بظاہر چھوٹالیکن گناہ کبیرہ -تہمت 

معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائیوں میں سے ایک برائی تہمت ہے ۔تہمت سے مراد کسی نیک شخص کے بارے میں ایسی غلط باتیں پھیلانا ہے جو اس نے نہیں کی ۔اگرچہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے لیکن ہمارا معاشرے میں ہر شخص دوسرے کو نیک یا بد قراردینے میں مصروف ہے حالانکہ گناہ و ثواب کا فیصلہ کرنے کااختیار صرف اور صرف اﷲکا ہے ۔دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا اور کسی کے بارے میں بات کرنابے حد آسان کام ہے۔۔ دن بدن یہ رویہ ہمارے معاشرے کا ایک عمومی رویہ بنتا جا رہا ہے کہ دوسروں کے عیبوں کو نہ صرف کر یدا جاتا ہے بلکہ ان کی تشہر بھی کی جاتی ہے جبکہ یہ سراسر غلط ہے۔بنا تحقیق کئے کسی بھی کے بارے میں کچھ بھی کہہ دینا ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے ۔ہم میں سے زیادہ تر کو دوسروں کے عیب کریدنے میں ملکہ حاصل ہے ۔ہرایک اپنے عیب چھپانے کی کوشش میں دوسروں کے عیبوں پر بات کرنا چاہتے ہیں۔دوسروں میں عیب نکالنا ، کسی پر انگلی اٹھانے اور تنقید کو لوگ اپنا حق سمجھنے لگے ہیں ۔چاہے جس پر انگلی اٹھائی جا رہی ہو وہ انگلی اٹھانے والے سے کہیں بہتر ہو۔ہم میں سے ہر شخص دوسروں کی اصلاح میں مصروف ہے لیکن اپنی اصلاح کرنا پسند نہیں کرتا۔دوسروں کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی اصلاح کرے
ہمارے معاشرے میں خصوصاعورتوں کو تہمت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ عورتیں خود بھی دوسری عورتوں کو تہمت کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتی ۔ کسی کے بارے میں بنا تحقیق بات کرنا سراسر گناہ ہے ۔یہ عادت لوگوں کے دلوں میں نفرت اور تعلقات میں دوری پیدا کرتی ہے ا ور اسلام اس کی شدت سے مخالفت کرتا ہے ۔قرآن پاک میں اﷲتعالیٰ عورتوں کے بارے میں حکم دیتا ہے ۔
“اے لوگو !عورتوں کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو ۔ ”
مزید ارشاد ہوتا ہے ۔”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو تم انھیں اسی کوڑے لگاؤاور کبھی ان کی گوہی قبول نہ کرؤ ۔اور یہی لوگ بدکار ہیں ۔ بے شک وہ لوگ جو ان پارسا عورتوں پر جو ( برائی کے تصور سے بھی ) بے خبر اور ناآشناہیں تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت(دونوں ) جہانوں میں ملعون ہیں اور ان کے لیے زبردست عذاب ہے ۔”( سورت :نور)
ایک حدیث نبوی ﷺکچھ یوں ہے ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا۔ “کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے ۔؟؟”صحابہ کرامؓنے عرض کیا کہ” اﷲاو راس کا رسول ﷺزیادہ جانتے ہیں ۔” آپ ﷺنے فرمایا۔” کسی کے پیٹھ پیچھے اس کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناپسند ہو تو یہ غیبت ہے ۔”ایک سائل نے عر ض کہا کہ” اگر وہ نا پسندیدہ بات اس کے اندر موجود نہ ہو پھر ؟؟” آپ نے جواب دیا۔”اگر وہ ناپسندیدہ بات اس میں ہے تو یہی بات غیبت ہے اگر وہ بات اس میں نہیں ہے تو بہتان ہے (مسلم) ”
مولانا وحید الدین خان فر ماتے ہیں ۔”جب بھی آپ کوئی بات کسی سے کہیں تو یہ سوچ کر کہیں کہ آپ کی بات سننے والے کان تک پہنچنے سے پہلے اﷲتک پہنچ رہی ہے ۔یہ احساس اگر زندہ ہو جائے تو اس کے بعد غلط کلام یا بے فائدہ کلام کا خاتمہ ہو جائے۔ ”
علامہ زرقانی (شرح موطا امام مالک ) میں ایک بڑا عجیب واقعہ لکھا ہء کہ مدینہ منورہ کے گرد و نواح میں ایک عورت فوت ہوئی اسے دوسری عورت غسل دینے لگی ، جو عورت غسل دے رہی تو اس کا ہاتھ مری ہوئی عورت کی ران پر پہنچا تو اس کی زبان سے نکل گیا۔ میری بہنو! (جو عورتیں ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ) یہ عورت آج مرگئی اس کے تو فلاں آدمی سے تعلقات تھے ۔ غسل دینے والی عورت نے جب یہ کہا تو قدرت کی طرف سے گرفت میں آگئی اس کا ران پر چمٹ گیا ، وہ کھینچتی ہاتھ مردہ کے جسم سے جدا نہ ہوتا۔ یہاں تک کہ کافی دیر ہوگئی میت کے ورثاء نے کہا ۔ بی بی جلدی غسل دو ، شام ہونے کو آئی ہے ہمیں جنازہ پڑھ کر کے اس کو دفن کرنا ۔ وہ کہنے لگی ۔ میں تمھارے مردہ کو چھوڑتی ہوں یہ مجھے نہیں چھوڑتا ۔میت کے ورثاء مسجد کے مولوی کے پاس یہ مسئلہ لے کر گئے ۔مولوی نے فتوی ٰ دیا: یاتو غسل دینے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا جائے یا مردہ کا جسم ۔ عورت اور مردہ دونوں نے ورثاء نے گوارا نہ کیا کہ عورت کا ہاتھ یا مردہ کا جسم کاٹا جائے ۔اسی طرح تین دن گزر گئے ، عورت کا ہاتھ میت کے جسم سے جدا نہ ہو ا۔گرمی کا موسم تھا تین دن بعد لاش گلنے سڑنے لگی اور یہ بات آس پاس کے دیہاتوں میں پھیلنے لگی۔ یہاں تک کہ معاملہ حضرت امام مالک ( جو کہ اس وقت مدینہ منورہ میں مقیم تھے ) کی خدمت میں پہنچا ۔امام مالک نے فرمایا :مجھے وہاں لے چلو۔ضب وہاں پہنچے ، پردے کے پیچھے سے غسل دینے والی عورت سے پوچھا : بی بی !جب تیرا ہاتھ چمٹا تو تم نے کچھ کہا تھا ۔ اس عورت نے سارا واقعہ حضرت امام مالک کے گوش گذار کیا ۔ امام مالک نے پوچھا ۔ بی بی ! جو تو نے تہمت لگائی اس کے چار چشم دید گواہ ہیں ؟ اس نے کہا ۔ نہیں ۔ فرمایا : کیا اس نے خود تیرے سامنے اقرار کیا تھا ؟ کہنے لگی نہیں ۔ انھوں نے پوچھا ۔ پھر تم نے اس مردہ پر کیوں تہمت لگائی ؟ وہ کنے لگی ۔میں نے اس لئے کہہ دیا تھا کہ وہ گھڑا اٹھا کر اس کے دروازے سے گزر رہی تھی ۔ حضرت امام مالک نے اس وقت سورت نور کی آیت ۴ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا ۔ میں وقت کا قاضی القضاۃ حکم دیتا ہوں کہ اس عورت کو اسی کوڑے لگائے جائیں ۔ جلادوں نے کوڑے لگانا شروع کئے اس کا ہاتھ اس وقت تک چمٹا رہا جب تک اسی کوڑے پورے نہ ہو گئے۔جب اسی کوڑے پورے ہوئے تو اس کا ہاتھ خود بخود مردہ سے جدا ہو گیا ۔
یہ واقعہ اگرچہ ایک غیر معروف واقعہ ہے اور اس کی سچا ہونے یا سچا نہ ہونے پر بھی اعتراز کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم اس واقع سے ثابت ہوا کہ جب ایک مردہ پر تہمت لگانے کی اتنی بڑی سزا ہے تو زندہ عورت پر تہمت لگانا کتنا بڑا گناہ ہے ۔تہمت چاہے کسی بھی صورت میں لگائی جائے اس کے لیے قرآن میں سزا مقرر ہے ۔ اور یہ سزاملزم کو ضرور ملنی چاہیے تاکہ باقی لوگ اس سے سبق سکھیں گے ۔
ہمارے معاشرے کا ایک عمومی رویہ ہے کہ جہاں بھی چند لوگ اکٹھے ہوتے ہیں وہاں کسی نہ کسی کی برائی کی جاتی ہے ۔ یہ رویہ آپ کو ہر جگہ نظر آئے گا چاہے وہ کوئی گلی محلہ ہو ، اور بات کرنے والے جاہل ہوں یا پھر کوئی دفتر ہو ، اور بات کرنے والے دنیاوی تعلیم میں اعلی ٰ و ارفع ہوں ۔ کسی کے کردار پر بات کرنے سے نہیں چوکتے ۔اور بنا تحقیق کے بات نہ صرف کر دی جاتی ہے بلکہ آگے بھی پھیلائی جاتی ہے ۔جس کی وجہ سے لوگ گرہوں میں بٹ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت کرنے لگتے ہیں ۔دلوں میں نفرتیں سر اٹھانے لگتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ دفاتر میں کام کرنے والے اور خصوصا کسی مجبوری کے تحت کا م کرنے والی خواتین اس رویے کا شکار زیادہ ہوتی ہیں ۔
کسی دانا نے کیا خوب کہاہے کہ اپنے خیالات کی حفاظت کرؤ ، یہ تمھارے الفاظ بن جاتے ہیں اور اپنے الفاظ کی حفاظت کرؤ یہ تمھارے اعمال بن جاتے ہیں ۔
بات کرتے ہوئے ہمیں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں ہمارے الفاظ ہمارے اعمال کو ضائع نہ کر دیں اور ہماری لا پرواہی میں کی گئی بات کہیں کسی کی زندگی کی تباہی کا شاخسانہ نہ بن جائے ۔کسی کے بارے میں بات کرنے اور خصوصا کسی کے کردار کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest