفرس کے ذریعے اور رابطہ کمیٹی کے ذریعے ہوتے رہے ہیں ۔ اس جماعت کے لیڈر کے خاندان سے فی الحال کوئی بھی سیاسی میدان میں نظر نہیں آیا تاہم یہ جماعت کراچی میں اپنا ایک اثر و رسوخ رکھتی ہے اور زیادہ تر انتخابات میں واضع اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے ۔ اگرچہ اس جماعت کے نمائندے تقریبا تمام ملک کے الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تاہم ،باقی تین صوبوں میں اس جماعت کو خاظر خواہ سیٹیں نہیں مل پاتی ۔
1996ء میں تحریک انصاف کے قیام کے بعد یہ پارٹی پاکستانی سیاست میں ایک تیسری قوت بن کر ابھری ۔اور اس وقت یہ پارٹی ملکی سیاست میں تیسری بڑی پارٹی ہے ۔حالیہ الیکشنزمیں تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر ابھری ہے جو کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو پائی ۔تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ پرانے سیاست دانوں کو اس پارٹی میں جگہ نہیں دیں گے لیکن وہ بھی اپنے وعدے پر پورے نہیں اتر پائے ۔ اس پارٹی میں بھی وہ سیاست دان جن کے باپ دادا سے سیاست انھیں منتقل ہوئی نہ صرف شامل ہوئے بلکہ اس پارٹی کے اعلی ٰعہدوں پر بھی فائز ہیں ۔ ان سیاست دانوں میں شاہ محمود قریشی وائس چیئر مین ، جہانگیر ترین سیکریڑی جنرل اور شیرین مزاری شامل ہیں ۔یہ وہ سیاست دان ہیں جو کہ مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر ابھرتی ہوئی اس تیسری سیاسی قوت کے ساتھ شامل ہو ئے۔ان پرانے سیاست دانوں کی تحریک انصاف میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ بنیادی طور پر ہمارے ملک کی سیاست چند ہی لوگوں ، چند ہی خاندانوں کے ہاتھوں میں اور آنے والے وقتوں میں بھی اس ڈھانچے میں کوئی خاص تبدیلی آنے کی توقع کرنا عبث ہے ۔ اس سیاسی جماعت کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس جماعت میں جماعتی بنیادوں پر بھی الیکشن کروائے جاتے ہیں ۔ صوبہ خبیر پختونخواہ کے علاوہ یہ جماعت کسی صوبے میں اس حد تک کامیاب نہیں رہ سکی جس حد تک اس جماعت کے لیڈر کی شہرت تھی اور کسی حد تک انھیں امید بھی تھی ۔اگرچہ انتخابات میں اس جماعت نے بہت حد تکاشتہارات وغیرہ میں پیسہ بھی لگایا تاہم اس جماعت کی کامیابی کا گراف محدود رہا ۔
اگر پوری ملکی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو یہ امر واضع ہو جاتا ہے کہ آج پاکستان کی سیاست پر وڈیروں ، جاگیرداروں ، نسل درنسل حکمرانی کرنے والے سیاست دا نوں کا راج ہے ۔ سرمایہ دار سیاست دان بن چکے ہیں ۔ اس ملک کی سیاست چند ہی ہاتھوں میں ہے ، کچھ خاندان چاہے وہ اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل ہو ں یا نہیں ۔ جب آئین میں شک پاس ہوئی کہ ملکی سیاست ان کے ہاتھ میں آئے گی جن کے پاس گریجویشن کی ڈگری ہو گی تو انھی سیاست دانوں نے جعلی ڈگریاں کورٹ میں پیش کر دی اور ان جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ان سیاست دانوں نے ملکی حکومت میں اپنا حصہ ڈالا ۔
پاکستان میں بسنے والی آبادی کا دو فی صد حصہ بقایا اٹھانویں فی صد کے ادا کئے گئے ٹیکس پر عیاشی کرتا نظرآتا ہے ۔پچھلے دس سالوں میں ملکی ترقی کی شرح نمودس فی صد سے کم ہے جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ملک میں موجود حکمرانوں نے ملک کا پیسہ اپنے اکاؤنٹس میں جمع کر رکھا اور یہ وہ طبقہ جو نہ صرف ٹیکس نہیں دیتا بلکہ ملکی کا ایک بڑا حصہ اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرتا رہتا ہے ۔ یہ ملک کی وہ اشرافیہ ہے جو تمام تر کرپشن کی ذمہ دار ہے

[facebook][tweet][digg][stumble][Google][pinterest]


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest