پاکستان کا نظامِ تعلیم 

لفظ ایجوکیشن یونانی زبان کے لفظ  سے نکلا ہے جس کے لفظی معنی ہیں پڑھانا یا سیکھانا ۔تعلیم سے مراد وہ تمام طریقہ ہائے تعلیم ہیں جن کے ذریعے اقتدار ، عقائد ، عادات ،ہر طرح کا علم ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیا جاتا ہے ۔ ان طریقوں میں داستان گوئی ، بحث و مباحثہ ، تعلیم و تر بیت ، روایتی و غیر روایتی طریقہ ء تعلیم شامل ہیں ۔ تعلیم کسی بھی قوم کا اثاثہ ہے ۔ جو قوم تعلیم کے معیار کو بہتر سے بہترین بناتی ہے وہ کامیاب رہتی ہے ۔ تعلیم ہی کسی قوم کو ٹیکنالوجی ، دفاع ، صحت ، صنعت و حرفت ، زراعت کے میدان میں کامیابی کی ضامن ہے ۔ یہ تعلیم ہی ہے جس کے بل بوتے پرایک قوم کو دوسر ی پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ نیلسن منڈیلا نے کیا خوب کہا تعلیم دنیا کو بدلنے کے لیے مضبوط ترین ہتھیار ہے ۔
تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان( جو کہ جنگ عظیم کے


دوران تباہ ہو چکا تھا ) نے اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ٹیکنالوجی اور تعلیم پر صرف کیااورچند ہی برس میں جاپان اپنی مشینری پوری دنیا کو درآمد کرنے کے قابل ہو گیا ۔ آج جاپان اقوامِ عالم کی صف میں ایک مضبوط حیثیت رکھتا ہے ۔ تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں جن قوموں نے تعلیم کو ثانوی حیثیت دی وہ قومیں آج اقوامِ عالم کی صف میں بہت پیچھے رہ چکی ہیں ۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے تعلیم ایک بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جتنا کسی ملک میں تعلیم عام ہو گی اسی قدر جرائم میں کمی ، صنعت و حرفت میں ترقی ، دفاع میں مضبوطی اور معاشرے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو تی چلی جاتی ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے کہ تعلیم عام ہو کیونکہ جب تعلیم عام ہوتی ہے تو آگے بڑھنے کے زرائع میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔
اسلام میں تعلیم حاصل کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور علم حاصل کرنے کے بارے میں واضع احکامات دئیے گئے ہیں ۔ اسلام میں تعلیم حاصل کرنے کو کس قدر اہمیت دی گئی ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ غزوہ ء بدر میں پکڑے جانے والے قیدیوں کو مدینہ کے تین مسلمانوں کو تعلیم دینے کی شرط پر رہا کردیا جاتا ہے ۔نبی پاک ﷺ اپنیحضرت زید بن حارثؓ کو تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور وحی کو تحریر میں لایا جاتا ہے ۔ حدیث نبوی ﷺ میں ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے کہ علم حاصل کر ؤ چاہے تمھیں چین جانا پڑے ۔ ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت کے لیے لازم ہے۔ہر عالم کے لیے ادب و احترام لازم قرار دیا گیا ہے ۔ ۔صرف یہی نہیں قرآنِ پاک کی صورت میں ہمیں علم کا ایک خزانہ دے دیا گیاجس کی آیات زندگی گزارنے کے اصولوں ، انسانی حقوق ، سائنس ، حکمت ، غور و تدبر سے آراستہ ہیں ۔اسلام میں علم حاصل کرنے کو جہاد کے برابر کا رتبہ دیا گیا ۔ یہ علم ہی ہے جو انسان کو شعور عطاء کرتا ہے ۔ جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر زندگی گزارنے کے اصولوں سے متعارف کرواتا ہے ۔
پاکستان کا معیارِ تعلیم دوسرے ممالک کی نسبت کہیں کم ہے ۔ عموما تعلیم رسمی ڈگری حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن چکی ہے ۔ ٹیکنیکل ، غیر رسمی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ملک کا ایک بڑا طبقہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی محنت مزدوری پر


لگا دیا جاتا ہے ۔ اس طرح ملک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے ۔تعلیمی معیار بہتر نہ ہونے کی دوسری بڑی وجہ تعلیمی نظام میں سیاسی دخل اندازی بھی ہے ۔ جب بھی حکومت بدلتی ہے ، تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں ، جو کہ بعض اوقات ملک کے ایک بڑے طبقے کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ HEC جیسے بڑے ادارے تک کے فنڈز روک دیئے جاتے ہیں اور اس ادارے کو سیاسی وجوہات کی بنا پر ختم تک کرنے کی باتیں کی جانے لگتی ہیں ۔
تعلیمی نظام بہتر نہ ہونے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ بجٹ میں تعلیم کے نہایت قلیل رقم مختص کی جاتی ہے ۔ ہر سال تعلیم پرخرچ ہونے والی رقم 4% سے 5% کے درمیان رہتی ہے ۔ اس کے باوجود یہ شعبہ بھی باقی کئی شعبوں کی طرح کرپشن کا شکار ہے ۔ چاہے وہ اساتذہ کی تقرری ہو یا کتب کی تقسیم و ترسیل ، ہر جگہ کرپشن اور بدعنوانی کا دور دورہ ہے ۔ مفت فراہم کی جانے والی کتب کو مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا جس سے سکولوں میں کتب کی کمی ہو جاتی ہے اور ناچار طلبہ کو وہ کتابیں مارکیٹ سے خریدنا پڑھتی ہیں ۔
ہمارے ملک میں ہرشعبے کی طرح اس شعبے میں بھی مغرب کی اندھی تقلید کی جاتی ہے ۔پرائیویٹ سکولوں طریقہ ہائے تعلیم سے لیکر سلیبس تک مغرب کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ مغرب کے معاشرے اور ہماے معاشرے کی اقدار میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ جب مغرب کا سلیبس ہمارے یہاں استعمال کیا جاتا ہے تو کئی جگہ وہ ہماری اقدار سے متصادم ہو جاتا ہے ۔ اس طرح معاشرے میں بہتری آنے کی بجائے ابتری کا سبب بنتا ہے ۔
پاکستان میں چار طرح کے نظامِ تعلیم رائج ہیں ۔ ایک تو گورنمنٹ اور وہ سکول جو پرائیوٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت کام کر رہے ہیں، دوسراپرائیوئٹ سکول ، تیسرا کیمرج سسٹم کے تحت چلائے جانے والے سکول اور چوتھا مدرسے ( جو کہ مختلف مذہبی تنظیموں کے تحت چلائے جا رہے ہیں ) ۔ان تمام کے تمام نظامِ تعلیم کے نصاب ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ گورنمنٹ سکولوں میں بھی دو طرح کے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں ایک اردو میڈیم تو دوسرا انگریزی میڈیم ۔گورنمنٹ سکولوں کی کتب اور نصاب صوبائی یا وفاقی ٹیکسٹ بک بورڈ واضع کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ جو سکول پبلک ، پرائیویٹ پارٹنز شب یا کسی وفاقی ادارے کے تحت کام کررہے ہیں ان میں آکسفورڈ یا گابا کی کتب پڑھائی جا رہی ہیں ۔ان سکولوں کا نصاب انتظامیہ طے کرتی ہے ۔ جبکہ ہر پرائیویٹ سکول کا اپنا الگ سلیبس ہے ۔ہر پرائیویٹ سکول میں ایک الگ ادارے کی کتب پڑھا ئی جا رہی ہیں ۔پرائیویٹ سکولوں کا نصاب سکول مالکان اپنی مرضی سے طے کرتے ہیں ۔ جس پر کسی قسم کا کوئی check and balance موجود نہیں ۔ہر سکول اپنا نصاب وضع کرنے میں آزاد ہے چاہے وہ نصاب میں کسی بھی قسم کی کتب شامل کر لیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض پرائیویٹ سکولوں میں ہم جنس پرستی تک پر سیمینار منعقد


ہو جاتے ہیں ۔لیکن حکومت یا تعلیمی بورڈ ان سکولوں پر پابندی نہیں لگا تا کیونکہ پاکستان میں تعلیم کے متعلق کوئی قانون سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔اس کے علاوہ کیمرج سسٹم کے تحت کام کرنے والے سکولوں میں انٹرنیشنل نصاب پڑھایا جا رہا ہے ۔ان تمام کے برعکس مدرسوں میں صرف قرآن و حدیث اور قفہ کی تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ دنیاوی تعلیم سے یکسر عاری یہ نظام تعلیم اپنی ڈگری تو دیتا ہے لیکن وہ ڈگری کسی بھی دوسرے ادارے میں قابلِ قبول نہیں ہوتی نہ ہی ان اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو نوکریاں ملتی ہیں ۔اگرچہ حکومت نے ارادہ وفاق المدارس قائم کیا ہے تاہم وہ اس حد تک قابل نہیں کہ ان مدرسوں کی ڈگری کو بھی ملکی سطح پر قابلِ قبول بنانے میں مدد کرسکے ۔ ان مدرسوں کو انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی سے ملحق ہونا چاہیے ۔ان تمام اداروں سے فارغ اتحصیل طالب علموں میں سے بعض تو کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ بعض نوکریوں کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ملک میں موجود یہ تمام تعلیمی نصاب اپنی اپنی جگہ کام تو کر رہے ہیں لیکن ہر تعلیمی نظام میں نقائص موجود ہیں ۔
گورنمنٹ سکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات ( جن میں سے ماضی قریب میں اعلی ٰ عہدوں تک پہنچتے رہے ) پچھلے پانچ سال سے بورڈ کے سالانہ نتائج میں کوئی پوزیشن حاصل نہیں کر سکے اس کے برعکس پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ و طالبات پہلی دس پوزیشنز پر نظر آئے ۔جو کہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ پرائیویٹ سکولوں میں اب معیارِ تعلیم گورنمنٹ سکولوں کی نسبت کہیں بہتر ہو چکا ہے لیکن المیہ یہ
ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والاجس کے دو سے زائد بچے ہوں وہ ان سکولوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا ۔اگرچہ حال ہی میں گورنمنٹ سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا گیا ہے تاہم کوئی چیک اینڈ بالینس نہ ہونے کی وجہ سے یہ اساتذہ بچوں کو اس حد تک محنت سے نہیں پڑھاتے جس حد تک پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ پڑھاتے ہیں ۔پرائیویٹ سکولوں کے برعکس گورنمنٹ سکولوں میں طلبہ کی تعداد بہت زیاہ ہے ۔ ایک ایک جماعت میں پچاس سے زائد طلبہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ طلبہ پر اتنی توجہ نہیں دے پاتے ۔ اگرچہ گورنمنٹ سکولوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومت پنجاب نے دانش سکول ( سمارٹ سکول ) بھی کھولے اس میں اگرچہ طریقہ تعلیم تو بہتر ہے لیکن معیارِ تعلیم اسی سطح پر ہے ۔ دانش سکولوں میں طلبہ و طالبات کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ، اساتذہ کی تعداد بھی کم ہے ۔اور جو اساتذہ ان سکولوں میں اساتذہ میں پڑھا رہے ہیں وہ اس طریقہ ء تعلیم سے مناسب واقفیت بھی نہیں رکھتے ۔حکومت کو چاہیے تھا کہ بجائے نئی عمارتوں اور نئے سکولوں پر پیسے خرچ کرنے کے پہلے سے موجود سکولوں کی حالتِ زار کو بہتر کرتی ۔ہماری ملک کا المیہ یہ ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے ایسے فیصلے کر دئے جاتے ہیں جو کہ نہ تو دوررس ہوتے ہیں اور نہ ہی پائیدار ہوتے ہیں ۔ہمارے ملک میں ذہین بچوں کی کو ئی کمی نہیں ہے اگر کمی ہے توصرف اور صرف نظامِ تعلیم کو مناسب حد تک درست کرنے کی ۔ اس نظام کو درست کرنا بھی زیادہ مشکل نہیں ، صرف نیک نیتی اور بصارت رکھنے والے افراد اس نظام میں موجود خامیوں کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
تعلیم کے شعبے کی حالتِ زار کو پہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پورے ملک میں موجود تعلیمی اداروں کا نصاب یکساں ہو ۔ نصاب ایسا ہونا چاہیے جو ہماری اقدار سے متصادم نہ ہو ۔نصاب بناننے کی ذمہ داری ایک ایسے ادارے(HEC یا UGC)کو دی جائے جو کہ مکمل طور پر سیاسی مداخلت سے مبرا ہو.۔ چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت یا مذہبی جماعت ہو اس ادارے پر دباؤ نہ ڈال سکے ۔اس ادارے میں نصاب بنانے کے لیے ان قابل اساتذہ کو رکھا جائے جو اس ملک کی اقدار کو سمجھتے ہوں ، ایسی بصیرت رکھتے ہوں کہ نصاب کو حال کے ساتھ ساتھ مستقبل سے بھی مکمل طور پر ہم آہنگ بنا سکیں ۔ نصاب کے معاملے میں قوانین بنانے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ اگر کوئی ادارہ ہماری اقدار سے منافی یا متصادم کتب پڑھانے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف کاروائی کی جا سکے ۔ نصاب کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تقرری ، اساتذہ کی بھرتی ، کتابوں کی ترسیل و تقسیم کو کرپشن سے پاک کیا جانا ضروری ہے ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest