خدا کرے نیا سال سب کو راس آئے 

۔ گذشتہ برس ارضِ وطن کے طول و عرض میں آہیں اور کراہیں گونجتی رہیں۔ پورے ملک میں دہشت گردی ، انتہا پسندی ، ظلم و بربریت کا دور دورہ رہا ۔ امن و امان کی صورت حال پہلے سے بھی بدتر ہوتی نظر آئی ۔ ایک طرف ڈرون حملے تو دوسری جانب دہشت گردوں کے حملوں سے شہید ہونے والوں کے خون سے سرزمین پاکستان سرخ ہوتی رہی ۔ اور بے انتہا دعووں کے باوجود حکومت امن و امان کے قیام میں اس حد تک کامیاب نہیں ہو سکی جس حد تک ہونا چاہیے تھا ۔ اس برس بھی دہشت گرد اپنے مزموم عزائم میں کامیاب ہوتے رہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبروں اور آپریشن ضربِ عصب کا آغاز کیا گیا تاکہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاک کیا جا سکے ۔ اس آپریشن میں نہتے لوگوں کو شمالی وزیرستان اور متاثرہ علاقوں سے نکال کر آپریشن ختم ہونے تک کیمپوں میں رکھا گیا ہے ۔ یہ آپریشن ابھی تک کامیابی سے جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ یہ زمین دہشت گردوں سے پاک نہ ہو جائے ۔
اس برس کا سب سے بڑا حادثہ اور دل دہلا دینے والا واقع پشاور میں بچوں کے سکول پر حملہ تھا ۔ ظلم و بربریت کی سب سے بڑی داستان پشاور میں اس وقت رقم ہوئی جب اساتذہ کو زندہ جلایا گیا اور ننھے بے گنا ہ پھولوں کو بلا اشتعال فائرنگ کر کے اور خودکش دھماکو ں سے مارا دیا گیا ۔جب والدین نے ان پھولوں کے جنازے اٹھائے جنھوں نے بڑھاپے میں ان کا سہار ابننا تھا ۔ اس ظلم کے واقع نے پورے ملک کو جہاں رلا دیا وہاں پوری دنیا نے اس واقع کی مذمت کی ۔لیکن اس واقع نے پاکستانی قوم کے عزم و حوصلہ کو کم نہیں کیا بلکہ اس واقع کی وجہ سے تمام سیاست دان ، افواجِ پاکستان ، عدلیہ ایک میز پر نظر آئے اور دہشت گردی کے خاتمے اور ملک دشمن عناصر کو قرار واقع سزا دینے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے جس پر پہلی بار اپوزیشن اور حکومت دونوں متحد تھیں ۔ ملک میں دہشت گردی کی عدالتیں بنانے ، مجرموں کو قرار واقع سزا دینے امن وامان قائم کرنے اوراس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات کی خاطر تمام ادارے اکٹھے نظر آئے ۔ پہلی بار ملک میں بڑے پیمانے پر انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا ۔ اور بڑے پیمانے پر مجرموں کو پھانسیاں دینے کا نہ صرف اعلان کیا گیا بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ہوا ۔ اس واقع نے قوم کو پھر سے یکجاء کر دیا ۔قوم کا یوں ایک میز پر اکٹھا ہو جانا اس بات کا عکاس ہے کہ چاہیے ہمارے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہو ملک و قوم کی امن وسلامتی کے لیے ہم ایک ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج تنہانہیں ہے بلکہ پوری قوم اور سیاست دان ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اقوامِ عالم نے دیکھا کہ اتنے بڑے حادثے نے بھی ان بچوں کے حوصلے پست نہیں کیے ۔
پشاور کے بعد سب سے زیاد ہ ہونے والی اموات کا شکار تھر کا خطہ رہا ۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں مور ناچا کرتے تھے اس علاقے میں قحط اور خشک سالی کے آفریت نے ایسے پنجے گاڑھے کہ لاتعداد بچوں ، بوڑھوں


،جوانوں ، مویشیوں ،کی جانیں لینے کے بعد بھی اس علاقے کی جان نہ چھوڑی۔ اس آفریت نے نہ جانے کتنے ہیہی لوگوں کی جان لی۔ اور ابھی بھی اس علاقے کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ دن بدن مرنے والوں کی تعداد میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوتا رہا ۔ اور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں ۔ تھرکے باسی اس سال سیاست دانوں اور اشرافیہ کی امداد کے منتظر رہے ۔ان کے لیے ٹاک شوز تو بہت کیے گئے آرٹیکل تو بہت لکھے گئے ، رپورٹس تو بہت بنائی گئی لیکن عملی اقدام نہیں کیے گئے ۔ عملا ان آفت زدگان کو نہ تو صوبائی حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی توجہ ملی ۔
اسی برس کراچی میں امن وا مان کی صورت حال پہلے جیسی ہی رہی ۔ ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری کا بازار گرم رہا ۔سنی ، شیعہ فسادات بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے شیعہ علماء کا قتل کیا گیا ۔ بوریوں میں ملنے والے جسم ، اور اندھی گولیوں کا نشانہ بننے والے بے گناہ افراد انصاف کے انتظار میں رہے ۔لیاری ، منگو پیر کے علاقوں میں مسلح گروہوں کا راج رہا اور ان گروہوں کی لڑایوں میں مارے جانے والے بے گناہ افراد کے لواحقین اس سال بھی اس جنگ کے خاتمے کا انتظار کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ کراچی کو فوج کے حوالے کر دینے کی سفارشات پیش کی جانے لگی ۔
بجلی ۔ گیس اور آٹے کے بحران بھی آتے رہے ۔ ناقص منصوبہ بندی کے باعث بجلی کا بحران ابھی تک حل نہیں ہو پایا ۔ اگرچہ حالیہ حکومت نے بجلی کا بحران ختم کرنے کے بہت دعوے بھی کیئے لیکن وہ اپنے دعوے پورے کرنے میں ناکام رہی ۔
سیاست کے میدان می ں یہ سال گرماگرمی کا سال کہلایا جا سکتا ہے ۔ یہ سال دھرنوں ، جلسے جلسوں کی نظر ہوا ۔اس سال کیچار مہینے سے اوپر اپوزیشن نے دھرنے میں گزارے جس کے اثرات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں عوام کو نظرآئے ۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو ان دھرنوں کے وہ نتائج برآمد نہیں ہوئے جن کی اپوزیشن اور عوام کو امید تھی ۔ دھرنوں کے بعد پورے ملک میں جلسے جلوسوں کی سیاست کا آغاز ہواایک کے بعد ایک جماعت جلسے جلوس کرتی نظر آئی ۔ ان جلسے جلوسوں اور دھرنوں نے ملکی معیشت کا پہیہ کئی روز تک جام رکھا ۔
جہاں یہ سال آنسوؤں میں گزرا وہاں اس سال نے کچھ خوشیاں بھی دی ۔ پاکستان کی بچی ملالہ یوسف زائی کو پوری دنیا میں پزیرائی ملی اور اسے انعام سے نوازا گیا ۔ کھیل کے میدان میں بہت عرصے بعد پاکستان نے کامیابیوں کے جوہر دیکھا ئے ۔ اور بہت عرصے بعد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔
سال 2015 ربیع الاول کے مبارک اور بابرکت مہینے میں شروع ہو رہا ہے ۔ جہاں نیا سال نئی خوشیوں ، نئی


منزلوں ، نئے ولولوں کا پیغام لایا ہے وہا ں یہ ہم سے تقا ضا کرتا ہے کہ ہم فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر سوچیں ۔ ملک و قوم کی ترقی کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں ۔ ترقی کی اس دوڑ میں اپنا حصہ ڈالیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے افواجِ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں ۔ جو غلطیاں ماضی میں کی گئی ہیں انھیں دھرانے سے گریز کریں ۔اپنے ان ہم وطنوں کاجو کسی مشکل یا آفت کا شکار ہیں ان کی مدد کریں ۔ دنیا پر یہ ثابت کر دیں کہ یہ قوم صرف مشکل ہی میں نہیں بلکہ ہرحال میں متحدہے اور اس وطن کے رہنے والے مشکل سے مشکل اوقات میں بھی اپنے وطن سے غداری نہیں کر سکتے ۔جو ہر مشکل سے بہادری اور جواں مردی کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
آئیے نئے برس کے طلوع ہوتے سورج کو ایک نئے عزم ایک نئی امید کے ساتھ خوش آمدید کہیں ۔ اس دعا کے ساتھکہ
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے نیاء سال سب کو راس آئے


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest