موسم سرما یا سرد مہری 

موسم سرما کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ میں مختلف طرح کی اشیاء جن میں ابلے انڈے ، مچھلی ، سموسے ، پکوڑے وغیرہ اہم ہیں کے استعمال میں اضافہ ہو جاتاہے ۔ بھنی ہوئی مونگ پھلی کی ریڑھیاں شام ڈھلتے ہی سڑک کے کنارے سج جاتی ہیں ۔موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے بچے ایک بالٹی نما تھرماس ابلے انڈے میں ڈالے بیچتے نظر آتے ہیں ۔تلی ہوئی مچھلی کی دکانوں پر لوگوں کا رش دیدنی ہوتا ہے ۔ ابھی چند دن پرانی بات ہے مجھے شام ڈھلے بازار جانا پڑاحسبِ اندازہ مچھلی کی دکان اور ہوٹل پر رش کی وجہ سے فٹ پاتھ سے گزرنا نہایت مشکل تھا۔ (دھمیال روڈ کے اس علاقہ میں مچھلی فروش فٹ پاتھ پر ایک بڑی کڑاھی میں مچھلی تلتا ہے اس لیے عموما آپ رات یا شام کے وقت فٹ پاتھ پر رش دیکھیں گے جس کی وجہ سے راہ گیروں کے لیے چلنا دوبھر ہو جاتا ہے اسی رش کی وجہ سے مختلف لوگوں کی روزی کا انتظام بھی ہو جاتا ہے جن میں ننھے بچے بھی شامل ہیں )۔
اسی رش کے بیچوں بیچ ایک ننھا بچا جس کے ہاتھوں کی نرم جلد سردی کی وجہ جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی ۔اس بچے کے ہاتھ بتا رہے تھے کہ وہ محنت کش ہے اور فکرِ معاش نے اس سے اس کا بچپن چھین لیا ہے ۔ اس نے اپنے ننھے ہاتھوں میں کچھ دینی کتب پکڑ رکھی تھی وہ اس رش میں کھڑے ہر شخص کے پاس جاتا اسے کتب بیچنے کی کوشش کرتا ۔ وہاں موجود اکثر و بیشتر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے وہ ایک بے بسی آنکھوں میں لیے ہر ایک شخص کو دیکھتا ، پھر کڑاھی میں ڈلی مچھلی کے ٹکڑوں کی جانب دیکھتا اور سر جھکا لیتا ۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بھاگ کر میری جانب آیا امید کی ایک چمک اس کی آنکھوں سے واضع تھی ۔ میرے پاس پہنچتے ہی اس نے کتب اپنے دونوں ہاتھوں میں پھیلا دی ۔ کتابیں بھی اس کے ننھے ننھے ہاتھوں کی مانند چھوٹے سائز کی تھی ۔ سورت یٰس ، نماز اور اسلامی دعائیں ۔وہ سب ایسی کتب تھیں جن کی مجھے قطعا ضرورت نہ تھی ۔ میں اس کے سوال میں چند لمحے خاموش رہی وہ تیزی سے بولنے لگا ۔ باجی اگر ایک خریدیں گی تو پچاس کی دوں گا لیکن دو اسی میں دے دوں گا ۔ باجی ایک کتاب لے لیں یہاں کسی نے مجھ سے کوئی کتاب نہیں لی ۔ مجھے محسوس ہوا کہ شاید یہاں سردی نہیں بلکہ سرد مہری تھی ۔یہاں کھڑے ہوئے ہر شخص کے پاس اتنے پیسے تو تھے کہ چھ سو سے بارہ سو روپے کلو مچھلی خرید لیں لیکن وہ پچاس روپے نہیں تھے جو اس بچے سے ایک کتاب خریدنے کے کام آ سکیں ۔ یہی بچہ اگر عزت کی محنت مزدوری کی بجائے بھیک مانگ رہا ہوتا تو شاید یہاں کھڑے لوگوں میں سے چند ایک تو اس کو بھیک ضرور دیتے ۔ میں نے بنا دیکھے ایک کتاب اس کے ہاتھ سے لے لی اور پچاس روپے اس کے ہاتھ میں تھما دیئے ۔ اس ننھی سی کتاب کی قیمت شاید بیس روپے تھی ۔اس بچے نے اس لیے زیادہ قیمت بتائی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جو بھی اس سے کتاب خریدے گا اس کو قیمت کم کرنے کا ضرور کہے گا ۔ یہ ہمارے معاشرے کی بے حسی کا دوسر ا بڑا ثبوت تھا کہ ایک پچا س روپے کی چیز کی قیمت تو کم کروائی جائے گی لیکن کئی سو روپے دوسری اشیا ء پر لگا دئے جائیں گے ۔اس نے ایک بار میری جانب اس تذبذب سے دیکھا کہ بقایا لوٹا دے میں نے مسکرا کر نفی میں سر ہلا دیا۔اس بچے کی خوشی دیدنی تھی ۔ میرے لیے تو شاید ان پچاس روپے کی اتنی حیثیت نہ تھی جتنی اس بچے کے لیے تھی ۔اس کے لیے شاید وہ ایک وقت کا کھانا تھا ۔یہ صرف ایک بچہ نہیں روزانہ نہ جانے کتنے ہی بچے بھیک سے بچنے کے لیے اس طرح کی کتب ، کھانے پینے اور استعمال کی چھوٹی چھوٹی اشیاء بیچتے نظر آتے ہیں ۔یہ چائلڈ لیبر نہیں یہ وہ بچے ہیں جو اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تومحنت مزدوری کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں لیکن ایسے بچوں کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔
یہاں حیات نبوی ﷺ سے ایک واقعہ تحریر کرتی چلوں ۔حضرت عبداﷲبن ابی ادنیؓ فرماتے ہیں ۔ ایک بار ہم حضورﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک بچہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا۔ یارسول اﷲﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان میں یتیم ہوں ، میری ایک بہن اور بیوہ ماں ہے ۔ہم مفلوک الحال اور کئی دن سے بھوکے ہیں ۔آپﷺ اپنے ہاں سے ہمیں کھانا عنایت فرمایے اس کے بدلے اﷲکریم آپﷺ کو کھانا عطا کرے گا ۔نبی پاک ﷺ بچے کی اس گفتگو سے نہایت خوش ہوئے اور فرمایا ۔ ہمارے گھر جاؤ وہاں سے جو کچھ ملے میرے پاس لے آؤ ۔وہ لڑکا کاشانہ ء نبوی ﷺ سے اکیس کھجوریں لے آیا اور لا کر آپ ﷺکی ہتھیلی پر رکھ دیں ۔ رحمت العالمین ﷺ نے ان کجھوروں پر پھونک ماری اور برکت کی دعا فرمائی اور فرمایا ۔ بیٹا ! یہ سات کجھوریں تیرے لیے ، سات تمھاری ماں کے لیے اور سات تمھاری بہن کے لیے ، صبح شام ایک ایک کھا لیا کرؤ ۔یہ لڑکا بارگاہ نبوت ﷺسے باہر آیا تو حضرت معاذ بن جبلؓ اس کی طرف اٹھے اور اس کے سر پرشفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے دعا فرمائی ۔اﷲ کریم تمھارے حالات کو بہتر بنائے۔
حضرت بنی آخرالزماں ﷺدیکھ رہے تھے ۔ جب معاذؓ واپس آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا۔۔ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ حضرت معاذؓ نے عرض کی ۔یارسول اﷲﷺ!بچے پر رحمت کے جذبے سے ۔ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جو مسلمان کسی یتیم بچے کے ساتھ پیار کرتا ہے ،اﷲتعالیٰ اس یتیم کے ہر بال کے بدلے اس کے درجات بلند کرتا ہے ، ہر بال کے بدلے اسے ایک نیکی عطاء فرماتا ہے اور ہر بال کے بدلے ایک خطاء معاف فرماتا ہے ۔اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ یتیم اور نادار بچوں کے سر پر دستِ شفقت رکھنا بھی ایک نیکی ہے اور اسلامی معاشرے کا ایک خاصہ ہے کہ ایسے نادار بچوں کی مدد کی جائے ۔


اکثر و بیشتر غریب بچے یا عورتیں چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچتے اور بعض اوقات سڑکوں پر موجود گاڑیوں کے شیشے دھوتے نظر آتے ہیں ۔یہ وہ بچے ہیں جو ٹھٹھرتی شاموں میں رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں اس امید پر کہ یہ اشیاء خریدی جائیں گی اور ان کے گھروں کا انتظام چلتا رہے گا ۔ ہمارے ملک میں تقریبا۳۰ فی صد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ ۲ فی صد لوگ ایسے ہیں جو دنیا کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں ۔بہت سے لوگ پکے گھروں سے بھی محروم ہیں اور جھگیوں میں اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے شہروں کے مضافات میں بھی لوگ جھگیوں میں رہتے ہیں جہاں موسم گرما تو شاید کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتا ہے لیکن موسم سرما کی شدت برداشت کرنا نہایت ہی مشکل امر ہے ۔ ان جھگیوں کے مکین بنا کسی گرم کپڑے کے گھاس پھوس جلا کر موسم کی شدت سے مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں ۔جبکہ اسی ملک کی اشرافیہ کئی کئی ہزار کا ایک ایک سوئٹر خریدتی نظر آتی ہے ۔معاشرے میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ پرانے کپڑے تک کوئی کسی کو دینے کو تیارنہیں ۔ غریب اپنی غربت سے لڑ رہا ہے اور امیر اپنے حال میں اس قدر مست ہے کہ اسے کسی اور کا احساس ہی نہیں ۔ کوئی سفید پوش جو اپنی غیرت اور عزت کو مدِ نظر رکھ کر اگر بھیک نہ مانگنا چاہے تو کوئی اس کی مدد خود سے کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔اس کے برعکس بھیک مانگنے والوں کی مدد کی جاتی ہے جو کہ پیشہ ور فقیر ہیں ۔ہمیں ان دو افراد میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔
معاشرے سے اس بے حسی کو ختم کرنے کے لیے ہمیں کسی ابنِ مریم کی ضرورت نہیں ، کسی راہنما ، کسی لیڈر ، کسی حکمران کی ضرورت نہیں اس بے حسی کے خاتمہ کے لیے بس ہمیں اپنے اندر سے اس بے حسی کو ختم کرنا ہوگا ۔ جو آپ میں اور مجھ میں ہے ۔ ہمیں اپنے ان معصوم بچوں، ان بزرگوں اور ان ماؤں کی مدد کرنا ہوگی ۔انھیں بھیک نہیں دینی ان کی غیرت کا سوا نہیں کرنا ، بس ان کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی بے وقت اشیاء کو اپنی حیثیت کے مطابق خریدنا ہے ۔ اگر ہر وہ شخص جو بہتر مالی حالات رکھتا ہو ، وہ ان غیرت مندوں سے اشیاء خریدے تو یہ ان کی سب سے بڑی مدد ہوگی۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest