فیصلہ ہوتا نہیں

تجھ سے نفرت یا محبت ؟ فیصلہ ہوتا نہیں !!
اور دوری ہو یا قربت فیصلہ ہوتا نہیں !!

اسکی یادوں کو بچاوں یا دل _ دو نیم کو
کس کی ہے مجھ کو ضرورت فیصلہ ہوتا نہیں

منتظر کب تک رہوں تیری ستمگر یہ بتا
جانتی ہوں تیری عادت فیصلہ ہوتا نہیں

دسترس میں دےگی تجھکویامحبت کی سزا
ہنس رہی ہے میری قسمت فیصلہ ہوتا نہیں

گرچہ پانے کی توقع بھی نہیں ہے پر تجھے
چھوڑنے کا بے مروت فیصلہ ہوتا نہیں

آشنا ہے وہ صدف یا اجنبی ، میں کیا کہوں
چاہ کر بھی درحقیقت فیصلہ ہوتا نہیں

میمونہ صدف



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest