سرحدوں کے امین : پاک فوج کے جوان 

پاکستان کی مسلح افواج ، پوری دنیا میں پاکستان کے لیے قابلِ فخر سرمایہ ہیں ۔سرحدوں کے یہ امین اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت کی خاطر دن اور رات کی پرواہ کیئے بنا اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے کوشا ں ہیں ۔ مسلح افواج پر نہ صرف عوا م کوفخر ہے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی قائل پوری دنیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی افواج کو ایک اہم مقام حاصل ہے ۔ پاکستان کی افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں ۔یوگوسلاویا ہو ، سربیا ہو ، افریقہ ہو یا کوئی اور ملک پاکستانی افواج اپنی خدمات کی انجام دہی میں دوسری افواج سے کہیں بہتر ہیں ۔ پاک فوج نہ صرف بیرونِ ملک بلکہ اندرونِ ملک بھی ہر طرح کے خطروں سے نبرد آزما ہیں ۔ خطرات بیرونی ہوں یا اندرونی پاک فوج کی بدولت سر زمینِ پاکستان محفوظ ہے ۔ نہ صرف سلامتی کے خطرات بلکہ کسی بھی صورت حال سے نبٹنے کے لیے پاک فوج ایک ایسا ادارہ ہے جو کسی بھی ادارے سے پہلے عوام کی مدد کو پہنچتے ہیں ۔ زمانہ امن میں بھی پاک فوج ، عوام کے ہر دم ساتھ ہے ۔ ملک میں


سیلاب کی تباہ کاریا ہوں ، زلزلہیاقحط کی آفت ٹوٹ پڑے، خود کش بم دھماکے ہوں یا کسی جلسہ کو پر امن رکھنا ہو ، نہروں کی بھل صفائی ہو یہاں تک کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی جسمانی فٹنس کا مسلۂ ہو جہاں تمام ادارے، افراد ناکام ہو جائیں وہاں پاکستان فوج کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔
پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف سرحدوں کی حفاطت کے لیے کوشاں ہے بلکہ ملک کو درپیش اندرونی مسائل جیسے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، اور پاکستان کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازشوں کا خاتمہ کرنے میں بھی مصروفِ عمل ہے ۔ملک وملت کے لیے کام کرنے والے یہ نوجوان والدین اور عزیز و اقارب سے کوسوں دوراپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں ۔خصوصا دہشت گردی کی جنگ میں کئی ماؤں نے اپنے لختِ جگر گنو ا دئیے ہیں لیکن قربان جائیں ان بیٹوں کے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کرکے ملک کو دشمنوں سے محفوظ رکھا اور دشمنوں کی ہر سازش کو ناکام بنایا ۔دہشت گردی کی اس جنگ میں چالیس ہزار کے لگ بھگ جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا
کچھ نام نہاد مفکرین اور کالم نگار جو پاک فوج کے خلاف ہزراہ رسائی میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملکی بجٹ کا بیشتر حصہ فوج پر لگایا جاتا اور اس کو کم کیاجائے ۔ یہاں اس بات کی وضاحت لازمی ہے کہ کوئی بھی ملک دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ اپنے محافظوں کے بل بوتے پر قائم رہتا ہے ۔ ایک مضبوط فوج ہی ملک کی سلامتی کا سرچشمہ ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس جس قوم یا ملک کی فوج کمزور ہوئی اس ملک نے بہت جلد اپنے دشمنوں سے شکست کھائی ۔ اس کی مثال بغداد کی ہے یہ شہر مسلمانوں کا ایک علمی مرکز تھا ، اس شہر میں بہت زیادہ تعداد میں مسلمان علماء اور کتب ، لائبریاں تھیں لیکن ایک موضوع فوج نہ ہونے کی وجہ یہ شہر بہت جلد فتح کر لیا گیا اس شہر کی تمام لائبریاں نذرِآتش کر دی گئیں اور اس شہر کو فتح ہونے والے سے بچانے والا کوئی نہ تھا ۔صرف عالم یا کتابیں ، فیسٹول ، لوک گیت ، کسی بھی ملک کو دشمن کی یلغار سے روکنے کے لیے ناکافی ہے
اگر ارضِ وطن پاکستان کا جغرافیائی جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی ایک طویل سرحد ایک ایسے ملک کے ساتھ مشترک ہے جو روزِازل سے پاکستان کے وجود کے خلاف ہے اور پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے سے کبھی گریز نہیں کرتا چاہے بلکہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے ۔وہ کوئی عالمی فورم ہو یا پھر بین الاقوامی مالیاتی ادارے، بھارت پاکستان کے خلاف کاروائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ بھارت کی خارجہ پالیسی پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر ہر وقت زہر اگلنے سے تعبیر کی جا سکتی ہے ۔نہ صرف عالمی فورم بلکہسرحد پر بھارتی افواج دراندازی سے گریز نہیں کرتی ۔ان گنت افراد بھارت کی جانب سے اس اشتعال انگیزی کا شکار ہو چکے ہیں۔ جبکہ مغرب کی جانب ایک ایسا ہمسایہ افغانستان ہے جس کی تمام تر ہمدردیاں ہمارے دشمن ملک بھارت کے ساتھ ہیں اور یہ ممالک پاکستان کے بیشتر حصوں میں سازشیں کرنے اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔دوسری جانب ملک دشمن عناصر ملک کے اندر دہشت گردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بلوچستان اور کراچی میں ایک سوچی سمجھی سازش کے ذریعے نام نہاد علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں جن کو بھارت کی جانب سے بلواسطہ اور بلاواسطہ حمایت حاصل ہے جس کا ثبوت بھارتی وزیرِ اعظم اور پاکستان میں موجود ان تحریکوں کے لیے کام کرنے والے افراد کے انٹرویو ز ہیں ۔ ان تحریکوں کا خاتمہ بھی از حد ضروری ہے کیونکہ اگر یہ صرف اور صرف آزادی کی تحریکیں ہوتی تو ان کو بیرونی طور پرخصوصا بھارت کی حمایت حاصل نہ ہو تی ۔ صرف یہی نہیں اس کے علاوہ ملک بھر میں ملک دشمن عناصر فرقہ پسندی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سکیورٹی کی بیشتر ذمہ داری پاک فوج کے سپرد کی گئی ہے جس کواحسن طریقے سے نبھانے کے لیے فوج کو وسائل کی ضرورت ہے ۔ پاکستان آج ماضی کی نسبت زیادہ خطرات ، مسائل اور بیرونی دراندازیوں کا شکار ہے ۔ایسے حالات میں اگر پاکستان فوج مضبوط نہ ہو یا اس کی پیشہ ورانہ صلاحتیں کمزور ہو ں تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔یہ پاک فوج ہی ہے


جو ان چیلنجز کا سامنا جوان مردی سے کرتے ہوئے ان تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ افواج پاکستان نے ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن ضربِ عصب کا آغاز کیا جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کروا لیا گیا ، سرحد کے دوسری جانب سے دراندازیوں میں واضع کمی آئی ۔
ملک کے انتظامی اداروں میں پاکستان کی مسلح افواج سب سے منظم ادارہ ہے ۔ ملک کیپسندیدہ ترین افراد میں بری افوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف پہلے نمبر پر ہیں ۔ بین الاقوامی طور پر بھی جنرل راحیل نہ صرف مشہور ترین شخصیات میں ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں بلکہ طاقت ور ترین جرنیلوں کی لسٹ میں بھی اولین نمبروں پر ہیں ۔
واضع رہے کہ کوئی بھی فوج اس وقت اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتی ہے جب اس ملک کے عوام ، سیاست دان ، میڈیا اور حکومت اس کے ساتھ کھڑی ہو ۔ بھارت کے ساتھ لڑی جانے والی 1965 ء کی جنگ میں پاکستان کو کامیابی اس لیے حاصل ہوئی کہ تمام قوم اپنی جری افواج کے ساتھ تھی ۔ اگر ملک کے عوام ، سیاست دان ، حکومت اور میڈیا فوج کا ساتھ نہ دے تو اکیلے فوج کسی محاذ پر کامیاب نہیں ہو سکتی اس لیے ضروری ہے کہ عوام اور خصوصا میڈیا چاہے سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا کو اپنی فوج کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ باہر حال اس فوج ہی کی وجہ سے پاکستان سلامت ہے اور سلامت رہے گا ۔
پاک فوج زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest