ٹوہ لینا ، ایک ایسا عمل ہیں جس کے ذریعے انسان اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ دوسرے کی ذات میں چھپی خامیوں کو تلاش کرے ، پھر ان خامیوں کی تشہیر کی جائے ، اس کی عزت کو نیلام کیا جائے یا ان خامیوں پر اس کا مذاق اڑایا جائے ۔اس طرح کسی بھی ایک شخص کی ذات کو مذاق کا نشانہ بنا کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح ہنسا جا سکتا ہے حالانکہ اس طرح ایک شخص آزار میں مبتلا ہو کر بے سکون ہو جاتا ہے ۔مذاق مذاق میں کی گئی باتیں دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھول دیتی ہیں ۔ اسلام اس طرح کی عیب جوئی ،جاسوسی اور گمان سے روکتا ہے ۔ قرآنِ پاک میں ارشادِباری تعالیٰ ہے
اے لوگو!جو ایمان لائے ہو ۔بہت گمان سے بچو۔بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرؤ اور تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے (الحجرات:12)
گویا کسی کی جاسوسی کرنے ، ٹوہ لینے اور غیبت کرنے سے منع فرما دیا گیا
نبی پاک ﷺ کا اسوۃ حسنہ ہمارے لیے جہاں بہت سی مثالیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے وہا ں الفاظ کے بہترین چناؤ اوراپنی زبان سے دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے واضع مثالیں رکھتا ہے ۔
ایک بار نبی پاک ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر حضر ت معاذؓ کو نصیحت فرمائی ۔
زبان کو قابو میں رکھو ۔۔
حضرت معاذؓ نے عرض کیا : یا نبی ﷺ ۔ ہم جو کچھ بولتے ہیں تو کیا اس پر ہماری گرفت ہو گی ؟
آپ ﷺ نے فرمایا :اے معاذؓ ! اﷲتمھارا بھلا کرے ۔ جہنم میں لوگ زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے ہی اوندھے منہ گریں گے ۔۔سنن تر مذی :


ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
ان احادیث سے ثابت ہے کہ معاشرے میں بہت سی برائیاں ایسی ہیں جو زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے جنم لیتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام زبان کے بہتر استعمال کا حکم دیتا ہے اور ان برائیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی روک دینا چاہتا ہے جو زبان کے غلط استعمال سے پیدا ہوں ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ کسی کی جاسوسی کرکے اس کے عیب کو بیان کرنا کسی کو کس حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ تو اس کی مثالیں ہمارے معاشرے میں بھری پڑی ہیں ۔جب کسی کے عیب بیان کیے جاتے ہیں لوگ اس پر شک کرنے لگتے ہیں ۔اس طرح کسی بھی شخص کا کردار کسی دوسرے کے چند بولوں کی وجہ سے داغدار ہو جاتاہے ۔
آج کل ہمارے معاشرے میں یہ رویہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ لوگ اپنے کام سے کام رکھنے کی بجائے لوگ زیادہ تردوسروں کی ٹوھ میں رہتے ہیں ۔چاہے وہ ہمارے دفاتر ہوں ، گھر ، گلی محلہ ، میڈیا ہو ، سیاست کا میدان ہو یا ایوانِ پارلیمنٹ ہر جگہ یہ رویہ عام ہوتا جا رہا ہے ۔ہمارے معاشرے کا عام طبقہ تو ایک طرف قومی اسمبلی میں بیٹھے ہو ئے ارکان بھی ایک دوسرے کی ذاتیات پر بیان بازی کرتے نظر آتے ہیں ۔بجائے اس کے لوگ اپنی ذات کو سنوارنے یا اپنے آپ میں موجود خامیوں کو دور کریں لوگوں کی توجہ اس بات پر رہتی ہے کہ کوئی دوسرا کیا کر رہا ہے ؟ کیا بول رہا ہے ؟ کس کو کیا کرنا چاہیے ؟ کس کو کیا نہیں کرنا چاہیے ؟اور کس کو اپنے حق میں کس طرح سے استعمال کیا جانا چاہیے ۔ دوسروں کی ٹوہ لینا ، یہ جاننے کی کوشش کہ دوسرے کیا کر رہے ہیں لوگ اس میں بے تحاشہ دلچسپی لیتے ہیں ۔ اس کی سب سے نمایاں مثال معاشرتی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک ہے جس کے مالک مارک زبر برگ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ معاشرے میں عام لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ وہ خود سے زیادہ دوسروں کے حالات میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اسی فلسفے کے تحت یہ ویب سائٹ بنائی گئی اور آج یہ ویب سائٹ دنیا کی مشہور ترین ویب سائٹ ہے ۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسروں کی ٹوہ کیوں لی جاتی ہے ؟؟ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں ۔ ایک تو یہ کہ جو لوگ معاشرے میں اپنی محنت یا اپنی خوش اخلاقی کے باعث کوئی بہتر مقام حاصل کر لے تو اسے کسی طرح ( چاہے اس کی ذاتیات میں دخل دے کر یا اس کی ذاتی خامیوں کو تلاش کرکے انھیں زبانِ زدِعام کرکے اسے ) بدنامی کا شکار کر دیا جائے ۔ اس طرح اس کی عزت و توقیر میں از خود کمی آ جائے گی ۔ اس نے جو مقام حاصل کیا ہے اس مقام سے اس کو گرا دیا جائے ۔ یہ ان لوگو ں کا وطیرہ ہے جو خود اتنی محنت نہیں کر سکتے یا خوش اخلاقی کا مظاہر ہ کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے ۔ یہ لوگ اپنے حسد کی وجہ سے دوسروں کی عزت میں کمی کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں ۔ اس کے لیے چاہیے انھیں تہمت لگانا پڑے یا پھر دوسرے شخص کی کوئی کمزوری پکڑ کر اس کا مذاق اڑانے کی کوشش کی جائے ۔اس طرح کا رویہ زیادہ تر سیاست اور میڈیا میں دیکھنے میں آتا ہے جہاں لوگوں کے کام کی بجائے سیاسی کارکنان اور دوسرے لوگوں کی ذاتیات پر تنقید کرکے انھیں عوام کی نظروں میں گرا دیا جاتا ہے ۔یہ شہرت حاصل


کرنے کا ایک بدترین ذریعہ بھی ہے ۔
ٹوہ لینے کی دوسری بڑی وجہ لوگوں کے اپنے اندر کوئی کمی، کوتاہی ہوتی ہے یاوہ کسی احساسِ جرم میں مبتلا ہے جس کی بنیاد پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی کوتاہی دوسرا شخص بھی کر رہا ہو گا ۔وہ اپنا غلط رویہ ، اپنا احساسِ جرم دوسروں کی ذات میں ڈھونڈنے لگتے ہیں ۔ دوسروں کی ذات پر زیادہ سے زیادہ بات کی جاتی ہے ۔ حالانکہ اگر اپنے کام سے کام رکھا جائے اور دوسروں کا احترام کیا جائے تو معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم ہی نہ لیں ۔کیونکہ باہر حال ایک انسان کی ترقی دوسرے انسان کی تنزلی سے مشروط نہیں ہے بلکہ کسی کو نقصا ن پہنچائے بغیر بھی ترقی کے زینے طے کیے جا سکتے ہیں ۔
یہاں میں ایک واقعہ کا ذکر کرتی چلوں ۔ ایک سکول میں استاد نے تختہ ء سیاہ پر ایک متوازی لکیر کھنچی اورپوچھا کہ اس لکیر کو دوسری لکیر سے کس طرح سے چھوٹا کیا جا سکتا ہے ؟
طالبہ میں سے کئی ایک نے کہا کہ اس لکیر کو ایک جانب سے مٹا دیا جائے تو یہ لکیر چھوٹی کی جاسکتی ہے ۔ کسی نے کہا کہ اس لیکر کو درمیان سے مٹا دیا جائے تو یہ دو میں تقسیم ہو کر خود بخود چھوٹی ہو جائے گی ۔
استاد نے طلبہ سے کہا : لکیر کو کہیں سے بھی مٹائے بغیر کس طرح سے چھوٹا کیا جاسکتا ہے ؟ ۔
تمام طلبہ میں سے ایک ہونہار طالب علم اپنی کرسی سے کھڑا ہو ا اوراستاد سے چاک دینے کی درخواست کی ۔ استاد نے چاک اس کے ہاتھ میں تھما دیا اور خود تختہ سیاہ سے ایک جانب ہو کر کھڑا ہو گیا ۔ وہ طالب علم چاک ہاتھ میں لیے تختہ سیاہ تک پہنچا۔اس نے پہلے سے کھنچی گئی لکیر کے بالکل متوازی اس لکیر سے کہیں بڑے سائز کی لکیر کھنچ دی ۔ اورکہنے لگا : سر اگر پہلے سے کھنچی گئی لکیر سے بڑی لکیر کھنچ دی جائے تو پہلی لکیر از خود چھوٹی ہو جائے ۔ اس واقع نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اپنی حیثیت بنانے یا اپنی عزت میں اضافہ کی خاطر ضروری نہیں کہ دوسروں کی عزت میں کمی کرنے کی کوشش کی جائے بلکہ ان سے زیادہ محنت کرکے یا دوسرے شخص سے زیادہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرکے از خود عزت اور توقیر میں اضافہ ممکن ہے ۔الغرض معاشرے میں موجود اگر شخص دوسروں پر تنقید اور تحقیق کی بجائے خود اپنے آپ کو سنوارنے لگے تو تمام معاشرہ سنور جائے ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest