ٹریفک حادثات تدارک ممکن ہے ۔

موسمِ سرما اپنے جوبن پر ہے ۔ یہ موسم اپنے ساتھ دھند کا ایک لاامتناہی سلسلہ لے کر آتا ہے ۔ ملک کے طول و عرض ممیں روز بروز سردی اور دھند میں اضافہ کی وجہ سیمیدانی علاقوں حد نگاہ میں تقریبا صفر ہو جاتی ہے ۔جس کی وجہ سے ٹریفک جیم کامسئلہ جنم لیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس موسم میں ٹریفک حادثات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹسیٹسکس کی رپورٹ کے مطابق سال 2013 میں ٹریفک حادثات کی تعداد 8885رہی جبکہ ان حادثات میں ہونے والی اموات کی تعداد4672 جبکہ سال میں ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی ۔.WHO کے مطابق پاکستان میں ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات بیس ہزار سے تجاوز کر گئی جوکہ کل اموات کا 1.58%ہیجبکہ ٹر یفک حادثات میں ہونے والی اموات کی شرح15.55% ہے ۔جو کہ دنیا کے اکثر ممالک سے کہیں زیادہ ہے ۔ٹریفک حادثات کی کئی وجوہات ہیں ۔ ان وجوہات میں ایک بنیادی وجہ تیز رفتاری بھی ہے ۔تیز رفتاری عموما گاڑیوں میں تصادم کا سبب بنتی ہے ۔تیز رفتاری کے سبب پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والی بسیں ڈرائیور کا کنڑول نہ کر سکنے کی صورت میں عموما گہری کھایوں میں جاگرتی ہیں یا الٹ جاتی ہیں ۔بسوں کے الٹ جانے کی دوسری بڑی وجہ گنجائش سے زیادہ لوگوں کو بس میں سوار کیا جاتا ہے ۔ تیز رفتاری ہر موسم میں نقصان دہ ہے تاہم موسم سرما میں خصوصاحدِنگاہ صفر ہونے کی وجہ سے اگر گاڑی کی رفتار کو مناسب حد تک نہ رکھا جائے توٹریفک حادثات کا سبب بنتی ہے ۔ تیز رفتاری ہمارے ملک میں ایک معمول کی حیثیت رکھتی ہے جس کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی خصوصا نوجوان ڈرائیور گاڑی کی رفتار کو زیادہ رکھنا پسند کرتے ہیں ۔تیز رفتاری کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں عموما


جانی نقصان زیادہ ہوتا ہے ۔
حال ہی میں کراچی میں ہونے والے حادثے نے کئی خاندانوں کے چراغ گل کر دئیے ۔یہ حادثہ ایک آئل ٹینکر کے بس سیتصادم کی وجہ سے ہوا ۔آئل ٹینکر سے تصادم کی وجہ سے بس اور ٹینکر دونوں میں آگ بھڑک اٹھی اور پوری بس جل کر خاکستر ہو گئی ۔ اس حادثہ میں 59 جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق 62افراد زندہ جل گے ۔ جبکہ بس ڈرائیور اور کنڈکٹر جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے ۔ اس قدر جانی نقصان کی وجہ یہ تھی بس کے شیشے فکسڈ ہونے کی وجہ سے ان کو کھولنا ممکن نہ تھا ۔بس میں کسی ایسے اواز کا کی غیر موجودگی جس کی مدد سے شیشوں کو توڑا جاسکے نے بھی اموات میں اضافہ کیا ۔ سونے پر سوہاگہ فائر برگیڈ کا عملہ بھی بروقت جائے حادثہ پر نہ پہنچ سکا ۔جس کی وجہ سے سوائے چند ایک افراد کے کوئی شخص اپنی جان بچانے میں کامیاب نہ ہو سکا اورتقریبا تمام مسافر اس حد تک جھلس گئے کہ اب کے مردہ اجسام بھی قابلِ شناخت نہ رہے ۔اوراب لواحقین کو اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کرنا پڑے گا ۔
اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا زندہ جل جاناایک الم ناک حادثہ ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے بہت سے اداروں کی کارکردگی ابھی تک تسلی بخش نہیں ہے ۔اداروں کی کارکردگی کا غیر تسلی بخش ہونا ایک جانب لیکن دوسری جانب اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لیے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہ کر نا بھی حادثات کی وجوہات میں شامل ہے ۔ ہمارے ملک میں گاڑیوں کی رفتار کو ڈرائیور حضرات کبھی مدِ نظر نہیں رکھتے ۔حد سے زیادہ رفتار بھی بہت سے حادثات کا سبب بنتی ہے ۔خاص طور پر موسم سرما میں جب دھند کی وجہ سے حدِ نگاہ صفر ہو جاتی ہے ایسے وقت میں گاڑی کی رفتار کو مناسب حد تک رکھا جانا ضروری ہے تاکہ اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکے ۔ بعض علاقوں میں ٹریفک پولیس کا نظام نہایت فرسودہ ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی سپیڈ کو چیک نہیں کیا جا سکتا ۔ تیز رفتاری اور جگہ سے زائد مسافروں کو بس میں سوار کرنا اس طرح کے حادثات کی بنیادی وجہ ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ عموما دیکھا گیا ہے کہ ایئر کنڈیشن بسوں میں شیشے ایئر ٹایٹ ہوتے ہیں اور ان شیشوں کو کھولا نہیں جا سکتا ، نہ ہی ایمرجنسی میں ان شیشوں کو توڑنے کے لیے بس میں کسی قسم کا کوئی اوزار موجود ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اکثرو بیشتر بسوں میں کو ئی ایمرجنسی دروازہ موجود نہیں ہے جس کوکسی ناگہانی حادثہ کے وقت استعمال میں لایا جا سکے ۔ اگر ان بسوں میں شیشوں کو توڑنے کے کوئی اوزار موجود ہو یا کوئی ایمر جنسی دروازہ موجود ہو تو اموات کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے ۔جبکہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں ایمرجنسی ڈور وہ واحد راستہ ہے جو اموات میں کمی کا سبب بن سکتا ہے ۔ حالیہ واقع میں بھی حادثہ کا شکار ہونے والی بس کی کھڑکیوں نہ صرف ائیر ٹائٹ تھی بلکہ ان کو توڑنے کے لیے کوئی اوزار موجود نہیں تھا اورنہ ہی کوئی بس میں کو ئی ایمرجنسی ڈورتھاجس کے ذریعے لوگ اپنی جان بچا سکتے ۔
اس حادثے میں جس ادارے کی نااہلی سامنے آئی وہ ہے ٹریفک پولیس اور فائر برگیڈ ۔ حادثات پر قابو پانے کے لیے ٹریفک پولیس مستعد نظر نہیں آتیْ ۔ٹریفک پولیس کا مناسب نظام جدید نہ ہونے کی وجہ سے بسوں کی سپیڈ کو چیک کرنے


کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی غلط سمت پر سفر کرنے والی ٹریفک کو چیک کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے حادثات ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔صوبائی حکومت کے بے پناہ دعوؤں کا پول اس وقت کھل جاتا ہے جب اس قسم کے حادثات منظرِ عام پر آتے ہیں ۔ دوسرا بڑا ادارہ جسے ہمارے ملک میں بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے وہ فائر برگیڈ ہے ۔ پاکستان میں فائر برگیڈ کے ادارے کو کبھی قابلِ توجہ نہیں سمجھا گیا ۔پاکستان کی فائر برگیڈ میں نہ تو جدید ساز وسامان فراہم کیا گیا ہے اور نہ ہی فائر برگیڈ کا عملہ تربیت یافتہ ہے ۔ خصوصا تیز رفتار گاڑیوں کی غیر موجودگی فائر برگیڈ کی کارکرگی کو مزید خرا ب کرتی ہیں ۔کیونکہ آگ لگ جانے اور اس طرح کے حادثات کی صورت میں فائر برگیڈوہ واحد ادارہ ہے جوکسی بھی حادثہ میں ہونے والی اموات کی تعداد میں کمی کا سبب بن سکتا ہے ۔
حالیہ حادثہ میں ٹریفک وارڈن کی غیر موجودگی ، ٹریفک پولیس کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ فائر برگیڈ کی دیر سے آمد اور آگ بھجانے میں ناکامی بھی اموات کی تعداد میں اٖضافے کا سبب بنی ۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان میں شہری دفاع کا کوئی موئثر ادارہ سر ے سے موجود ہی نہیں ہے ۔سوائے صوبہ پنجاب میں جہاں ریسکیو 1122 کی موجودگی شہری دفاع اور اس طرح کی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے کسی اور صوبے میں ایسے ادارے یا تو موجود نہیں یا غیر فعال ہیں ۔
توجہ طلب امر یہ ہے کہ پورے ملک کی ٹریفک پولیس کو فعال کیا جائے ۔اسلام آباد سٹی ٹریفک پولیس کی طرز پر پورے ملک کی ٹریفک پولیس کو جدید سسٹم سے لیس کیا جائے ۔ ان حادثات کومکمل طور پر روک دینا تو شاید ممکن نہیں ہے تاہم ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنا کر ان حادثات کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے ۔ہر سڑک پر سکیورٹی کیمرہ لگایا جائےئے اور ٹریفک وارڈن کی ہر سٹرک پر موجودگی کو یقینی بنایا جائے ۔ تاکہ اس طرح کے حادثات کو بروقت نہ صرف روکا جا سکے اور اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو اموات کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے ۔ ٹریفک پولیس اور فائر برگیڈ دونوں اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ٹریفک حادثات پر قابو پانے کے لیے ازحد ضروری ہے ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest