گوادر :افواجِ پاکستان کے اقدامات

افواجِ پاکستان نے ہر لمحہ ، ہر لحظہ پاکستان کی سرحد علاوہ کے ہر علاقے کی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ اس ارضِ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے ۔گوادر پاکستان کی ایک ایسی بندرگاہ ہے جو سی پیک منصوبے کے لیے ایک دروازہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بندرگاہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے پہلا قدم ہے ۔پاکستان کی بری افواج اور پاکستان بحریہ نے گوادر کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کئے ہیں ۔ پاک بحریہ نے گوادر بندگاہ اور اقتصادی راہداری کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے ۔جو پاکستان کی بری افواج کی سپیشل سیکیورٹی فورس کے ساتھ مشترکہ طور پر فرائض سرانجام دے گی ۔
پاکستان فوج کی نئی کمان نے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے ویژن کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے افواجِ پاکستان کے کردار کو مزید بہتر بنانے کا عزم کر رکھا ہے ۔ جنرل باجوہ ہوں یا جنرل زبیر محمود حیات دونوں ہی نے پاک فوج کی کمان سنبھال کر جنرل راحیل کے مشن کو جاری رکھا ہے ۔ نئے سالار اعظم اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرنے کا عزم رکھتیہیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں فوج کے کردار کو مزید بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس ملک میں امن وا مان کی صورت تحال بہتر ہو تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے ۔ ملک میں بیرونی سرمایہ کا ری جس حد تک زیادہ ہو گی اسی حد تک ملک میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا ، جی ڈی پی میں اضافہ اور غربت میں کمی ہو گی ۔ ارضِ وطن میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر


بنانے کے لیے افواجِ پاکستان نے ملک کے مختلف حصوں میں آپریشنز کا آغاز کر رکھا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی گوادرکی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات بھی ہیں ۔پاک فوج کی مسلس کو ششوں کی وجہ سے مکران ڈویژن میں امن و امان کی صورت حال میں واضع بہتری آئی ۔ دہشت گردی اس ڈویژن میں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔ بلوچستان میں انجینئر ز اور مزدوروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ خصوصا گوادر کی بندرگاہ کی حفاظت کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنر ل باجوہ نے گوادر کے بارے میں کہا کہ گوادر کی بندرگاہ کسی دوسرے ملک سے مقابلہ کے لیے نہیں بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرے گی ۔ گوادر کی سیکیورٹی کے لیے پاک فوج اور پاک بحریہ کی مشترکہ سیکیورٹی فورس کے قیام کے موقع پر جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا
سی پیک منصوبے سے معیشت کا ہر شعبہ ترقی کرے گا ۔پاکستان کی افواج گوادر کی حفاظت اور اس کو چالو رکھنے کے لیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرے گی ۔
جبکہ چیف آف نیول سٹاف کا کہنا تھا کہ گوادر خطے کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کرے گا اور اس کی تعمیر و ترقی سے تجارت میں اضافہ ہو گا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بحریہ گوادر کی حفاظت اور سی پیک راہداری کے ذریعے تجارت کو جاری و ساری رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔پاک بحریہ گودار میں تجارت کے ماحول کوسازگار بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک بحریہ ، سمندر کی حدود کی حفاظت اور سمندری آلودگی کو روکنے کی کوشش کرے گی ۔
تفصیلات کے مطابق پاک بحریہ نے گوادر بندرگاہ اورر اقتصادی کی حفاظت کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے جسے TF-88 کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ فورس جاسوس طیاروں، ڈرونز ، جنگی جہازوں ، جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس ہوگی ۔ پاکستان کی افواج کا مشن پاکستان کی ترقی اور حفاظت ہے جس میں کامیابی کے لیے دوسرے اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرتی ہے ۔ تمام ادارے ملک کی ترقی کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔
پاک بحریہ کی جانب سے بنائی جانے والی ٹاسک فورس اقتصادی راہداری حفاظت کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔یہ ٹاسک فورس گوادر کی بندرگاہ کی حفاظت کی ضامن اور بیرون ملک سے آنے والے تجارتی قافلوں کی حفاظت کی ضامن بھی ہو گی علاقے میں امن و اما ن کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کہ یہ فورس اہم کردار ادا


کرے گی ۔ ہر محبِ وطن اقتصادی راہداری کی جلد تکمیل کے لیے دعا گو ہے ۔سی پیک راہداری منصوبہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان تو کیا پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے جوطاقتیں سی پیک منصوبے کی مخالفت کر رہی ہیں وہ ملک دشمن ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کو دو ٹوک جواب دے اور اس منصوبے پر پاک فوج کے موقف کی تائید کرے ۔کیونکہ جب تک تمام ادارے متحد نہیں ہو جاتے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ ملک دشمن عناصر کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ کوئی بھی ایسا منصوبہ کامیاب نہ ہو نے پائے جواس ملک کی ترقی کا مظہر ہو ۔
پاک فوج کی شبانہ روز محنت اور پورے جوش و جذبے سے ملکی ترقی کے لیے کوششوں ہی بدولت ملک میں امن وا مان کی صورتحال میں جہاں بہتری آئی ہے وہاں ملک میں جاری منصوبے بھی اس صورتحا ل کی بدولت اپنی تکمیل کی جانب رواں دواں ہیں ۔ بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں کا اعتماد پاکستان کی معیشت پر بحال ہونے کی بدولت گوادر سے پہلا تجارتی قافلہ چین کی جانب روانہ ہوچکا ہے ۔ یہ بندرگاہ اب مکمل طور پر کام کر رہی ہے ۔ اگرچہ ملک دشمن عناصر ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں خصوصا سی پیک کے منصوبے کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں خصوصا سی پیک راہداری منصوبہ ان کی آنکھوں میں کنکر کی مانند چبھ رہا ہے اور یہ عناصر اس منصوبے کو ثبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کو شش کر رہے ہیں۔ملک دشمن عناصر چاہے سی پیک کے منصوبے کے خلاف سیاسی طور پر محاز آرائی کے لیے کوشاں ہوں یا ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے مضموم مقاصد میں سرگرمِ عمل، پاک فوج ان مقاصد کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاک فوج ملک کی سرحدوں ، گوادر اور دیگر شہروں میں امن و امان کی بحالی کے لیے سالارِ اعظم کی تبدیلی کے باوجود اپنے ارادوں میں مستقل عمل پیرا ہے ۔ نئے سربراہ جنرل باجوہ سابق سربراہ جنرل(ر) راحیل شریف کے ویژن کو مزید بہتر بناتے ہوئے ان تمام کاموں کو سرانجام دینے کے لیے کوشاں ہیں جن کا آغاز جنرل(ر) راحیل نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے کیا تھا ۔
پاکستان بحریہ اور پاکستان کی بری افواج مشترکہ طور پر گوادر کی سیکیورٹی اور اس بندرگاہ کو تجارت کے لیے کھلا رکھنے کے لیے کوشاں ہیں ۔ پاک بحریہ پاکستان کے پانیوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ ملک میں جاری حالیہ دہشت گردی کی لہر کو روکنے اور گوادر کو اس کے اثرات سے بچانے کے لیے افواج پاکستان مل کر کام کر رہی ہیں۔پاکستان کی تینوں افواج ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و امان کی بحالی ، ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگانے سے گریز نہیں کرتے ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest