Home / Home / اردو مضامین / یمن کی حالیہ صورتحال اور پاکستان کا کردار

یمن کی حالیہ صورتحال اور پاکستان کا کردار

تقریبا دو ہفتے سے یمن میں جنگ جاری ہے ۔ یمن کے حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں ۔سعودی عرب    اور ایران کے اس تنارعہ میں سب سے زیادہ نقصان یمن کا ہو رہا ہے ۔ سعودی عرب کی جانب سے اب فضائی حملوں کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے یمن میں مالی اور جانی نقصانات میں اضافہ ہوا ہے ۔تقریبا تمام ممالک کے باشندے چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم یمن سے اپنے ملکوں کو لوٹ چکے ہیں تاہم پاکستانی باشندے ابھی تک یمن میں موجود ہیں ۔ سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی امداد کی اپیل بھی کی ہے ۔اور پاکستان نے سعودی عرب کو حمایت کی یقین دھانی بھی کروائی ہے تاہم پاک فوج کو جنگ لیے بھیجا جائے گا یا نہیں اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔ پاکستان کے سعودی عرب کی حمایت کے بعد یمن میں موجود پاکستانیوں کی جانوں کو مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔یمن میں پاکستانی سفارت کار اور میڈیا کی کوششوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کی جانب سے اپنے باشندوں کو یمن سے نکالنے کے لیے ایک طیارہ اور ایک سمندری فرگیٹ بھی یمن بھیجا جا چکا ہے اورمزید طیارے ، سمندری جہاز بھیجے


جانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے ۔ یمن میں موجود پاکستانی باشندوں کی باحفاظت وطن واپسی کی کوشیشیں جاری ہیں ۔
اس جنگ میں پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے ؟ اس بارے میں بات کرنے سے پہلے اﷲ کے احکامات اور تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہو تا ہے ۔ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرواؤ اور جو صلح نہ کرے اس کے خلاف جنگ کرؤ ۔
تاریخ ہمیں کچھ یوں بتاتی ہے کہ جنگ جمل سے قبل حضرت علیؓ نے حضرت عائشہؓ کو ایک خط لکھا اور اپنی فوجوں کو روکنے کی درخواست کی تاکہ حتی ٰ المکان جنگسے بچا جا سکے لیکن بعض لوگوں نے حضرت عائشہؓ کو بڑھکایا اور جنگ پر اکسایا اور حضرت عائشہؓ نے اس درخواست کے باوجود جنگ کا ارادہ ترک نہ کیا ۔یہاں تک کہ دونوں گروہوں کا آمنا سامنا جمل کے مقام پر ہوا ۔ جب حضرت علیؓ اور ام المومینین حضرت عائشہؓ کے لشکر آمنے سامنے ہوئے اور جنگ میں کئی مسلمان ایک دوسرے کے ہاتھوں شہید ہوئے اس وقتحضرت علیؓ نے حضرت عائشہؓ کے اونٹ کی خود کونچیں کاٹ دی جس کی وجہ سے جنگ ختم ہو گئی ۔ حضرت علیؓ کے احکامات پر حضرت عائشہؓ کو باعزت طریقے سے باحفاظت مدینہ پہنچایا گیا ۔ بعد میں حضرت عائشہؓ نے حضرت علیؓ سے معافی بھی مانگی ۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو حضرت علیؓ نے جنگ ختم کرنے کی ایک احسن حکمتِ عملی اپنائی ۔اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ مسلمان اگر آپس میں جنگ کریں تو بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ اس اقدام کو روکا جائے ان میں صلح کروا دی جائے ۔تاکہ جانی اور مالی نقصان کم سے کم ہو ، کیونکہ جب دونوں جانب نعرہ ء تکبیر بلند ہو اور دونوں جانب خون مسلمان کا بہتا ہو تو صلح سے بہتر کوئی عمل نہیں ہو سکتا ۔
اگر ماضی قریب کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں اس جنگ میں پاکستان کا کردار وضع کرنے میں مزید آسانی ہو سکتی ہے ۔ ماضی قریب میں جب عراق اور ایران کی جنگ ہوئی جس میں تقریبا 20 لاکھ مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا ۔ یہ جنگ کسی طرح رکنے میں نہ آرہی تھی تو اس وقت جزل ضیاء الحق امتِ مسلمہ کے حق میں کھڑے ہوئے اور اعلیٰ بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے انھوں نے ایک وفد ایران بھیجا اور ایک وفد عراق کی جانب روانہ کیا ۔ اس طرح جزل ضیاء الحق کی بہترین حکمتِ عملی نے مزید مسلمانوں کے قتلِ عام کو روکا اور پاکستان کی بہترین سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ جنگ اختتام پزیر ہوئی ۔ ایسی جنگوں کو روکنا بہترین اقدام


ہے کیونکہ اگر دو بھائی آپس میں لڑتے ہیں تو فائدہ ان کے دشمن کا ہوتا ہے ۔
ماضی کی طرح پاکستان کا کردار آج بھی یہی ہونا چاہیے کیونکہ سعودی عرب اور ایران دونوں ہی پاکستان کے برادر مسلمان ملک ہیں ، دونوں ممالک سے پاکستان کے قریبی سفارتی تعلقات ہیں ۔مرنے والے بھی مسلمان ہیں اور مارنے والے بھی ۔پاکستان کے لیے دونوں ملکوں کی اہمیت یکساں ہے اور ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران ہمارا ایک قریبی ہمسایہ ہے اور ہماری ایران کے ساتھ کئی سو کلومیٹر لمبی سرحد مشترک ہے ۔یہ سرحد ایک محفوظ سرحد ہے جس کی جانب سے پاکستان کو کبھی خطرات کا سامنا نہیں رہا ۔سعودی عرب کی حمایت کی صورت میں ہماری یہ سرحد بھی مشرقی سرحد کی طرح غیر محفوظ ہونے کا امکان موجود ہے ۔ ان زمینی حقائق کے علاوہ دونوں ممالک پاکستان کی عالمی سطحُ پر حمایت کرتے چلے آئے ہیں ۔ اگر ایران کی جانب دیکھا جائے تو ایران وہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر تسلیم کیا ۔1965 کی پاک بھارت جنگ میں ایران نے بھارت کے خلاف پاکستان کو بے پناہ مالی اور سفارتی مدد فراہم کی۔ایران اور پاکستان کے درمیان کئی معاہدے ہو چکے ہیں اور ایران نے پاکستان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی ہے ۔اس کی سب سے بڑی مثال پاک ، ایران بھارت گیس کا منصوبہ ہے ۔ اس کے علاوہ ایران اور پاکستان کے درمیان کئی دفاعی ، اور ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ جبکہ مسلمانوں کے مقدس مقامات سعودی عرب میں ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کے لیے تمام مسلمان دلوں میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ خانہ ء کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کی حفاظت میں کھڑے ہو جانا پوری امتِ مسلمہ کے لیے مذہبی فریضہ کا درجہ رکھتا ہے ۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے 1965کی جنگ میں پاکستان کو مفت تیل فراہم کیا ، ہر مشکل وقت میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ۔ ہر مشکل صورتحال میں خام تیل اور مالی امداد کی صورت پاکستان کی امداد کرتا رہا ۔
الغرض دونوں ممالک ہی پاکستان کے برادر ملک ہیں ۔ دونوں میں بسنے والے ایک خدا اور ایک رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں ۔ دونوں جانب بہنے والا خون مسلمان کا ہے ۔بھائی ہی بھائی کا گلہ کاٹنا چاہتا ہے۔ایک طرف تو ان دونوں میں سے کسی ایک کی حمایت کرنا حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے لیے کسی طور مفید نہیں کیونکہ کسی ایک کی حمایت( چاہے وہ سعودی عرب ہو یا ایران دونوں) کی صورت میں پاکستان دوسرے دوست اور بھائی کوہمیشہ کے لیے کھو دے گا ۔جبکہ دوسری طرف پاک فوج کو اس جنگ میں جھونک دینے کی صورت میں پاکستان کو جانی اور مالی دونوں نقصان اٹھانے پڑیں گے اور ان نقصانات کے اثرات نہایت دور رس ہوں گے اور ہماری اپنی سرحدیں محفوظ نہیں رہیں گی ۔
اس وقت مناسب یہ ہے کہ جزل ضیاء الحق کی طرح وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ایک وفد سعودی عرب کی طرف روانہ کیا گیا ہے تو دوسرا وفد ایران بھیجا جائے ۔ پاکستان کی حتی المکان کوشش ہونی چاہیے کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین جاری جنگ کے خاتمہکروایا جائے ۔اس جنگ کا خاتمہ اس لیے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ اس جنگ میں تین اسلامی ملک نقصان اٹھا رہے ہیں ۔ جس کا فائدہ دشمن اٹھا سکتا ہے ۔اگر یہ جنگ بروقت نہ روکی گئی تو مزید ممالک کا بھی اس کی لپیٹ میں آجانا خدشے سے خالی نہیں ۔ اس طرح کی جنگوں سے مسلمان ممالک اپنے وسائل کو جنگ کی نذر کرکے نہ صرف مزید مالی کمزویوں کا شکار ہو جائیں گے، ان کی معاشی حالت ابتری کا شکار ہو گی بلکہ مسلمانوں کی قوت بکھر کر رہ جائے گی ۔



About admin786

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
WpCoderX