پاک افغان سرحد باڑ : جنرل قمر کا خوش آئیند اقدام

پاکستان اور افغانستان کے مابین 2,430 کلومیڑ طویل بین الاقوامی سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے ۔ یہ لائن دراصل وہ علاقہ ہے جس جگہ1893 ء میں تاجِ برطانیہ اور افغانستان کے مابین ہونے والی جنگ بندی کا معائدہ عمل میں آیا تھا اور دونوں فوجوں کو ڈیورنڈ لائن کے علاقہ میں جنگ سے روک دیا گیا تھا ۔ یہ سرحد باقاعدہ ایک پلان کے تحت معرض وجود میں آئی تھی ۔ 1947ء میں تاج برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہ سرحد پاکستان کو وراثت میں ملی ۔ پاکستان اور افغانستان اگرچہ دونوں ہی اسلامی نظریات کی حامل ریاستیں ہیں ، دونوں ملکوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں تاہم ان دونوں ممالک کے درمیان سرحد ی معاملات میں اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پرافراد کی غیر قانونی نقل و حرکت ے الزامات لگاتے نظر آتے ہیں ۔افغانستان نے پاکستان کو کبھی اپنا بھائی تسلیم نہیں کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کے دشمن ملک کی حمایت کرتا رہا ہے ۔
افغانستان میں طالبان کی گرفت مضبوط ہونے اور نیٹو افواج کی موجودگی میں پاکستان کابل کو ہمیشہ اپنے تحفظات سے آگاہ کرتا رہا ہے ۔ تاہم اس غیر قانونی آمد و رفت پر کڑی نگاہ نہیں رکھی گئی ۔ سرحد کو غیر ملکی دراندازی سے محفوظ بنانے کا ہر ملک کو حق حاصل ہے ۔ پاک فوج جہاں ملک کے اندرونی خلفشار سے نبرد آزما ہے وہاں ملکی سرحدوں کی حفاظت کی ضامن بھی ہے ۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم رکھتے ہیں ۔ اسی عزم کے پیشِ نظر انھوں نے پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بجھانے کا فیصلہ کیا ہے


صرف یہی نہیں اس باڑ اور بارودی سرنگوں کے ساتھ ساتھ ان سرحدی علاقوں میں فوجی چوکیوں کی تعمیر اور پاک فضائیہ کی جانب سے فضائی نگرانی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے ۔باڑ لگانے کا آغاز جلد ہی کیا جائے گا، اس سلسلے میں مہمند ایجنسی اور باجوڑ ایجنسی کو دوسرے علاقوں پر فوقیت دی گئی ہے کیونکہ ان علاقوں میں پہلے بھی دہشت گردوں کی گرفت کافی مضبوط رہی ہے ۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے پچھلے برس جب فوج کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت پاک فوج ملک کے بیشتر علاقوں جیسے شمالی وزیر ستان ، دیر سوات ، کراچی اور دیگر قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے ساتھ نبرد آزما تھی ۔ملک بے شمار اندرونی اور بیرونی خطرات میں گھرا ہوا تھا جس میں بیرونی درانداز ی ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی تھی ۔ بیرون ممالک خصوصا افغانستان اور بھارت سے افراد کی غیرقانو نی آمد و رفت جاری تھی۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا سہرا کسی حد تک ان غیرملکی افراد پر بھی جاتا ہے ۔ خصوصا سیہون شریف میں ہونے والا حملہ جس میں سو سے زیادہ افراد شہید ہوئے اس حملہ کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی ۔ اس سے پہلے بھی کئی حملوں کی جڑیں افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی ۔ دونوں ممالک کے مابین انٹیلی جنس معلو مات کا تبادلہ نہ ہونے کے برابر تھا ۔ ان حالات میں ملکی سرحدوں کو محفوظ بنانا افواجَ پاکستان کے لیے اہم ترین کام ہے ۔
جنرل باجوہ نے پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے سابق جنرل راحیل شریف کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے خوش آئیند اقدامات کا آغاز کیا ہے ۔ پہلی بار جنرل باجوہ کی کمان میں ملک گیر آرمی آپریشن (رد الفساد ) کا آغاز کیا گیا ہے ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن میں پہلے کبھی فوجی آپریشن یا رینجرز کا آپریشن نہیں کیا گیا ۔ نیشنل ایکشن پلا ن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے نئے سرے سے اقدامات جاری ہیں۔ ان اقدامات میں یہ باڑ بھی شامل ہے ۔یہ باڑ لگانے کا فیصلہ سندھ میں سیہون شریف پر حملے اور پاکستان کی جانب سے افغانستان کے علاقے میں سرجیکل سٹرائیک کے بعد کیا گیا ۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ 2005ء میں کیا گیا ۔اس وقت سرحد پر باڑ لگانے کے سلسلے میں افغانستان سے مذاکرات بھی کئے گئے لیکن ان مذاکرات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا ۔ اس کے بعد 2009ء اور گذشتہ چند برسوں میں بھی باڑ لگانے کے لیے کاغذی کاروائی کی گئی تاہم اس کو عملی


جامہ نہ پہنایا جا سکا ۔ جس کی وجہ افغانستان کی جانب سے شدید مخالفت تھی ۔ اٖفغانستان کا موقف ہمیشہ یہ رہا کہ سرحد پر باڑ لگانے کی وجہ سے دونوں جانب بسنے والے خاندانوں کے درمیان آزادانہ میل جول میں رخنہ پڑے گا ۔ اس موقف کی وجہ سے باڑ لگانے کا فیصلہ ہمیشہ پس و پیش کا شکار رہا ۔ خاندانوں کے مابین رابطہ بحال رکھنے کی آڑ میں دہشت گر د اور منشیات کے بیوپاریوں کی آمد و رفت جاری رہی ۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان افراد کی جو بھی آمدو رفت ہو دونوں ممالک کی حکومتیں اس سے آگاہ ہو ں اور ٖغیر قانونی طور پر نہ تو اٖفغانستان سے کوئی پاکستان میں داخل ہو اور نہ ہی کوئی پاکستان سے افغانستان میں داخل ہو سکے۔اور دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرکے دونوں ممالک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا جا سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی نگرانی کو یقینی بنا رہا ہے اور اس سلسلے میں افغانستان سے نہ صرف بات چیت کی جا رہی ہے بلکہ افغانستان کی جانب سے کسی خوش آئیند اقدام کی توقع بھی کی جاتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکا ۔جنرل باجوہ دہشت گردی سے نبرد آزما پاکستان کو امن و امان اور ترقی کی راہ پر گامزن بنانے کے لیے ہر دم کوشاں ہیں ۔ پاکستان کی عوام ان کے اس عزم میں ان کے ساتھ ہیں ، اپنے اسی عزم کی تکمیل کے لیے جنر ل باجوہ نے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگا نے کا حکم دیا ہے اور اسی سلسلے میں امریکہ کے ساتھ بھی بات چیت کی جا رہی ہے ۔امریکہ کے تعاؤن اور مذاکرات میں کامیابی کی صور ت میں افغانستان اور پاکستان دونوں ہی کو فائدہ پہنچے گا اور دونوں ممالک کی سرحدیں محفوظ ہو سکیں گی ۔ اگرچہ باڑ لگانے کے اخراجات پاکستان کو اٹھانا پڑیں گے اور دونوں ممالک کی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی ۔
پاکستان اور افغانستان دونوں ہی ممالک اپنی اپنی جگہ دشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں ۔ دونوں ممالک میں امن وامان کی صورتحال نہ گفتہ بہ ہے ۔ وقت کی ضرورت ہے کہ یہ دونوں بھائی اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف لائحہ عمل طے کریں اور دہشت گردی سے دونوں ملکوں کو پاک کیا جائے ۔اس سلسلے میں دونوں ممالک ہی کو اقدامات کرنا ہوں گے ۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest