جلتے جسم ، سلگتی روحیں

حوا کی بیٹی کے نام
از طرف :میمونہ صدف
پنجاب اسمبلی میں حقوق نسواں کا بل پاس ہو چکا ہے ۔تاہم اس بل کا عام عورت کے مسائل یا اس کے تحفظ کے مسلئے پر خاطر خواہ فرق نہیں پڑھا ۔پاکستان میں عورت آج بھی اتنی ہی غیر محفوظ ہے جتنی کل تھی ۔عورت کے حقوق پر اگرچہ بہت بحث و مباحثہ ہوا ، بہت سی تنظیمیں ، این جی اوز بنائی گئی لیکن عام عورت کے حالات پر کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑا ۔ اس ملک کے باسیوں میں پھیلتی ایک قبیح رسم جو کہ عزت کے نام پر جان سے مار دینا ہے آج بھی اسی شدت سے جاری و ساری ہے ۔پچھلے چند دن میں ماؤں نے اپنی ان بیٹیوں کوجنھوں نے اپنی پسند سے شادی کی خاندان کی عزت کی خاطر جلا دیا ۔ لڑکیوں کو زندہ جلانے کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو کسی کو زندہ جلا دینا از خود ایک انتہائی قبیح فعل ہے ۔انسانی زندگی باہر حال ایک حیثیت رکھتی ہے او رکسی کی جان لے لینے سے خاندان کی کھوئی ہوئی عزت واپس نہیں آ سکتی ۔ عزت کے نام پرقتل یا شوہر کی وفات کے ساتھ ہی بیوی کو زندہ جلا دینا ہندؤں کے رسم ورواج کا حصہ تھا اور پہلے پہل صرف اندرونِ سندھ اوراندرونِ پنجاب تک محدود تھا لیکن آج اکیسویں صدی میں چاہے مری کے سبزہ زار ہوں ، پنجاب کے میدان ہو ں ، ایبٹ آباد کی گلیاں ہوں ، سندھ کی سرزمین ہو یا پشاور کے درودیوار ، عورت کی جان ارزاں در ارزاں ہوتی جا رہی ہے ۔ اس رسم کو کاروکاری کے نام سے جانا جاتا تھا اس رسم کا شکار زیادہ تر خواتین ہی ہوتی آئی ہیں لیکن اب یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری ہو چکا ہے ۔وجہ چاہے پسند کی شادی ہو یا بے حرمتی کا شکار ہونے کے بعد اس کو جان سے مار دیا جائیعورت



معاشرے کا ایک کمزور ترین جزو ہے ۔
اگرگذشتہ برسوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی پریشان کن حقائق سامنے آتے ہیں ۔سال ۲۰۱۱ ء میں عزت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی تعداد ۶۰۵ تھی جبکہ سال ۲۰۱۰ء میں عزت کی خاطر قتل ہونے کے ۹۶۰ واقعات پیش آئے ۔ ہیومن رائٹس کمشن کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس میں کم و بیش ۵۰۰ افراد کو عزت کے نام پر قتل کیا گیا جن میں مرد عورتیں سبھی شامل تھے اس سال عزت مئی کے مہینے ۲۳۳ کو قتل کیا گیا ۔
یہاں ایک قابلِ غور سوال یہ ہے کہ کیا اسلام پسند کی شادی کی اجازت ہے ؟ تو متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر کوئی لڑکی یا لڑکا ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو انھیں بدکاری سے بچانے کے لیے نکاح کے رشتہ میں باندھ دیا جائے اور معاشرے میں بدچلنی کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔اسلام درپردہ دوستی اور بدکاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اس کے برعکس اسلام نکاح کو پسند کرتا ہے اور یہ حکم دیتا ہے کہ اگر بدکاری کا خدشہ ہو تو ان افراد کو رشتہ ء ازواج میں جوڑ دیا جائے ۔ ہمارے معاشرے میں پسند کی شادی کو ایک گناہ تصورکیا جاتا ہے ۔ پسند کی شادی میں والدیں واضع طور پر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں جس کی بنیادی وجہ خاندانی نظام ہے ۔ہمارے یہاں متعدد خاندانوں میں ذات برادری سے باہر شادیا ں نہیں کی جاتی ۔ذات برادری سے باہر شادی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔ دوئم یہ جب ماں باپ کو پتہ چلتا ہے کہ بیٹے کو کوئی لڑکی پسند آچکی ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب تو بیٹا ہاتھ سے گیا ، اب وہ ان کا نافرمان ہو چکا ہے شادی کے بعد اچھا سلوک نہیں کرے گا اور انھیں چھوڑ دے گا ۔ ان بنیادی وجوہات کی وجہ سے کبھی لڑکی تو کبھی لڑکے کے والدین نہیں مانتے اور وہ انتہائی قدم اٹھا نے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور کورٹ میرج کر لیتے ہیں ۔ اس طرح جو کام بچوں کی خوشیوں کی خاطر ہو سکتا ہے وہ خاندان کی عزت کی نیلامی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
حال ہی میں جس لڑکی کو لاہور کے علاقہ میں جلایا گیا اس کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔ لڑکا اور لڑکی آپس میں محبت کرتے تھے ، لڑکے نے اپنے والدین کو لڑکی کے والدین کے پاس بھیجا جن کو انکار کر دیا گیا ۔ اس انکار کے بعد ان دونوں نے کورٹ میرج کر لی ۔ لڑکی کے خاندان کی یقین دہانی پر لڑکے نے لڑکی کو والدین کے پاس واپس بھیج دیا جہاں لڑکی کی والدہ نے اسے زندہ جلا دیا ۔ یہ ایک انتہائی بڑا اقدام تھا ۔یہ صرف ایک واقعہ نہیں ، حال ہی میں اس طرح کے کئی واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جن میں کورٹ میرج کرنے والے جوڑوں کو جان سے مار دیا گیا ۔ سنی اتحاد کونسل (بریلوی مکتبہ ء فکر ) لاہور نے فتوی ٰ دیا ہے کہ عزت کے نام پر کیا جانے والا قتل باہر قتل ہے اور قتل کی اسلام کسی صورت اجازت نہیں دیتا ۔اس کی سزا پھانسی ہی ہونا چاہیے ۔ مذہبی جماعتوں نے بھی عزت کے نام پر کیا جانے والے قتل کو قابل معافی ہونے کے خلاف احتجاج کی دعوت دی ہے۔ عزت کے نام پر قتل کے خلاف سینٹ میں بل پاس کیا گیا ہے ۔آئین پاکستا ن کے مطابق عزت کے نام پر قتل ، غصے میں کیا گیا اقدامِ قتل قابلِ معافی ہے اور دیت دے کر قاتل کی جان بخشی ممکن ہے جس قانون کا ہر عہد میں ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لڑکی یا دونوں کو زندہ جلا دینے یا قتل کر دینے سے خاندان کی عزت واپس آگئی ؟ یا خاندان کو جو بدنامی کا سامنا کرنا پڑا وہ سب ختم ہو گیا؟ معاشرے میں ہونے والی باتیں ختم ہو گئی ؟نہیں ۔ بلکہ جو بات لڑکی کے زندہ ہو تے ہوئے چند لوگو ں تک محدود تھی، ایک محلے یا ایک خاندان کے بیچ تھی ، وہ اس کو چلا دینے کے بعد زبانِ زد عام ہو گئی ۔ جس لڑکی کو کوئی نہیں جانتا تھا اس کو زندہ جلا دینے کے بعد اخباروں کی زینت بن گئی قاتل اور مقتو ل دونوں معاشرے میں مشہور ہو گئیں ۔بیٹی توجان سے گئی ، ماں کے انٹرویو کئی گئے ، اس کو سزا ہوئی اور اس پر کئی پروگرام بنے ۔ یعنی جو بات چند لوگوں میں تھی بڑھتے بڑھتے پورے معاشرے تک پھیل گئی ۔
اب ایک نظر ڈالئے اس مذہب اسلام پر جس کے ہم پیروکار ہیں ۔ اسلام کے ظہور سے پہلے عرب میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اور یہ دستور کئی صدیوں سے جاری تھا ۔ظہور اسلام کے بعد انھی بیٹیوں کے لیے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ اپنی چادر بچھا دیتے ہیں ۔ اور بیٹیوں کو رحمت قرار دیا جاتا ہے ۔بیٹیوں



کو زندہ دفن کرنے کی شدت سے مذمت کی گئی اور اس قبیح رسم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا لیکن آج اکیسویں صدی کے باسیوں میں پھر سے زمانہ جہالیت کے رسم و رواج پروان چڑھ رہے ہیں ۔ انسان خصوصا عورت کی جان کی قدر و قیمت بے انتہا کم ہو چکی ہے ۔ایک طرف توخواتین کے حقوق کے بل پاس ہو رہے ہیں تو دوسری جانب بیٹیوں کو جان سے مار دینا معمول بنتا جا رہا ہے ۔یہ معاشرے کا ایک عمومی رویہ ہے ۔ لوگوں میں غصہ اور ڈپریشن اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہ معاملات کو ٹھنڈے دماغ سے سلجھانے کی بجائے ، معاملات کو غصے سے سلجھاتے ہیں جس کی وجہ سے قتل جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔
واضع رہے کہ اسلام میں عزت کئے نام پر قتل کی کوئی گنجائش نہیں ۔اسلام امن کا وہ دین ہے جس میں ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل پر معمور کیا جاتا ہے ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest