باپ :ذمہ  داری کا تعین لازم ہے

نمازِ مغرب کا وقت تھاجب جڑوا ں شہروں کے بیچوں بیچ سفر کرتے ہوئے ہماری گاڑی سترہ میل کے قریب نمازِ مغرب ادا کرنے کے لیے روکی گئی ۔یہاں سڑک کے قریب ہی ایک چھوٹی سی مسجد تھی ۔بنا کسی تزین و آرائش کے یہ مسجد صرف چند افراد کو نماز پڑھنے کی جگہ دے سکتی ہے ۔ مسجد کے صدر دروازے کے قریب ہی ایک چھوٹا سا بچہ جس کی عمر کم و بیش دس برس ہو گی ۔ اس کے چہرے پر جمی سنجیدگی بتا رہی تھی کہ وہ کافی عرصے سے محنت مزدوری کر رہا ہے ۔ مکئی کے بھٹے کی ریڑھی لگائے کھڑا تھا ۔مکئی کے بھٹے ابلے ہوئے تھے وہ ان پر لیموں کے ساتھ نمک مرچ لگا کر دس یا پندرہ روپے میں فروخت کر رہا تھا ۔ ہم میں سے چند لوگ نماز ِ مغر ب ادا کرنے مسجد میں چلے گئے جبکہ چند ا س بچے سے مکئی کے بھٹے خریدنے لگے ۔ اس کی حسرت بھری نگاہیں نماز ادا کرنے کے لیے جاتے ہوئے ان سوٹڈ بوٹڈ لوگوں کو تک رہی تھی ۔ساتھ ساتھ وہ بچہ تندہی سے جلدی جلدی ہمیں بھٹے تیار کر کے کے دینے لگا ۔ ہم اس کی ریڑھی کے قریب ہی کھڑے ہو کر وہ بھٹے کھانے لگے ۔شام کا وقت تھا ۔ یہ بھٹے وقت گزاری کے ساتھ ساتھ پیٹ بھرنے کا کام بھی کر رہے تھے ۔ اس نے ایک حسرت بھری نگاہ سے ہماری طرف دیکھا اورپھر خود ہی پوچھنے لگا ۔” کیا آپ لوگ کہیں پڑھتے ہیں ؟؟ “۔

میں نے کہا “نہیں ! ہم تو نوکری کرتے ہیں ۔کیا تم پڑھتے ہو ؟” اس نے نفی میں سر ہلا دیا ۔

میں نے اس سے پوچھا “تم نے کبھی پڑھنی کی کوشش نہیں کی”؟میری بات سن کر وہ کچھ مزید اداس ہو گیا اور کچھ یوں گویا ہوا ۔

” باجی ! میں پہلے پرھتا تھا ۔ میں نے چار کلاسیں پڑھی ہیں ۔ پھر میرے ابو جہاد کوچلے گئے اور گھر کی روزی روٹی چلانے کو میں کام کرنے لگا۔ باجی !گھر والوں کا پیٹ بھی تو بھرنا ہے ناں ۔ ہاں باجی ! میں نے سوچا ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور پڑھاؤں گا ” ۔ اس کے لہجے میں اپنے باپ کے لیے اور اپنی قسمت کے لیے گلہ تھا ۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے چھوٹے بھائی کی قسمت بدل دینے کا عزم بھی ۔

“سنو بیٹا ! تم بھی رات کو گھر جا کر پڑھا کرو ، کسی سے کتابیں لو اور پرائیویٹ پیپر دو ۔ “میں نے بے اختیا ر اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا ۔

“باجی میں بہت دیر سے گھر پہنچتا ہوں دن بھر کھڑا رہ کر چھلی بیچتا ہوں تھکن اتنی کہ ہمت ہی نہ رہے ۔ بس گھر جا کر چارپائی پر گر جاتا ہوں ۔کیسے پڑھوں ؟” اس کا تھکن زدہ لہجہ کچھ پشتو اور کچھ اردو کا رنگ لیے ہوئے تھا ۔” تم کہا ں رہتے ہو ؟ “میں نے اس سے پوچھا تو اس نے پاس ہی آباد ایک کچے گاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

“ادھر ہے ہمارا گھر “۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس بچے میں آگے بڑھنے کی لگن ہے۔لیکن اس کے مالی حالات اور ذمہ داریاں اسے پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے ۔

“ہمت تو کرنا پڑے گی ناں ۔چند سالوں کی ہی تو بات ہے اس کے بعد تم کہیں نوکری کر سکو گے ۔ تمھیں چھلی نہیں بیچنا پڑے گی۔ .”میں نے اس کی ہمت بندھائی اور ایک خواب اس کی آنکھوں کے حوالے کیا

۔باقی لوگ اس سے ہنسی مذاق کرنے لگے ۔ کسی نے اس سے دہاڈی کا پوچھا کہ وہ کتنا کما لیتا ہے؟ تو کسی نے اس سے ازراہِ مذاق کہا کہ اچھا کیا جو پڑھائی چھوڑ کر کمائی کرنے لگے ۔جن میں سے اس نے کسی کی بات کا جواب دیا تو کسی کا نہیں ۔اس کی آنکھوں میں ایک حسرت پیوست تھی ۔ اتنی دیر میں جو لوگ نماز ادا کرنے مسجد میں گئے تھے وہ واپس آگئے اور ہم اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئے ۔اس واقع کو گزرے نہ جانے کتنے دن ہو گئے ہیں لیکن اس بچے کی حسرت زدہ آنکھوں نے میرے دل و دماغ پر انمٹ نقوش چھوڑے ۔



یہ بچہیہ اس معاشرے کے لاکھوں بچوں کا نمائندہ تھا ۔ ہمارے معاشرے میں بستے نہ جانے کتنے ہی بچے جو رزق حاصل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں ان سب کی طرح اداس، اور بے بس دکھتا تھا ۔ جن کی آنکھوں میں خواب تو ہیں،ان خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کی ہمت اور لگن بھی ہے لیکن ان کے پاس وہ ذرائع نہیں جو انھیں اپنی منزلوں تک پہنچا سکیں ۔ یہ واقع نہ چاہتے ہوئے بھی میرے ذہن پر نہ جانے کتنے ہی روز ثبت رہا ۔
میں سوچتی رہی کہ کیا ایک باپ کی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بے یارو مددگار چھوڑ کر جہاد پر چلا جائے ۔ ؟ نہیں ۔ ہرگز نہیں ۔ قرون اولی ٰ میں بھی اگر کوئی جہاد کے لیے سفر کرتا تھا تو ریاست اس کے خاندان کا نان نفقہ پورا کرنے کی ذمہ دار تھی۔ ایک حدیث شریف میں ارشادِ نبوی ہے۔
“رسول نے فرمایا کہ جو شخص اﷲتعالی ٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے پیچھے اس کے گھر کی عمدہ طور پر خبر گیری کرے تو گویا اس نے خود جہاد کیا” ۔صھیح بخاری جلد دوئم۔صفحہ 142
یہ واضع رہے کہ یہ احکام اس جہاد کے لیے ہیں جو ایک مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے کیا جائے لیکن آج کل جہاد کی صورت ہی بدل دی گئی ہے۔ ملک میں جابجا جہادی تنظیموں کا قیام عمل میں آچکا ہے جن کا ریاستی اداروں سے کوئی تعلق نہیں ۔کتنے ہی لوگ ریاست سے بالاتر ہوکر جہادکی خاطر ان تنظیموں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی اولاد کو اور گھر بار کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور بعد میں ان کی کوئی خیر خبر نہیں آتی ۔ ان سادہ لوح لوگوں کوجہادی تنظیموں کے مقاصد تک کا علم نہیں ہوتا ۔ یہ لوگ ان نام نہاد جہادی تنظیموں کے آلہ ٰ کار کی صورت میں ریاستی اداروں کے لیے بد ترین خطرہ بن جاتے ہیں۔ خودکش بمبار بن کربے گناہوں کی جان لیتے ہیں اور ملک میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں ۔بعض اوقات ایسے لوگوں کو اکثر و بیش تر منہ مانگے معاوضے کی لالچ بھی دی جاتی ہے ۔وجہ کوئی بھی ہو، اپنے پیچھے چھوڑ جانے والے خاندان کے لیے یہ لوگ کچھ نہیں کر پاتے ۔ ان کے خاندان ، بیوی بچے ، ماں باپ بے یارو مددگار اپنی زندگی کسرِنفسی سے گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ان کے وہ بچے جن کے ہاتھوں میں پن ، پنسل ہونی چاہیے ان کے ہاتھ مکئی کے بھٹے تیار کر رہے ہوتے ہیں یا پھر انٹیں ڈھو کر اپنے خاندان کی روزی روٹی کا انتظام کرنے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ یہ کیسا جہاد ہے ؟کہ آپ کے بچے یوں دربدر کی ٹوکریں کھائیں ، تعلیم سے محروم رہیں اور ان بچوں کا کیا قصور ہے کہ زمانے بھر کی محرومیاں ان کی جھولی میں آئیں


۔
جہاد کا آج کل جو طریقہ کار ہے وہ اپنانے سے پہلے جہاد کی فرضیت اور مقصدیت کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ جہاد کا اولین مقصد اﷲکے دین کی سربلندی ، اﷲ کے دین کو قائم کرنا، اسلام کا پیغام عام کرنا ، ملکی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر کفار سے جنگ کرنا جہاد میں شامل ہے ۔مسلمانوں ہی کے خلاف کاروائیاں کرنا اور اسلامی ریاست کو معاشی اور معاشرتی نقصان پہنچانا جہاد نہیں ہو سکتا ۔ لیکن جہاد کا نام استعمال کرکے اپنی اولاد اور ماں باپ کو بے یارومددگار چھوڑ کر کسی ایک تنظیم جو کہ ریاست کا ادارہ بھی نہ ہوبلکہ الٹا ریاست کے خلاف کام کرنے میں مصرو ف اس میں شامل ہو جانا کسی طور بھی جائز نہیں ہے ۔ یہ نام نہادتنظیمیں جہاد کا نام استعمال کرکے بے گناہ مسلمانوں کو بم دھماکوں کا شکار کر دیتے ہیں ، مسجدوں اور سکولوں کو تباہ کر دیتے ہیں یہ سراسر غلط اور دین کے منافی فعل ہے کیونکہ اس دہشت گردی کی وجہ سے دینِ اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ الٹا مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی ہوئی ہے ۔ جن کاروائیوں سے ایک اسلا می مملکت کمزور ہو جائے ،ملک کی سلامتی داؤ پر لگ جائے اس کی نہ تو اسلام اجازت دیتا ہے اور نہ ہی معاشرتی طور پر کسی صورت یہ کاروائیاں قابلِ قبول نہیں ہیں ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest